بے گھر بچوں کو مردم شماری میں شامل کیا جائے گا

16

اسلام آباد(قدرت روزنامہ04فروري2017)حکومت آئندہ ماہ ہونے والی مردم شماری میں یتیم اور بے گھر بچوں کو بھی شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے.

قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران ایم این اے بیگم طاہرہ بخاری نے مردم شماری اور اس کی تیاریوں سے متعلق کئی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ مردم شماری کی مشق نیشنل ڈیٹا بیس رجسٹریشن اتھارٹی ( نادرا) کے ریکارڈ کی بنیاد پر کی جارہی ہیں اور صرف قومی شناختی کارڈ رکھنے اور نادرا میں رجسٹرڈ بچوں کو ہی اس میں شمار کیا جائے گا.

ان کا کہنا تھا کہ جو نادرا میں رجسٹرڈ نہیں ہوگا، اسے مردم شماری میں شامل نہیں کیا جائے گا.

ایم این اے طاہرہ بخاری نے بتایا کہ سیکڑوں بچے ملک کے یتیم خانوں اور ایس او ایس ولیجز میں رہتے ہیں، جو نادرا میں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور انہیں پاکستانی نہیں سمجھا جاتا.

ان کے مطابق یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ بہت سارے لوگوں کو عرصے سے اپنے بچوں کو نادرا میں رجسٹرڈ کرانے کا موقع نہیں ملا، انہوں نے مزید کہا کہ یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ہزاروں یتیم بچے نادرا میں رجسٹرڈ نہیں ہیں اور وہ ملک میں 19 سال بعد ہونے والی مردم شماری کا حصہ نہیں ہوں گے.

پارلیمانی سیکریٹری برائے خزانہ رانا افضال نے ایوان کو بتایا کہ طاہرہ بخاری نے یتیم اور بے گھر بچوں سے متعلق نہایت معقول سوالات اٹھائے ہیں اور حکومت ان بچوں کو مردم شماری میں شامل کرنے کے اقدامات اٹھا رہی ہے، تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کہ کس طرح ان بچوں کو مردم شماری میں شامل کیا جائے گا.

طاہرہ بخاری نے تحریری طور پر سوال کیا تھا کہ کیا 15 مارچ کو شروع ہونے والی مردم شماری کے لیے تمام انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں؟

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مردم شماری, مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے 16 دسمبر 2016 کو منظور کی گئی تاریخ 15 مارچ 2017 سے شروع ہوگی، جو 2 ماہ میں مکمل کر لی جائے گی.

انہوں نے کہا کہ شماریات ڈویژن کے ذیلی محکمے پاکستان شماریات بیورو نے اس حوالے سے سرگرمیوں کا آغاز کردیا ہے اور وہ وفاقی و صوبائی حکومتوں، وزارت داخلہ، خزانہ اور دفاع سمیت جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) اور نادرا سے رابطے میں ہے.

اسحاق ڈار کے مطابق صوبائی چیف سیکریٹریز کو ان کی حکومتوں کی جانب سے درکار مدد کے حوالے بریف کرنے کے لیے بھی اجلاسوں کا انعقاد کیا گیا تھا.

ایوان کو بتایا گیا کہ صوبائی مردم شماری کمشنرز کو مقرر کردیا گیا ہے جب کہ مردم شماری کے لیے 14 ارب 50 کروڑ روپے کے فنڈز بھی مختص کردیئے گئے ہیں.

وفاقی وزیر نے ایوان کو بتایا کہ مردم شماری میں ایک فرد کے ساتھ ایک فوجی اہلکار کی تعیناتی کے حوالے سے فوج سے کئی ملاقاتیں ہوئیں اور آرمی نے مطلوبہ اہلکاروں کی فراہمی کا یقین دلایا ہے.

ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے ایک فہرست تیار کرکے بھرپور انداز میں اس کی پیروی کی جارہی ہے، جب کہ ڈویژنل اور ضلعی مردم شماری کو آرڈینیٹرز، ضلعی اور حد بندی کمشنرز کی تعیناتی کے لیے بھی افسران کو مطلع کردیا گیا ہے.

وفاقی وزیر خزانہ نے مزید بتایا کہ مردم شماری کے عملے کی تعیناتی کا عمل مکمل ہوچکا ہے، جب کہ مردم شماری میں کام آنے والے سامان کی صوبائی، علاقائی اور فیلڈ دفاتر کو فراہمی کردی گئی ہے.

اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ مردم شماری کی تیاریاں تقریباً مکمل ہوچکی ہیں اور صوبوں کو مستقل بنیادوں پر مردم شماری کو کامیاب بنانے کے لیے مدد کرنے کی درخواست کی جارہی ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top