مشعال نے زخمی حالت میں کلمہ پڑھا اور اسپتال لے جانے کی درخواست کی۔ عینی شاہد

ردان(قدرت روزنامہ17-اپریل-2017) مشعال خان کے قتل کے بعد عینی شاہد نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ مشعال کا کمرہ اوپر کے فلور پر تھا اسی لیے ہم مشعال خان پر فائرنگ کرنے والوں کو نہیں دیکھ سکے. مشعال کے دوست نے کہا کہ میں مشعال پر حملہ کرنے والوں کو نہیں جانتا.

حملہ آور کہاں سے آئے تھے مجھے یہ بھی نہیں معلوم.مشعال کے دوست نے بتایا کہ مشعال فائرنگ کے بعد زخمی حالت میں سیڑھیوں پر گر گیا تھا اور اس نے پانی مانگا تھا .پانی مانگنے کے بعد مشعال نے کلمہ پڑھا اور کہا مجھے اسپتال لے جاؤ. اتنے میں ہاسٹل کے وارڈن نے آکر مشعال خان کو اٹھایا اور اسٹریچر پر ڈالا تب ہی ایک طالبعلم نے آ کر بتایا کہ ایک بڑا ہجوم مشعال خان کو مارنے آ رہا ہے، آپ اس کو بچا لیں. وارڈن نے ہاسٹل کا دروازہ بند کر دیا تھا لیکن ہجوم میں ایک بڑی تعداد میں لوگ شامل تھے جنہوں نے دروازہ توڑ دیا. مشعال کے دوست نے مزید کیا کہا آپ بھی ملاحظہ کیجئیے:..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top