ایس ایم ایز سیکٹر کیلئے آئندہ بجٹ میں فنڈز بڑھانے کی تجویز حکومت کو بھجوائی جائیگی ، سینیٹر ہدایت اللہ

اسلام آباد (قدرت روزنامہ01فروري2017)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے صنعت و پیداوار کے چیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا ہے کہ ایس ایم ایز سیکٹر کیلئے آئندہ بجٹ میں فنڈز بڑھانے کی تجویز حکومت کو بھجوائی جائیگی ، سمیڈا چھوٹے و درمیانے درجے سمیت دیگر کاروباری افراد کو بھی اپنے دائرہ کار میں لائے، سی پیک منصوبہ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کیلئے جدید ٹیکنالوجی کی حامل صنعتیں لگانے کی ضرورت ہے.

تفصیلات کے مطابق انہوں نے منگل کو سمیڈا کے دفتر میں منعقدہ کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کیا تھا .

اجلاس میں صنعتوں کی اپ گریڈیشن، ویلیو ایڈیشن، پاکستان انڈسٹریل کارپوریشن کے اثاثوں اور موجود گاڑیوں کی تفصیل‘ سمیڈا کے صوبائی دفاترکی ورکنگ‘ کارکردگی اور ملک میں ان کے جاری منصوبوں سمیت دیگر امور زیر بحث آئے.اجلاس میں سمیڈا کی طرف سے کمیٹی کو سمیڈا کے منصوبوں‘ ہیومن ریسورس ڈویلپمنٹ‘ ریسرچ‘ پالیسی‘ پلاننگ‘ ایس ایم ایز ڈویلپمنٹ پراجیکٹس‘ انڈسٹری کوسپورٹ‘ پیداوار اور پاکستان انڈسٹریل ڈویلپمنٹ کے زیر اہتمام پورے ملک میں اپنے دفاتر‘ زیر استعمال اثاثوں جن میں موجود گاڑیوں اور نیلام کی گئی گاڑیوں کی تفصیل سمیت دیگر شعبوں کی کارکردگی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی. قائمہ کمیٹی کےچیئرمین سینیٹر ہدایت اللہ خان نے کہا کہ بلوچستان جیسے پسماندہ علاقوں کی ترقی خواتین کو آگے لائے بغیر ممکن نہیں، بلوچستان کی غربت دور کرنے کیلئے ایس ایم ایزاپناکردار اداکرے اور ان کو ایک پلیٹ فارم فراہم کیاجائے. انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سمیڈا صنعتوں کی اپ گریڈیشن اور ویلیو ایڈیشن کیلئے بھرپور کردار اداکرے‘ بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں ماربل انڈسٹری کوترقی دینے کی اشد ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ سی پیک کے تحت لگنے والی صنعتوں سمیت دوسرے منصوبوں میں موجودہ صنعت ویلیو ایڈیشن اور اپ گریڈیشن کے بغیر مقابلہ کی اہلیت نہیں رکھتی. سینیٹر ہدایت اللہ نے کہا کہ صنعتوں کی اپ گریڈیشن اور ویلیو ایڈیشن انتہائی ضروری ہے، سی پیک منصوبہ گیم چینجر ثابت ہو سکتا ہے بشرطیکہ ہم چین سمیت دنیا کے دیگر ممالک کی طرح جدید ٹیکنالوجی سے لیس صنعتیں لگائیں، اگر ہمارے پاس پرانی ٹیکنالوجی کی حامل صنعتیں ہونگی تو ہم دوسرے ممالک کی کوالٹی اور بہتر پیداوار کا مقابلہ نہیں کرسکیں گے کیونکہ زیادہ پیداوار سے لاگت کم ہو جاتی ہے.انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں ایس ایم ایز سیکٹر کیلئے فنڈز بڑھانے کی تجویز بھی حکومت کو بھجوائی جائیگی تاکہ ایس ایم ایز سیکٹر کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دیا جاسکے.انہوں نے کہا کہ سمیڈا کشمیر‘ گلگت بلتستان اور فاٹا میں بھی اپنے دفاتر کھولے تاکہ وہاں کے لوگوں کو سہولیات میسر آسکیں. انہوں نے امید ظاہر کی کہ سمیڈا ایس ایم ایز سیکٹر سمیت دیگر افراد کو زیادہ سے زیادہ آگاہی فراہم کرنے اور چھوٹے کاروبار والوں کو ملک سے باہر لیکر جانے میں اپنا کردار ادا کریگا. کمیٹی کے چیئرمین نے کہا کہ سمیڈا نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری افراد کو اپنے پاؤں پرکھڑا کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ کچھ لوگ رہ جاتے ہیں ان کو بھی دائرہ کار میں لانے کی ضرورت ہے. اس موقع پر کمیٹی کی ممبر سینیٹر خالدہ پروین نے کہا کہ بلوچستان میں خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ماہی پروری کا کام کر رہی ہیں‘ سمیڈا ان افراد کیلئے پلیٹ فارم فراہم کرنے میں اپنا کردار ادا کرے. انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں نایاب قالین بھی بنائے جارہے ہیں جس کیلئے قالین انڈسٹری کو فروغ دینے کرنے کی ضرورت ہے. انہوں نے کہا کہ کوسٹل بیلٹ پر ٹورازم کو بھی ترقی ملنی چاہئے تاکہ سی پیک کے تحت لگائی جانیوالی صنعتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جاسکے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top