سانحہ ماڈل ٹاﺅن میں مرکزی ملزمان شریف برادران ہیں ، طاہر القادری

اسلام آباد (قدرت روزنامہ07فروری2017)پاکستان عوامی تحریک کے قائد ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے کہا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاﺅن استغاثہ کیس کے حوالے سے ہمارا بنیادی موقف اور مطالبہ سانحہ کے مرکزی ملزمان شریف برادران کو طلب کرنا ہے جو نہیں کیا گیا تاہم ان کی طلبی کے لیے اپنا قانونی حق استعمال کریں گے. بکروں کا صدقہ نہیں چلے گا امید ہے پولیس والے صولت مرزا کی طرح بے وقت نہیں بولیں گے، انہیں انصاف حاصل کرنے کے لیے بروقت بولنا ہو گا.
وکلاءسے بریفنگ لینے کے بعد فیصلے پر تفصیلی بات کروں گا . انہوں نے مرکزی رہنماﺅں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اے ٹی سی نے آئی جی سے لے کر سانحہ میں ملوث کانسٹیبل تک کو طلب کر لیا مگر غیر قانونی حکم دینے والے حکمرانوں کو طلب نہیں کیا گیا . حکمرانوں کے غیر قانونی احکامات پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کے لیے یہ کھلا پیغام ہے کہ شریف برادران نے انہیں اپنے سیاسی مفاد کیلئے استعمال کیا . انہوں نے کہا کہ شریف برادران کے غیر قانونی احکامات پر عمل کرنے والے اب بے گناہوں کو قتل کرنے کی سزا بھگتیں گے. ابھی بھی وقت ہے کہ پولیس افسران پورا سچ بول دیں اور سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے مرکزی ملزمان کے بارے میں قانون اور عوام کو آگاہ کر دیں ورنہ شریف برادران پھانسی کے پھندے پولیس والوں کے گلے میں فٹ کروانے کے حوالے سے کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے. انہوں نے کہا کہ میں نے پہلے بھی یہ کہا کہ شریف برادران کے بھیجے گئے نمائندے جن میں وزراءبھی شامل تھے اور ان کے خاندان کے افراد بھی شامل تھے، انہوں نے صرف اور صرف شریف برادران کی معافی، تلافی کے لیے درخواست کی، کسی موقع پر بھی انہوں نے سانحہ میں ملوث پولیس افسران یا اہلکاروں کو معافی دینے کی بات نہیں کی. اس لیے ہم پہلے دن سے یہ کہہ رہے ہیں کہ شریف برادران بکروں کی قربانی پر یقین رکھتے ہیں. لیکن ہم بکروں کی قربانی پر اکتفا نہیں کریں گے جب تک بکروں کی ماں کٹہرے میں نہیں آئے گی اس وقت تک قانونی، سیاسی جدوجہد جاری رہے گی اور قاتل حکمران سن لیں انصاف کے دروازے مکمل طور پر بند ہوتے ہوئے دکھائی دئیے تو پھر قصاص تحریک کے دوسرے راﺅنڈ کا اعلان ہو گا. انہوں نے مزید کہا کہ اب طلب کیے جانے والے ملزمان میں سے کئی بیمار ہوں گے، کئی فرار ہوں گے، کسی کو سٹنٹ پڑیں گے اور کوئی بچنے کیلئے ”سٹنٹ“ کرے گا.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top