بلاک شناختی کارڈ 18 اپریل تک بحال نہ ہوئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کر دیا جائیگا۔ اسفندیار ولی

پشاور(آن لائن)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے مطالبہ کیا ہے کہ 1977 اور 1978 سے قبل بننے والے شناختی کارڈ فوری طور پر بحال کیے جائیں اور 18 اپریل بروز منگل تک باقی ساڑھے چار لاکھ سے زائد شناختی کارڈ بحال نہ کیے گئے تو عوامی نیشنل پارٹی کی مرکزی و صوبائی کابینہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شریک ہو جائیگی. ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے پی کے 4 لنڈی ارباب میں ایک شمولیتی جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر اہم سیاسی رہنماارباب کمال خان نے اپنے خاندان اور دیگر ساتھیوں سے سمیت اے این پی میں شمولیت کا اعلان کیا. اسفندیار ولی خان نے پارٹی میں شامل ہونے والوں کو مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اہم سیاسی شخصیات کی آئے روز اے این پی میں شمولیت اس بات کا ثبوت ہے کہ اب لوگ حقیقی معنوں میں باچا خانی چاہتے ہیں. اپنے خطاب میں اُنہوں نے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پختونوں کو اپنے ذاتی مفادات کیلئے جہاد کے نام پر آپ نے استعمال کیا اور اپنا کام ہونے کے بعد اُنہی پختونوں کو سزا کے طور پر اُن سے ملک کی شہریت چھین لی. اُنہوں نے کہا کہ اے این پی کا احتجاج مرحلہ وار اُس وقت تک جاری رہے گا جب تک ساڑھے چار لاکھ پختونوں کے ہاتھوں میں شناختی کارڈ نہیں ہونگے . اُنہوں نے کہا کہ سی پیک اور فاٹا پر ہمارے ساتھ کیے تمام وعدے دھرے کے دھرے کے رہ گئے اور پختونوں کی یہ بدقسمتی ہے کہ جب ہم انگریز کی کھینچی گئی لکیر کو مٹانے کی بات کرتے ہیں تو خود کو پختونوں کے حقوق کا علمبردار کہنے والے چند قوم پرست رہنما ہماری مخالفت میں سامنے آئے. اُنہوں نے کہا کہ فاٹا اور پختونخوا کے درمیان لکیر ہم ختم کرینگے اور اگلا ہدف جنوبی اور شمالی پختونخوا کا لفظ ختم کرنا ہے. اُنہوں نے کہا کہ تمام پختون ایک ہیں اور سب کو ایک ہی چھتری کے نیچے جمع ہونا ہوگا. پاک افغان کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے اسفند یار ولی خان نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ شروع ہونے والے مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ پر امن اور مترقی افغانستان کے بغیر پر امن اور مترقی پاکستان کا تصور ہی ممکن نہیں ہے ، تمام مسائل مذاکرات کے ذریعے ہی حل کئے جا سکتے ہیں ، جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں،اور مملکت پاکستان نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو دونوں ممالک کو شام بننے سے کوئی نہیں روک سکے گا، اپنے خطاب میں انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات کی بہتری تک خطے میں امن کے قیام کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ،انہوں نے کہا کہ ماسکو میں روس ، چین اور پاکستان کی طرف سے افغانستان کے امن کیلءئے بات چیت کسی صورت کامیاب نہیں ہے ، اُنہوں نے تجویز پیش کی کہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کیلئے چین ضامن کا کردار ادا کرے اور وہ فیصلہ کرے کہ خلاف ورزی کس جانب سے ہو رہی ہے. اُنہوں نے کہا کہ باڑھ لگانا دہشتگردی کی روک تھام کا حل نہیں. اُنہوں نے کہا کہ اپریشن سے ملک میں جاری سازش کا خاتمہ تو کیا جاسکتا ہے تاہم ان آپریشنز کے نتیجے میں تخریب کاری کا خاتمہ ممکن نہیں. اُنہوں نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد تمام جماعتیں بیس نکاتی متفقہ دستاویز نیشنل ایکشن پلان پر متفق ہوئیں لیکن اُس وقت کسی بھی صوبے میں من و عن عمل درآمد نہیں کیا گیا.اُنہوں نے اس امر پر حیرت کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کے وزیر نے برملا کہا کہ تمام کرپشن وزیر اعلیٰ نے خود کی ہے لیکن کپتان کو سانپ سونگھ گیا ہے ،اسی طرح سپیکر پر لگائے گئے الزامات پر عمران خان نے خاموشی کے ساتھ انہیں بے گناہ قرار دیا ہے لگتا ہے کپتان تمام کرپشن زدہ کو بنی گالہ میں ڈرائی کلین کر کے کلین چٹ دے رہے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top