قبائلی نہایت کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں :گرینڈ قبائلی جرگے

اسلام آباد(قدرت روزنامہ07فروری2017)گرینڈ قبائلی جرگے نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے کےلئے فاٹا اصلاحات پر فوری عمل درآمد کرنے اور این ایف سی ایوارڈ میں 6فیصد حصہ دینے کا مطالبہ کیا ہے ، قبائلی پارلیمینٹرین نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں فوری طور پر ضم نہ ہونے کی صورت میں 12مارچ سے احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان کیا ہے فاٹا کے 10موجودہ اور درجنوں سابقہ پارلیمینٹرین اور مشران کی سربراہی میں منعقدہ جرگے نے فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی مخالفت کرنے والے مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی پر شدید تنقید کرتے ہوئے اسے قبائلیوں کی ترقی کا دشمن قرار دیا ہے اسلام آباد کے کنونشن سنٹر میں گرینڈ قبائلی جرگے سے خطاب کرتے ہوئے قبائلی ممبران اسمبلی شہاب الدین ،شاہ جی گل افریدی،ساجد حسین طوری،حاجی نذیر خان ،سابق ممبر قومی اسمبلی منیر خان اورکزئی جماعت اسلامی فاٹا کے امیر اور سابق ایم این اے صاحبزادہ ہارون الرشید ،اے این پی کے صوبائی جنرل سیکرٹری آیاز وزیر،پی پی پی خیبر پختونخوا کے سینئر نائب صدر اخونزادہ چٹان،نثار مہمندفاٹا کی خاتون رہنما سکینہ مہمنداور معروف صحافی سلیم صافی نے کہاکہ قبائلی عوام ایف سی آر کا خاتمہ اور خیبر پختونخوا میں ضم ہونا چاہتے ہیں انہوںنے کہاکہ قبائلی تاریخ میں ایسا موقع دوبارہ نہیں آئے گا آج کے جرگے نے یہ ثابت کردیا ہے کہ قبائلی عوام نہ تو علیحدہ صوبے کے حق میں ہیں اور نہ ہی فاٹا کونسل کی حمایت کرتے ہیں مقررین نے کہاکہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی فاٹا کے عوام پر اپنی سیاست نہ کریںاور قبائلیوں کے متفقہ فیصلے کو تسلیم کریں انہوںنے کہاکہ بدقسمتی سے پاکستان کی خاطر اپنی جانوں کی قربانیاں دینے والے قبائلی نہایت کسمپرسی سے زندگی گزار رہے ہیں اور جو ظلم قبائل کے ساتھ ہورہا ہے اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی ہے مگر اتنے مظالم برداشت کرنے کے باوجود کسی قبائلی نے پاکستان مردہ باد کا نعرہ نہیں لگایا ہے انہوںنے کہاکہ آج قبائلی اپنے گھروں کو جانے کےلئے بھی اجازت طلب کرتے ہیں اور یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ قبائلی بدتہذیب اور جمہوریت سے نا اشنا ہیں اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے ہیں جہاں پر دہشت گردوں کو ٹریننگ دی جاتی ہے انہوںنے کہاکہ اب وقت آگیا ہے کہ قبائلیوں کے زخموں پر مرحم رکھا جائے اور انہیں اپنی مرضی کے مطابق خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کا موقع دیا جائے انہوںنے کہاکہ جے یوآئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور محمود خان اچکزئی آج پھر دوسروں کے ایجنڈے کو پور ا کرنے کےلئے فاٹا اصلاحات کی مخالفت کر رہے ہیں اگر انہیں قبائلیوں سے حقیقی ہمدردی ہوتی تو مخالفت نہ کرتے انہوںنے کہاکہ جس وقت پاکستان میں اقتدار کی جنگ جاری تھی اس وقت بھی قبائلی ملک کےلئے جانوں کے نذرانے پیش کر رہے تھے قبائلیوں کو ان کی مرضی کے بغیر جنگ میں دھکیلا گیااور نہ تو کسی پارلیمینٹرین سے پوچھا گیا اور نہ ہی قبائلی مشران سے مشورہ کیا گیا انہوںنے کہاکہ بیوروکریسی فاٹا اصلاحات اور خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کی مخالفت کر رہے ہیں تاکہ قبائلی عوام اسی طرح ان کے ظلم سہتے رہیں مگر اب قبائلی جاگ گئے ہیں اور سیاستدانوں کی ہر حرکت پر نظر رکھے ہوئے ہیں انہوںنے کہا کہ اگر فاٹا کے عوام کی مرضی کے خلاف فیصلہ کیا گیا تو قبائلی عوام اسلام آباد میں اپنے حقوق کےلئے اپنے بچوں سمیت دھرنا دیں گے مقررین نے کہاکہ جو سیاسی لیڈر یہ کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں فاٹا کے ضم ہونے کے حق میں کوئی پارلیمینٹرین نہیں ہے وہ آج کے جرگے کے بعد قبائلی عوام سے معافی مانگیں انہوںنے کہاکہ جو بھی قبائلی عوام کے مطالبے کی مخالفت کرے گا اس کا داخلہ فاٹا میں بند کر دیا جائے گا مقررین نے کہاکہ اگر آج بروزہ منگل کابینہ کے اجلاس میں فاٹا اصلاحات کی منظوری نہ دی گئی اور فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم ہونے کا اعلان نہ کیا گیا تو قبائلی عوام اپنے بچوں سمیت 12مارچ کو اسلام آباد میں احتجاجی دھرنا دیں..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top