مشال خان حضور پاک ﷺ اور حضرت عمرؓ کانام کس طرح لیتا تھا؟

مردان (قدرت روزنامہ16-اپریل-2017)مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں مبینہ طور پر توہین مذہب کے الزام میں قتل ہونے والے طالبعلم مشال خان کے والد اقبال جان نے کہا ہے کہ ان کا بیٹا بہت ہی صابر شخصیت کا مالک تھا ٗ کتابوں اور قلم سے لگاؤ تھا.نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوںنے کہاکہ مشال ایک بہت ہی اچھا طالب علم تھا اور وہ پورے دن میں 16 گھنٹے اپنی تعلیمی سرگرمیوں کو دیتا تھاکیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ تعلیم ہی وہ واحد چیز ہے جو انسان کو غلط راستوں پر جانے سے روک سکتی ہے.

مشال کے والد نے بتایا کہ ان کے بیٹے کا تعلیم سے لگاؤ اس قدر تھا کہ وہ اس کیلئے روس بھی گیا، جبکہ وہاں سے آکر اْس نے صحافت کے شعبے کو اختیار کیا.انھوں نے کہا کہ میرے بیٹے پر جو الزام عائد کیا گیا وہ 100 فیصد غلط ہے کیونکہ وہ ایسا شخص تھا جو نظام پر بات کرتے ہوئے پیغمبر ؐ اور حضرت عمرؓکا حوالے دیا کرتا تھا.انہوںنے کہاکہ مشال کو ادب اور شاعری سے بھی کافی لگاؤ تھا جبکہ وہ ایک امن پسند انسان تھا جس نے کبھی کسی کیلئے برا نہیں سوچا.اقبال جان نے کہا کہ میرے بیٹے کو بہت ہی بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا تاہم وہ ہمیشہ زندہ رہے گا، کیونکہ وہ سچائی کا علم بردار تھا اور ہمیشہ انسانیت کی بات کیا کرتا تھا.انہوںنے کہاکہ جو کھیل اس کی یونیورسٹی میں کھیلا گیا اور اس پر الزام عائد کیا گیا وہ خود بھی اس بارے میں پہلے سے نہیں جانتا تھا کیونکہ آج تک اس نے ایسے کسی مسئلے کا مجھ سے تذکرہ نہیں کیا تھا.انھوں نے کہا کہ اگر اس نے کسی جگہ پر کسی چیز کو درست کرنے کی بات کی تو وہ کوئی گناہ نہیں کیونکہ اس کا حق ہر ایک کو ہوتا ہے.اقبال جان نے کہا کہ وہ ہمیشہ انسانیت اور اپنے ملک کیلئے کام کرنا چاہتا تھا اور جب سے وہ روس سے آیا تھا اْس نے یہی ارادہ کررکھا تھا.اس سوال پر کہ کیا اس واقعہ کے بعد سے علاقے میں آپ کو کسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے ؟ تو ان کا کہناتھا کہ ابھی تک تو کوئی مسئلہ پیش نہیں آیاکیونکہ یہاں سول سوسائٹی اور سیاستدان بھی آرہے ہیں جو اس واقعہ کے خلاف مظاہرے بھی کررہے ہیں.اقبال جان نے کہا کہ یہ ہمارے معاشرے کا وہ مسئلہ ہے جس کو مذمت یا مظاہروں سے حل نہیں کیا جاسکتالہذا حکومت اورسول سوسائٹی مل کر کچھ ایسے اقدامات کرے تاکہ مستقبل میں کسی اور طالب علم کے ساتھ ایسا نہ ہوسکے.انھوں نے اپنے بیٹے کی قتل پر جوڈیشل انکوائری کرنے اور سپریم کورٹ کی جانب سے نوٹس لینے کو خوش آئند قرار دیا حکومت پر زور دیا کہ وہ کچھ ایسا کرے تاکہ انہیں انصاف مل سکے.اقبال جان نے کہا کہ اگرچہ میرا مشال اس دنیا سے رخصت ہوچکا ہے، لیکن میں اسی لیے دل برداشتہ نہیں ہوں، کیونکہ میرے ملک کے ہر گھر میں ایک مشال موجود ہے اور ہمیں اس معاشرے سے اس طرح کے واقعات کو ختم کرکے پیار و محبت کی فضا پیدا کرنی ہے.جب مشال کے والد سے پوچھا گیا کہ موجودہ حالات میں معاشرے میں پھیلی اس عدم برادشت اور انتہا پسند سوچ کا ہم کس طرح مقابلہ کرسکتے ہیں تو مشال خان کے والد نے کہا کہ یہ مسئلہ جنرل ضیاء الحق کے زمانے سے چلتا آرہا ہے، لہذا ہمیں اس کے لیے نصاب میں سے اْس زہر کو نکال پھینکنا ہوگا جو لوگوں میں نفرت پیدا کرتا ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top