وفاقی کابینہ نے ہر سیاسی جماعت پر خواتین کیلئے 5فیصد کوٹہ ، معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے اور افغان مہاجرین کو واپس بھیجنے کی منظوری دید ی

اسلام آباد (قدرت روزنامہ07فروری2017)وفاقی کابینہ نے ہر سیاسی جماعت پر خواتین کیلئے 5فیصد کوٹہ ، معذور افراد کو پوسٹل بیلٹ کے ذریعے ووٹ ڈالنے اور عام انتخابات میں ہر کلو میٹر پر پولنگ سٹیشن قائم کرنے کے منظوری دیدی.کابینہ نے متعدد ملکوں کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کی یادداشتوں کی منظوری بھی دی .

اس کے علاو ہ ملک بھر میں 250، پانچ سو اور 1000بستروں پر مشتمل ہسپتالوں کی تعمیر کی منظوری بھی دی گئی .ان سفارشات کو ایک بل کی شکل میں اگلے ماہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا.

میڈیا رپورٹس کے مطابق وزیراعظم نوازشریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان ، وزیر خزانہ اسحاق ڈار ، وزیر دفاع خواجہ آصف اور دیگر وفاقی وزراءنے شرکت کی . اجلاس میں 32نکاتی ایجنڈے پر غور کیا گیا اور وفاقی کابینہ نے انتخابی حلقہ بندیاں ہر 10سال بعد متعین کرنے کی بھی منظوری دی اور ورکنگ باﺅنڈری پر فائرنگ سے متاثر ہونے والوں کیلئے امدادجبکہ شہداءکے خاندان کو 5 لاکھ اور شدید زخمیوں کو ڈیڑھ لاکھ  امدادی رقم کی منظوری دی .

اجلاس میں افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور اس حوالے سے قابل عمل پالیسی پر بھی مشاورت کی گئی جبکہ انتخابی اصلاحات اور احتساب کمیشن سے متعلق سفارشات بھی زیر بخث آئیں .کابینہ نے اس دوران ہیلی کاپٹروں کے پرزہ جات کی خریداری اورمرمت کیلئے گرانٹ کی منظوری بھی دی . ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی کابینہ نے انتخابی اصلاحات کے ایجنڈے کی اہم شقوں کی منظوری اور غیر قانونی طور پر رہائش پزیر افغان مہاجرین کو فوری طورپر واپس بھیجنے کی بھی منظوری دی .وفاقی کابینہ نے قرار دیا کہ تمام سیاسی جماعتیں خواتین کوالیکشن امیدواربنانےکی پابندہوں گی.

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نوازشریف نے کہا کہ عوام کو صحت کی بہترین سہولیات کی فراہم کا عزم کر رکھا ہے ،سابق حکومت نے ہسپتالوں اورعوام کے علاج معالجے پرکوئی توجہ نہیں دی.مستحق افراد کو صحت کی معیاری سہولت فراہم کی جائیں گی.

اجلاس کے بعد وفاقی وزیر زاہد حامد نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ صرف پاکستان میں ہی نگران حکومت کا تصور رہ گیا ہے . اجلاس میں سیاسی جماعتوں کے اندراج سے متعلق بات ہوئی ،انتخابی نتائج پولنگ سٹیشن پر ہی مرتب کیے جائیں گے اور ہر دس سال بعد مردم شماری کے بعد نئی حلقہ بندیاں کی جائیں گی .الیکشن کمیشن شفافیت کیلئے الیکشن سے 6ماہ قبل پلان تیار کریگا اور حساس پولنگ سٹیشنز پر کیمرے نصب کیے جائیں گے . الیکشن کمیشن کو مالی اور انتظامی طور پر مستحکم بنایا جائے گا جبکہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کیلئے مخصوص فارمولا وضع کر دیا ہے. شفاف نتائج ریٹرنگ آفیسر اور الیکشن کمیشن کو بھیجے جائیں گے . 10ہزار سے کم ووٹنگ کے فرق پر موقع پر ہی ری کاﺅنٹنگ کا مطالبہ کیا جا سکے گا . ہر حلقے میں خواتین کے 10فیصد ووٹ کاسٹ کرنا ضروری ہونگے . معذور افراد کو پہلی بار بیلٹ پیپرسے ووٹ ڈالنے کا اختیار دیا ہے . انتخابی عمل میں حصہ لینے والے سٹاف سے پہلے حلف لیا جائے گا .اگلے ماہ پارلیمنٹ میں بل کی شکل میں سفارشات پیش کریں گے .

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top