مشتاق رئیسانی نے کیا پیشکش کی کہ پلی بارگیننگ کرلی؟ سپریم کورٹ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ02فروري2017)سپریم کورٹ نے کہا کہ مشتاق رئیسانی نے ایسی کیا پیش کش کی تھی کہ نیب نے پلی بارگیننگ کرلی ، ہم اس معاملے کو پلی بارگین نہیں، بارگین کہتے ہیں اور یہ تو چیئرمین نیب کے خلاف کارروائی کے لیے موزوں کیس بنتا ہے. عدالت نے نیب سے چھاپے کی ویڈیو اور تفصیلی جواب بھی طلب کرلیا.

خالد لانگو کی درخواست ضمانت پرسماعت جسٹس دوست محمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کی.

دوران سماعت عدالت نے چیئرمین نیب پر برہمی کا اظہار کیا .جسٹس فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیے کہ چیئرمین نیب کے خلاف کارروائی کےلیے یہ موزوں کیس بنتا ہے .

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ وضاحت کریں کہ کس قانون کے تحت پلی بارگین کی،سپریم کورٹ میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں پلی بارگین کی کوئی معقول وجہ نہیں سامنے آ سکی.اس معاملے کو ہم پلی بارگین نہیں بارگین کہتے ہیں. ملزم کی جانب آپ کا اتنا جھکاو ٔکیوں ہے ؟ شرمائیں نہیں کھل کر بتائیں کہ تحویل میں لئے گئے دو گھروں کی کتنی قیمت تھی ؟

چیئرمین نیب نے عدالت کو بتایا کہ مشتاق رئیسانی سے دو گھر، پینسٹھ کروڑ اور ساڑھے تین کلو سونا برآمد ہوا .

جسٹس فائزعیسیٰ بولے کہ یہ مشتاق رئیسانی کی ذاتی کمائی نہیں تھی لوگوں کہ ٹیکس کا پیسہ تھا، اتنا سچ تو ملزم نے خود بھی بولاہے،یہ کیسے پتا چلے گا کہ اصل رقم کتنی تھی؟

عدالت نے نیب سے چھاپے کی ویڈیو اور تفصیلی جواب مانگ لیا.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top