مقبوضہ کشمیر ٗ غیر مقامی باشندوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دینے کے خلاف حریت رہنماؤں کی کال پر احتجاجی مظاہرے

66

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی باشندوں کو کشمیر کا ڈومیسائل دینے کے خلاف حریت رہنماؤں کی کال پر احتجاجی مظاہرے ٗ تجارتی و کاروباری سرگرمیاں معطل ٗ سڑکوں سے ٹریفک غائب ٗ احتجاجی مظاہروں میں ہزاروں کشمیریوں نے شرکت کی ٗ سکیورٹی فورسز نے مظاہرین کو روکنے کیلئے وادی کے مختلف علاقوں میں کرفیو میں مزید سختی کردی ٗ سری نگر کے داخلی و خارجی راستے خاردار تاروں سے بند ٗ فوج اور پولیس کی اضافی نفری تعینات کردی گئی ٗ نظام زندگی بری طرح مفلوج ٗ سال کے آخری روز بھی پیلٹ گن کا قہر جاری رہا ٗ دو درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ تین کشمیری تشویشناک حالت کے باعث ہسپتال منتقل ٗ سکیورٹی فورسز نے حریت رہنما یٰسین ملک کو دوبارہ حراست میں لے لیا . تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں غیر مقامی باشندوں کو اقامتی اسناد کی تقسیم پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے احتجاجی مظاہروں کی کال کے پیش نظر وادی کے مختلف علاقوں میں مظاہرے ہوئے جبکہ سال کے آخری ایام میں بھی پیلٹ اور بلٹ کا قہر جاری رہا جس کے نتیجے میں12افراد زخمی ہوئے.

.اس دوران سرینگر کے سیول لائنز اور پائین علاقے میں مکمل ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی.سیول لائنز علاقوں میں ہڑتال کی وجہ سے زندگی کی رفتار تھم گئی ،جس کے دوران تجاری و کاروباری سرگرمیاں مکمل طور پر ٹھپ ہوکر رہ گئی جبکہ دکان اور تعلیمی ادارے بھی بند رہے.شہر کی سڑکوں پر پٹروی والوں نے بھی اپنا کاروبار بند کیا تھا . جامع مسجد سرینگر سے ایک بہت بڑا جلوس برآمد ہوا. اسلام و آزادی کے حق مین نعرہ بازی کرتے ہوئے جلوس نے پیش قدمی کی تاہم پہلے سے موجودہ پولیس اور فورسز اہلکاروں نے انکی پیش قدمی کو روکتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تاہم نوجوانوں نے فورسز اور پولیس پر سنگبازی شروع کی.اس موقعہ پر پولیس نے بھی جوابی سنگبازی کی اورمظاہرین پر اکا دکا ٹیر گیس کے گولے بھی داغے گئے.احتجاجی مظاہروں کا دائرہ نوہٹہ سے گوجوارہ تک پھیل گیا. ادھر بٹہ مالو میں فورسز اور مظا ہرین کے درمیان جھڑ پیں ہو ئیں جس کے باعث علاقہ میں شام تک تناؤ کی صورتحا ل رہی.ریکہ چوک میں نوجوانوں نے بھارتی فوج کے خلاف نعرہ بازی کی. مظاہرین نے فورسز پر پیٹرول بم بھی پھینکے تاہم اس سے کوئی بھی نقصان نہیں ہوا.فورسز نے اس دوران ایک نوجوان کی گرفتاری بھی عمل میں لائی.اس موقعہ پر فورسز اور مظاہرین کے درمیان سنگبازی وجوابی سنگبازی بھی ہوئی جو وقفہ وقفہ سے کافی دیر تک جاری رہی. فورسز نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آوار گولوں کا بھی استعمال کیا.آبی گزر سرینگر میں لبریشن فرنٹ کے کارکنوں نے جلوس برآمد کیا ور اس دوران اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی،تاہم جب انہوں نے پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں آگے جانے کی اجازت نہیں دی جس کے بعد وہ پرامن طور پر منتشر ہوئے.حید پورہ میں تحریک حریت کے کارکنوں نے پیر سیف اللہ کی قیادت میں احتجاجی جلو برس برآمد کیا او ر اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی. احتجاجی جلوس میں محمد یوسف مجاہد،امتیاز حیدر،عبدالحمید ماگرے،رمیض راجہ،نثار احمد اور دیگر لوگ بھی موجود تھے، نے جامع مسجد حیدر پورہ سے ائرپورٹ روڑ پر آنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں اس بات کی اجازت نہیں دی.مظاہرین کچھ وقفے کیلئے اقامتی اسناد کی تقسیم کے خلاف نعرہ بازی کرتے رہے اور بعد میں پرامن طور پر منتشر ہوئے.درگاہ کے ممبر علاقے میں تحریک حریت نے جلوس برآمد کیا اور اس دوران راجہ معراج الدین کلوال اور عمر عادل کی قیادت میں جلوس مین شامل لوگوں نے اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی.ادھر ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نطر سید علی گیلانی کو بدستور گھر میں رہائشی طور پر نظر بند رکھا گیا جبکہ میر واعظ عمر فاروق کو بھی خانہ نظر بند رکھا گیا.بڈگام میں احتجاجی ہڑتال کے175ویں روز مکمل ہڑتال کا نظارہ دیکھنے کو ملا جس کے دوران کاروباری سرگرمیاں ٹھپ تھی. پلوامہ میں بھی سخت ہڑتال رہی جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہوئی. گالندر اور سانبورہ علاقوں میں پولیس اور فوج کی50آر آر سے وابستہ اہلکاروں نے علی الصبح گھیرے میں لیا اور تلاشیوں کا سلسلہ شروع کیا. جونہی فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کی تلاش میں گھر گھر تلاشی کا آغاز کیا تو سینکڑوں کی تعداد میں مردوزن ، بوڑھے اور بچے گھروں سے باہر آکر احتجاج کرنے لگے اور انہوں نے فورسز کو تلاشی لینے سے روک دیا.اسی دوران لوگ مشتعل ہو گئے اور انہوں نے مقامی مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں پر نعرے بازی کے بیچ لوگوں سے گھروں سے باہر آنے کی اپیل کی گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں کا ہجوم سڑکوں پر امڈ آیا. فورسز نے جب انہیں منتشر کرنے کی کوشش کی تو لوگ مشتعل ہوئے اور انہوں نے بیک وقت کئی اطراف سے فورسز پر زبردست پتھراؤ شروع کیا.جب پتھراؤ میں شدت پیدا ہوئی مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے پہلے لاٹھی چارج کیا گیا اور بعد میں اشک آور گیس کے گولے داغے گئے. جھڑپوں کے دوران 8 مظاہر ین زخمی ہوئے ہیں جن میں سے 3زخمیوں کو سرینگر منتقل کیا گیا . دوسری جانب لبریشن فرنٹ چیئرمین محمد یاسین ملک کو ساتھیوں سمیت اسوقت گرفتار کرلیا گیا ہے جب وہ پلوامہ میں ایک احتجاجی ریلی کی قیادت کررہے تھے. یٰسین ملک نے جامع مسجد کے اندر ہی پناہ لی اور نماز کے بعد مغربی پاکستان سے آنے والے شرنارتھیوں کو اقامتی اسناد کی فراہمی،جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے اور مسلم اکثریت کو اقلیت میں بدل کر غیر قانونی قبضے کو دوام بخشنے، بھارتی سپریم کورٹ کے حالیہ کشمیر مخالف فیصلوں اور جیلوں میں قید ہزاروں لوگوں پر مظالم ڈھانے کے خلاف ایک منظم و مربوط احتجاجی ریلی کی قیادت کی.اس احتجاج کی اپیل متحدہ مزاحمتی قیادت نے کی تھی اور پلوامہ میں پولیس اور فورسز کی جانب سے سخت ترین بندشوں کے باوجود لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے اس میں شرکت کی.آزادی، شہدا، قیدیوں اور اتحاد و اتفاق کے حق میں نیز جموں کشمیر میں آبادی کے تناسب کو بگاڑنے ، ظلم و جبر اور مظالم کے خلاف فلک شگاف نعرے بلند کرتا ہوا یہ جلوس جیسے ہی مرکزی چوک کے قریب پہنچاپولیس اور سی آر پی ایف کی بھاری تعداد نے بزرگوں،عورتوں اور بچوں کا خیال کئے بغیر اشک آور نیز مرچی گیس کی شلنگ کے ساتھ ساتھ لاٹھیوں اور بندوقوں کا بے تحاشا استعمال کرتے ہوئے جلوس کو منتشر کردیا. پولیس اور فورسز کی کارروائی میں ملک سمیت کئی لوگ زخمی ہوگئے. اس موقع پر جاوید احمد بٹ،نذیر احمد بٹ اور شبیر احمدننگرو سمیت زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top