مشال خان ،عبداللہ اور زبیر کے نظریات سے اختلاف تھا، مرکزی ملزم وجاہت

مردان (قدرت روزنامہ18-اپریل-2017)مشال خان، عبداللہ اور زبیر کے نظریات سے اختلاف تھا . سیکیورٹی انچارج کے بھڑکانے پر سب مشتعل ہوگئے .مرکزی ملزم وجاہت خان نے پولیس کو بیان میں اعتراف کیا . مشال قتل کیس کے مرکزی ملزم وجاہت خان کا کہنا ہے کہ اسے مشال کے نظریات سے اختلاف تھا. اکثر تکرار ہوتی تھی .عبداللہ اور زبیر ،مشال کےہم خیال تھے . چیئرمین کے دفتر میں مشال کے خلاف بیان دیکر لوگوں کو مشتعل کیا .

واقعے کے روز مدثر بشیر نے چیئرمین کے دفتر بلایا جہاں لیکچرارز ضیا اللہ ہمدرد ، پیر اسفند یار ، انیس ، سپرنٹنڈنٹ ارشد ، کلرک سعید اور ادریس سمیت 20 افراد موجود تھے . مدثر بشیر نے مشعال خان کی توہین آمیز گفتگو کا گواہ بننے کا کہا . کلرک ادریس نے کہا ہمیں یونیورسٹی میں کمیونسٹ نہیں چاہیئے . سیکورٹی انچارج بلال بخش نے مشعال کے حمایتیوں کےخلاف کارروائی کی دھمکی دی اور کہا وہ مشال خان کوقتل کر دے گا . سیکیورٹی انچارج کی بات سنتے ہی سب مشتعل ہو گئے اور پھر دفتر میں موجود تمام لوگ ہاسٹل کی طرف گئے جہاں پہلے عبداللہ کو مارا اور بعد میں مشال خان کو تشدد کر کے قتل کر دیا . ملزم وجاہت خان نے مشال کے قتل کی ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد کر دی اور کہا کہ انتظامیہ کو خود ایکشن لینے کے بجائے پولیس کو مطلع کرنا چاہیئے تھا . آئی جی خیبرپختونخوا صلاح الدین محسود کا کہنا ہے جامعہ کی فیکلٹی کا کام انکوائری کرنا نہیں تھا پولیس کو اطلاع دی جانی چاہیے تھی . آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا مشال خان پر عائد الزامات کے حوالے سے ابھی کوئی شواہد نہیں ملے.صلاح الدین محسود کا کہنا ہے جامعہ کی فیکلٹی کا کام انکوائری کرنا نہیں تھا پولیس کو اطلاع دی جانی چاہیے تھی . آئی جی خیبرپختونخوا کا کہنا تھا مشال خان پر عائد الزامات کے حوالے سے ابھی کوئی شواہد نہیں ملے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top