مشال خان کے دوست نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید

پشاور(قدرت روزنامہ17-اپریل-2017) مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں توہین مذہب کے الزام میں قتل کئے جانے والے نوجوان مشال خان کے دوست نے اپنے اوپر لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے.مشال خان کے دوست عبداللہ نے عدالت میں اپنا بیان ریکارڈ کرا دیا ہے جس میں اس نے اپنے اوپر لگنے والے توہین آمیز کلمات کے حوالے سے لگنے والے الزامات کی سختی سے تردید کر دی ہے.

عبداللہ نے کہاکہ مجھے دوستوں نے فون کر کے گھر سے بلایا اور جب یونیورسٹی پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ مجھ پر توہین آمیز کلمات کا الزام ہے، مجھے چیئرمین کے کمرے میں بند کیا گیا، میں نے کلمہ پڑھ کر سنایا تو مجھے کہا گیا کہ مشال کے خلاف گواہی دو کہ اس نے توہین آمیز کلمات ادا کئے ہیں لیکن میں نے ایسا کرنے سے انکار کردیا جس پر مجھے اساتذہ کی موجودگی میں ایک واش روم میں بند کر دیا گیا، میں سمجھا کہ اساتذہ نے مجھے بچانے کے لئے یہ اقدام اٹھایا ہے تاہم تھوڑی دیر پر ایک مشتعل ہجوم واش روم میں گھس آیا اور مجھ پر تشدد شروع کر دیا گیا، پولیس اہلکاروں نے مجھے مشتمل ہجوم سے بچا کر اسپتال منتقل کیا.عبداللہ کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مشال خان انتہائی ذہین اور ہونہار طالبعلم تھا اور اسے انگریزی پر عبور حاصل تھا، میری مشال سے گزشتہ 2 ماہ سے گہری دوستی تھی اور اس کے منہ سے کبھی توہین آمیز گفتگو نہیں سنی. عبداللہ نے کہا کہ مشال اکثر یونیورسٹی انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف بھی آواز اٹھاتا رہتا تھا جس کی وجہ سے شبہ ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ بھی اس معاملے میں ملوث ہو سکتی ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top