سراج الحق نے نیب آرڈیننس ترامیم کے حوالے سے صدارتی آرڈنینس مسترد، عدالتوں کیخلاف سازش قرار دیا

چارسدہ(آن لائن)جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی امیر سینٹر سراج الحق نے نیب آرڈیننس میں ترامیم کے حوالے سے صدارتی آرڈنینس کو مسترد کرتے ہوئے اسے عدالتوں کیخلاف سازش قرار دیا انہوں نے کہاکہ قومی دولت لوٹنے والوں سے ایک ایک پائی وصول کرینگے تحت لاہور والے بہت جلد جیل کے سلاخوں کے پیچھے ہونگے ظلم اور جبر کا نظام نہیں مانتے پلی بارگین کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ پلی بارگین کسی طرح نہیں مانتے انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی ملک میں شریعت کے نفاذ تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی . ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز اسلامی چارسدہ میں جماعت اسلامی یوتھ کے عہدیداروں کی حلف برداری تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا تقریب سے صوبائی امیر مشتاق احمد خان ، ضلعی امیر محمد ریاض خان اور دیگر نے بھی خطاب کیا.

اس موقع جے یو آئی مجلس عاملہ کے ارکان مولانا مفتی شبیر احمد،مولانا حافظ محمد حسین اور مولانا قاری حضرت عمر نے مستعفی ہوکر جماعت اسلامی میں شمولیت کا اعلان کیا امیر سینٹر سراج الحق نے کہاکہ واپڈا ٹی اینڈ ٹی ،پی آئی اے،ریلوے سمیت تمام ادارے موجودہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے تباہی کے دہانی پہنچادیا ہے یہ ظالم حکمران اپنے ہی قوم اور اس ملک کے غریبوں کے حقوق عصب کر چکے ہیں حکمرانوں نے لوٹ مار اور کرپشن کا بازار گرم کر رکھا ہے حکمرانوں سے نجات کا واحد راستہ جماعت اسلامی کا اسلامی انقلاب ہے اور بہت جلد عوام کے ہاتھ حکمرانوں کے گریبانوں پر ہونگے انہوں نے کہاکہ ملک میں بے روزگاری مہنگائی ،بھوک اور افلاس اور بدامنی حکمرانوں کی پیداکردہ ہے جماعت اسلامی ایسے نظام کو نہیں مانتے اور قوم کو اس نظام سے بغاوت کرنا چاہئے اور کہاکہ جماعت اسلامی ایک جمہوری سیاسی اسلامی جماعت ہے جس میں موروثی سیاست کا ذکر تک نہیں ہے اور الیکشن کے ذریعے مرکز سے لیکر یوسی تک کے عہدیدار منتخب ہوتے ہیں انہوں نے کہاکہ پیپلز پارٹی ،مسلم لیگ اور دیگر جماعتوں نے قوم سے کئے گئے وعدیں پورے نہیں کئے جماعت اسلامی اس ملک کے عوام کو مفت تعلیم ،صحت روزگار اور رہائش کا بندوبست کرینگے اور ملک میں اسلامی انقلاب اور شریعت کے نفاذ تک چھین سے نہیں بیٹھے گے انہوں نے کہاکہ ہماری جدوجہد کی وجہ سے صوبے کو بجلی کے حالص منافع اور دیگر حقوق ملے ،انہوں نے کہاکہ چیئرمین نیب کا تقرراپوزیشن اور حکومت کے بجائے سپریم کورٹ کے ذریعے کی جائے.انہوں نے کہاکہ اگر عدالت نے پانامہ لیکس کے حوالے سے فیصلہ نہ آیا تو ہم عوامی عدالت میں جائینگے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top