2016میں حکمران حوشحال اورعوام پریشان رہے ، سراج الحق

چارسدہ ( آن لائن) جماعت اسلامی کے مرکزی امیر سراج الحق نے کہاہے کہ 2016میں حکمران حوشحال اورعوام پریشان رہے ہندوستان کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی اعلان جنگ کے مترادف ہیں اورکہا کہ 2017سپریم کورٹ اورنئے چیف جسٹس کیلئے امتحان کا سال ہیں اورکہاکہ اگر پانامہ لیکس کے حوالے سے عدالتوں نے مایوس کیا توسڑکوں اوربازاروں میں عوامی عدالتیں لگاکر احتجاج کریں گے ان خیالات کا اظہا رانہوں نے اتمانزئی میں جماعت اسلامی کے رہنماء میجر (ر)اکبر خان سے ان کے بھائی کے وفات پر تعزیت کے بعد میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ مرکزی اورصوبائی حکومتیں اپنی کارکردگی عوام کے سامنے پیش کریں انہوں نے انڈیا کی جانب سے سند ھ طاس معاہدے کے خلاف ورزی کو اعلان جنگ کے مترادف قرار دیااورکہاکہ اگر ہمارا وزیر خارجہ ہوتا تو موثر جواب دیتا انہوں نے کہاکہ کشمیری عوام پر بھارت کی طرف سے ظلم کی انتہاجاری ہیں اورکہاکہ بین الاقوامی سطح پر ہمارے حکمرانوں کی کارکردگی صفر ہیں انہوں نے کہاکہ آٹھ مہینوں سے پانامہ لیکس جیسے بڑے سکینڈل کا آج تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا اورکہاکہ پانامہ لیکس کے حوالے سے سال 2017سپریم کورٹ اورنئے چیف جسٹس کیلئے امتحان کا سال ہیں اگر عدالتوں نے پانامہ لیکس کے حوالے سے ہمیں مایوس کیا تو سڑکوں اوربازاروں میں عوامی عدالت لگاکر احتجاج کریں گے انہوں نے کہاکہ گرین کلین اوراسلامی پاکستان ہمارا منشور اورنعرہ ہیں انہوں نے چیئرمین نیب کی تقرری وزیر اعظم اوراپوزیشن لیڈر کے بجائے سپریم کورٹ سے کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ جاگیرداروں اورسرمایہ داروں نے ملک کو تباہ کیاہے اورکہاکہ وہ ذاتی طورپر فوجی عدالتوں کو مزید توسیع دینے کے حق میں نہیں ہیں امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹرسراج الحق کی صدارت میں منصورہ میں ہونے والے جماعت اسلامی کی مرکزی مجلس شورٰی کے حالیہ اجلاس میں شام میں گزشتہ پانچ سال سے جاری خوں ریزی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے بشار الاسداور اس کے حواریوں کے انسانیت سوز مظالم کی پرزور مذمت کی گئی اور کہاگیا کہ اس قتل عام کے نتیجے میں اب تک 5 لاکھ سے زائد بے گناہ شہری شہید ہوچکے ہیں. ڈیڑھ کروڑ کے قریب عوام مختلف ممالک کے مہاجر کیمپوں میں کس مپرسی کے عالم میں جی رہے ہیں.

پورا ملک کھنڈرات کے ڈھیرمیں بدل چکا ہے.قرار داد میں کہا گیاہے کہ حال ہی میں شام کے تاریخی شہر حلب پر ہونے والی اندھا دھند بمباری سے وہاں قیامت صغریٰ برپا ہے. بچے کھچے شہریوں کے انخلاء کیلئے کی گئی جنگ بندی کے اعلان کے باوجود ان کے قافلوں پر بمباری کرتے ہوئے مزید بے گناہ افراد کو قتل کردیا گیا.قرار داد میں مجلس شوریٰ نے برادر ملک ترکی میں لگاتار ہونے والے بم دھماکوں کی بھی شدید مذمت کی ہے. قرار داد میں کہا گیاہے کہ مقبوضہ فلسطین میں صہیونی مظالم بدستور جاری ہیں. قرار داد میں پوری فلسطینی قوم سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے انہیں اپنی تمام تر توانائیاں صرف ایک نقطے، بیت المقدس کی آزادی پر مرکوز کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے. جماعت اسلامی کی مجلس شوریٰ نے مصر میں گزشتہ ساڑھے تین سال سے مصر میں جاری ظلم و بربریت پر گہرے دکھ اور غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اخوان المسلمون کے 42 ہزار سے زائد کارکنان و قائدین کو پابند سلاسل کرکے سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا انسانیت کی توہین ہے. ہم تمام عالمی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مصر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا فوری نوٹس لیتے ہوئے منتخب صدر محمد مرسی کو ساتھیوں سمیت رہا کروائیں اور ملک میں عوام کی رائے کے مطابق حکومت تشکیل دے کر اہم برادر ملک کو مزید تباہی سے بچائیں.قرارداد میں یمن میں جاری خانہ جنگی، اس کے نتیجے میں لاتعداد جانوں کے ضیاع اور ملک کے پورے بنیادی ڈھانچے کے تباہ ہونے پر گہری تشویش اور دُکھ کا اظہار کیا گیاہے.مجلس شورٰی کے اجلاس میں منظور کی گئی ایک اور قرار داد میں میانمار برما کے صوبے اراکان میں موجود روہنگیا مسلمان اقلیت کے خلاف جاری تشدد اور قتل و غارت گری کی مہم کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ برما کی فوجی حکومت ایک طویل عرصے سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف اقدامات کررہی ہے جس کی وجہ سے 3 لاکھ سے زائد مسلمان بنگلہ دیش جانے پر مجبور کردیے گئے جو وہاں مہاجر کیمپوں میں کسمپرسی کی زندگی بسر کررہے ہیں. 1 لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمان سمندری راستوں سے قریبی ممالک تھائی لینڈ، انڈونیشیا اور ملائیشیا وغیرہ میں جانے پر مجبور ہوچکے ہیں. ان میں سے ایک بڑی تعداد سمندری طوفانوں کی نذر ہوچکی ہے. بقیہ تقریباً 1 ملین مسلمان مسلسل تعذیب اور تشدد کا شکار ہیں. 1982 میں برمی حکومت نے ایک ظالمانہ اقدام کے ذریعے سرکاری طور پر انہیں برمی شہریت سے محروم کردیا تھا. 2014 میں انہیں روہنگیا کی بجائے بنگالی کے خانے میں رجسٹرڈ کیا گیا اور پھر 2015 میں اس کو بھی منسوخ کردیا گیا.قرار داد میں مرکزی شوریٰ نے اقوام متحدہ، اسلامی کانفرنس اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر برما کی صدر نوبل انعام یافتہ آنگ سانگ سوچی کی قیادت میں نئی جمہوری حکومت پر دباؤ ڈالے کہ روہنگیا مسلمانوں کی شہریت بحال کی جائے، ان کو ووٹ کا حق دیا جائے اور حالات معلوم کرنے کیلئے اعلان کردہ فیکٹ فائنڈنگ مشن فوری طور پر میانمار روانہ کیا جائے نیز راکائن صوبے میں امدادی سرگرمیوں کی اجازت دی جائے. امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے شام ،کشمیر برماسمیت دنیا بھر میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیوں کا اعلان کردیا ہے. انہوں نے یکم جنوری کو کراچی میں ایک بڑے امت رسول ﷺمارچ کا اعلان کیا ہے ،سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ بھارت کی آبی جارحیت کا سخت اور اسی زبان میں جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے ، 2016گزرگیا لیکن پاکستان کے کم ہمت حکمران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہ لاسکے، وزیراعظم نوازشریف مظفرآباد گئے وہاں پر سکیموں اور فنڈز کی بات تو کی لیکن مظلوم کشمیریوں کی آزادی کیلئے کوئی روڈ میپ نہ دیا،ہم شام،کشمیر ،برما،فلسطین اور دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں سے یکجہتی کا اظہار کرتے ہیں، ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کو ختم کرانا چاہیے . اگر یہ دونوں ممالک لڑتے رہے تو امت مزید تقسیم ہوگی،2017میں اسلامی ممالک کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ارب سے زائد مسلمانوں کی نمائندگی اور ویٹوکے حق کا مطالبہ کرنا چاہیے. ان انھوں نے اسلام آباد میں امت رسولﷺریلی سے خطاب کرتے ہوئے کیا . اس مو قع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان میاں محمد اسلم ، امیر جماعت اسلامی ضلع اسلام آباد زبیرفاروق خان ،جے یوآئی (ف) کے رہنمامولانانذیر فاروقی، آل پاکستان تاجر اتحاد کے صدر کاشف چوہدری ودیگر نے بھی خطاب کیا . سنیٹر سراج الحق نے کہا کہ 2016کی آخری شام ہے . 2016گزرگیا لیکن پاکستان کے کم ہمت حکمران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو پاکستان واپس نہ لاسکے . 2016گزر گیا ہمارے حکمران مظلوم کشمیریوں کیلئے کچھ نہ کرسکے . وزیراعظم نوازشریف مظفرآباد گئے وہاں پر سکیموں اور فنڈز کی بات تو کی لیکن مظلوم کشمیریوں کی آزادی کیلئے کوئی روڈ میپ نہ دیا 2016کشمیری بچوں ،نوجوانوں ، ماؤں بہینوں کیلئے قتل گاہ بن گیا ہے . ہزاروں کشمیری زخمی ہیں.سینکڑوں بینائی سے محروم کردیئے گئے ہزاروں قید ہیں مقبوضہ کشمیر میں 100سے زائد دن کرفیو نافذ رہا لوگ بھوک سے بدحال تھے لیکن پھر بھی انہوں نے پاکستان ہمارا ہے کے نعرے لگائے . بدقسمتی سے ہمارے حکمرانوں پر قبرستان جیسی خاموشی چھائی ہوئی ہے وہ بھارت کو کوئی پیغام نہ دے سکے کشمیریوں کی ساری جدوجہد پاکستان کی بقاء اورتکمیل پاکستان کیلئے ہے . ہمارے حکمرانوں نے اس جدوجہد کو سبوتاژ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بزدلی اور بے حسی ہے اگر ہمارے حکمران سو رہے ہیں تو قوم جاگ رہی ہے آج کی ریلی نے یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان کے لاکھوں جوان ابن قاسم ، غزنوی اور ابدالی کا کردار اداکرنے کیلئے تیار ہیں . انہوں نے کہا کہ مودی اور اس کے ٹولے نے پاکستان کو بنجر بنانے کیلئے ہمارے دریاؤں کا رخ موڑنے کا منصوبہ بنایا ہے لیکن ہمارے حکمرانوں نے سب کچھ سننے کے باوجود اپنے اوپر چادر اوڑھ رکھی ہے ہم نے1971میں بھی کہا تھا کہ پاکستان کو توڑنے کی سازش کی جارہی ہے لیکن ہماری بات نہ سنی گئی . آج بھی خبردار کرتا ہوں کہ بھارت پاکستان کے دریاؤں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے تاکہ پاکستان ویران ہوجائے اور کروڑوں لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوں . بھارت کے اس اقدام کا سخت اور اسی زبان میں جواب دینا وقت کی اہم ضرورت ہے . اس کیلئے محب وطن اور شیر دل قیادت کی ضرورت ہے . یہ ہمارے مستقبل اور آئندہ نسلوں کی بقاء کا مسئلہ ہے . پاکستان اللہ کی نعمت اور امانت ہے اس کی حفاظت کرنا ہمارے ایمان کا تقاضا ہے . انہوں نے کہا کہ شام میں حلب کے شہر میں 44لاکھ مسلمانوں پر گولہ باری کی گئی اور بارود برسایا گیا . شہر کو کھنڈر میں تبدیل کیا گیا مساجد جلائیں گئیں . عفت ماب ماؤں بہنوں کی اجتماعی عصمت دری ہوئی اور علماء کو شہید کیا گیا . آج حلب کے مسلمان امت کی طرف دیکھ رہے ہیں . روہنگیامسلمانوں کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو مرغیوں کی طرح ذبح کیا جارہاہے . ادھ موئے مسلمانوں کو بوریوں میں بند کیا جارہا ہے اور مسلمانوں کو زخمی کرکے درختوں کے ساتھ لٹکایا جارہا ہے . اقوام متحدہ اور اوآئی سی کہاں ہے . سلامتی کونسل کے ارکان جو کفن چوروں کا ٹولہ اس کو کیوں نہیں دیکھ رہے جب عراق نے سمندر میں تیل چھوڑا تھا تو اقوام متحدہ مچھلیوں کے حقوق کیلئے آواز بلند کرتا تھا لیکن آج روہنگیا مسلمانوں کشمیر ، حلب ، فلسطین کے مسلمانوں کیلئے آواز بلند کیوں نہیں کی جارہی . ان سے گلہ کرنے کی بجائے اپنے حکمرانوں سے گلہکرتا ہوں کوئی مدعی نہیں ہے کوئی عالم اسلام میں لیڈر موجود نہیں جو امت کی رہنمائی کرسکے . اگر ترکی اور پاکستان مل جائیں تو عالم اسلام کی قیادت کرسکتے ہیں . ایران اور سعودی عرب کی کشیدگی کو ختم کرانا چاہیے . اگر یہ دونوں ممالک لڑتے رہے تو امت مزید تقسیم ہوگی . انہوں نے کہا کہ پاکستان کا حق ہے کہ آگے بڑھ کر امت مسلمہ کیلئے کردار ادا کرے . 2017میں اسلامی ممالک کو مل کر مطالبہ کرنا چاہیے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک ارب سے زائد مسلمانوں کو بھی نمائندگی اور ویٹوکا حق دیا جائے شرم کی بات ہے کہ سلامتی کونسل میں مسلمانوں کی کوئی نمائندگی موجود نہیں ورنہ اقوام متحدہ کے وجود کی کوئی ضرورت نہیں ہے . یہ اپنے چارٹرسے ہٹ گیا ہے اور صرف یورپ کے مفادات کا محافظ بن گیا ہے عالم اسلام دنیا میں ایک حقیقت ہے . انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی دنیا بھر میں مسلمانوں پرہونے والے مظالم کے خلاف ملک بھر میں ریلیوں کا انعقاد کرے گی . یکم جنوری کو کراچی میں امت رسولﷺمارچ کا اہتمام کیا جائے گاجس میں ہزاروں افراد شریک ہوں گے ہم عالم اسلام کو پیغام دیں گے کہ امت مسلمہ اور پاکستان جاگ رہے ہیں ہمارا دل شام اور برما کے مسلمانوں کے ساتھ دھڑک رہا ہے کوئی اور کردار ادا کرے یا نہ کرے ہم امت کیلئے اپنا کردار ادا کریں گے . سراج الحق نے کہا جس طرح 2016کا آخری سورج غروب ہورہا ہے اسی طرح مغرب اور ظالم و برہمن سامراج کا سورج غروب ہورہا ہے اور آنے والا کل عالم اسلام کا ہوگا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top