ہندو کمیونٹی کے لیے صوبے اور فاٹا کے مختلف مقامات پر شمشان گھاٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں

  (قدرت روزنامہ07-جنوری-2017)خیبر پختونخوا میں تقریباً پچاس ہزار کے قریب ہندؤ کمیونٹی رہائش پزیر ہے. جن میں اکثریت پشاور میں مقیم ہیں.

اس کے علاوہ فاٹا میں بھی ہندوؤں کی ایک اچھی خاصی تعداد زندگی کے مختلف شعبوں سے منسلک ہیں. تاہم کچھ عرصہ سے ہندو کمیونٹی کے لیے صوبے اور فاٹا کے مختلف مقامات پر شمشان گھاٹ کی سہولیات نہ ہونے کے برابر ہیں جس کی وجہ سے اب وہ اپنے مرنے والوں کو مذہبی رسومات کے برعکس یعنی جلانے کی بجائے انہیں دفنانے پر مجبور ہوچکے ہیں. پشاور میں آل پاکستان ہندؤ رائٹس کے چئیرمین اور اقلیتوں کے مرکزی رہنما ہارون سرب دیال کا کہنا ہے کہ ان کی مذہبی رسومات کے مطابق وہ اپنے مردوں کو جلانے کے بعد ان کی راکھ کو دریا میں بہاتے ہیں لیکن چونکہ یہاں شمشان گھاٹ کی سہولت نہیں اس وجہ سے وہ مجبورًا اپنی میتوں کو دفنانے پر مجبور ہیں. انھوں نے کہا کہ شمشان گھاٹ صرف پشاور میں ہی نہیں بلکہ صوبے کے دیگر اضلاع جہاں ہندوؤں کی آبادی زیادہ ہے وہاں بھی یہ سہولت نہ ہونے کے برابر ہے لہذا کئی سالوں سے ہندؤ برادری اپنی میتوں کو دفنا رہی ہے. ’آئین پاکستان کے شق 25 کے مطابق ہم تمام پاکستانی برابر کے حقوق رکھتے ہیں اور تمام اقلیتوں کےلیے قبرستان اور شمشان گھاٹ کی سہولیات فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے لیکن بدقسمتی سے نہ صرف ہندؤ بلکہ سکھوں اور مسیحی برادری کےلیے بھی اس ضمن میں کوئی سہولیات میسر نہیں.’ہاورنہارون سرب دیال کے مطابق ہندؤں اور سکھوں کےلیے اٹک کے مقام پر ایک شمشان گھاٹ بنایا گیا ہے لیکن زیادہ تر ہندؤ غریب خاندانوں سے تعلق رکھتے ہیں جس کی وجہ سے وہ پشاور سے اٹک تک ٹرانسپورٹ کا کرایہ برداشت نہیں کرسکتے. انھوں نے مزید کہا کہ پشاور کے ہندؤ پہلے اپنے مردوں کو باڑہ کے علاقے چھرا لے کر جایا کرتے تھے کیونکہ وہاں ایک شمشان گھاٹ قائم تھا لیکن امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث وہ علاقہ اب ان کے لیے بند کردیا گیا ہے. انھوں نے دعوی کیا کہ پاکستان بھر میں پہلے اقلیتوں کے لیے ہر چھوٹے بڑے شہر میں مذہبی مراکز یا عبادت گاہیں قائم تھیں لیکن بدقسمتی سے ان پر یا تو حکومت یا لینڈ مافیا کی طرف سے قبضہ کیا گیا ہے جس سے اقلیتوں کے لیے ہر طرف زمین تنگ کی جارہی ہے -ہارون سرب کے بقول ‘جس طرح قیام پاکستان کے وقت اقلیتیں اپنے حقوق کےلیے جنگ لڑ رہی تھیں، اس طرح ستر سال کے بعد ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ آج بھی یہ اپنے حقوق سے محروم اور سراپا احتجاج ہیں.’انھوں نے مزید کہا کہ ‘پاکستان کی تمام اقلیتیں سچے اور سو فیصد پاکستانی ہیں جو اس ملک پر بچوں سمیت مر مٹنے کےلیے تیار ہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے ساتھ وہ سلوک نہیں کیا جاتا جس کے ہم حقدار ہیں.’یاد رہے کہ پاکستان میں ہندؤ برادری عیسائیوں کے بعد ملک کی سب سے بڑی اقلیت سمجھی جاتی ہے. ہندوؤں کی بیشتر آبادی سندھ اور پنجاب کے اضلاع میں مقیم ہے. خیبر پختونخوا میں پشاور کے بعد ہندوؤں کی ایک بڑی تعداد کوہاٹ، بونیر، ہنگو، نوشہرہ، سوات، ڈیرہ اسمعیل خان اور بنوں کے اضلاع میں بھی رہائش پزیرہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top