سال 2016ء مقبوضہ کشمیر میں کشت و خون اور ناچتی وحشتوں کے دلدوز مناظر چھوڑ کر رخصت

سری نگر ( اے این این ) سال 2016ء مقبوضہ کشمیر میں کشت و خون اور ناچتی وحشتوں کے دلدوز مناظر چھوڑ کر رخصت ٗ وادی میں گزشتہ برسوں کی طرح امسال بھی عسکری محاذ اپنے جوبن پر رہا ٗ ہلاکتوں کے گراف میں اضافہ ٗ درجنوں مجاہدین جام شہادت نوش کرکے کشمیریوں کے دلوں میں امر ہوگئے ٗ سینکڑوں بھارتی فوجی واصل جہنم ٗ پورا سال سڑکیں لہو سے تر رہیں ٗ ظالم بھارتی حکمرانوں نے کئی گھرانوں کے چراغ گل کئے ٗ ہر طرف بے بسی ٗ لاچاری اور ویرانی کے ڈیرے ٗ پیلٹ ٗ بلٹ اور اشک آور گولوں کی نہ تھمنے والی گونج سال بھر سنائی دیتی رہی ٗ معصوم بچوں کی بینائی جاتے دیکھ والدین کی کسمپرسی کے مناظر بھی دل کو چیرتے رہے. تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ برس کے آغاز سے اختتام تک سڑکیں لہو سے تر بہ تراور غلطاں ہوئیں.

فورسز اور پولیس کارروائی میں8خواتین سمیت 117کے قریب شہری لقمہ اجل بن گئے جبکہ17ہزار زخمی ہوئے. امسال خونین جھڑپوں میں حزب کمانڈر برہان وانی کے علاوہ کئی سرکردہ کمانڈروں سمیت مجموعی طور پر 144 مجاہد جاں بحق جبکہ کئی افسراں سمیت 101فورسز اہلکار ہلاک اور 89زخمی ہوئے. شورش زدہ ریاست جموں کشمیرمیں سال2016بھی خونین ثابت ہوا اور اپنے ساتھ گزشتہ برسوں کی طرح ہی اہل وادی کیلئے مصائب و آلام،آہ و فغاں،نالہ وفریاد،قید وبند کی صوبتیں اور مصیبتوں کے پہاڑ ساتھ لیکر آیا.سال بھر وادی میں موت کے فرشتے کا راج رہا اور اس دوران اس کو دم لینے کی فرصت بھی نصیب نہیں ہوئی. بچوں کے جنازوں کو دیکھ کر ہر سو ماؤں کی چیخ و پکار،والدین کی بدنصیبی،بہنوں اور بھائیوں کی بے بسی،چھاپہ مار کارروائیوں ، کریک ڈاؤنوں ا و رمحاصروں کی بر مار،کرفیو وہڑتال،احتجاجی مظاہروں کی صدائیں، پیلٹ ،بلٹ اور اشک آور و مرچی گیس گولوں کی گونج کا نہ تھمنے والا سلسلہ بھی وادی میں سال بھر جاری رہا.اسپتالوں میں زخمیوں کی کراہنے کی آوازیں بھی دل پر دستک دیتی رہیں اور اپنے معصوم بچوں کی بنیائی جاتے دیکھ والدین کی کسمپرسی کے مناظر بھی دل کو چیرتے رہے. امسال ریاست میں شہری ہلاکتوں کا سلسلہ اس وقت ہوا جب جموں کشمیر کے وزیر اعلی مفتی محمد سعید کی موت کے بعد ریاست میں گورنر راج مختصر مدت کے لئے نافذ کیا گیا .20جنوری کو پلوامہ کے نائنہ بٹہ پورہ میں فورسز اور مجاہدین کے درمیان خونین معرکہ آرائی کے بعد علاقے میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں فورسز کی فائرنگ سے3افراد زخمی ہوئے اور بعد میں پرویز احمد نامی نوجوان جان بحق ہوا.جنوبی ضلع پلوامہ کے کاکہ پورہ للہارمیں فوج اور عسکریت پسندوں کے درمیان خونریز جھڑپ کے دوران احتجاجی مظاہرے ہوئے جس میں ایک طالبہ شائستہ حمید اور بی ٹیک طالب علم دانش رشید جاں بحق ہوئے جبکہ اس دوران بیسوں نوجوان زخمی بھی ہوئے.فروری میں ای ڈی آئی حملے کے دوران اس ادارے میں کام کر رہے ایک ملازم عبدالغنی ساکن گنڈ پورہ پنگلنہ کے جسم میں بھی گولی پیوست ہوئی جو جان لیوا ثابت ہوئی. وزیر اعلی محبوبہ مفتی کی طرف سے موجودہ مخلوط سرکار کی کمان4اپریل کو سنبھالنے کے ساتھ ہی ریاست میں کئی متنازعہ مسائل اٹھے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے ریاست کی گلیاروں میں ماحول کو نہ صرف نمناک کیا بلکہ صورتحال بھی غیر یقینی پیدا کی،جس کی وجہ سے وزیر اعلی کو سنبھلنے کا موقعہ بھی فراہم نہیں ہوا.وزیر اعلی کی طرف سے زمام اقتدار سنبھالنے کے ایک ہفتہ بعد ہی اس وقت وادی میں زبردست کشیدگی اور تناؤ کا ماحول پیدا ہوا جب شمالی کشمیر کے ہندوارہ قصبے میں12اپریل کو ایک اسکولی طالبہ کے ساتھ فوجی اہلکار کی طرف سے مبینہ زیادتی کی خبر پھیل گئی.اس واقعے کے خلاف مقامی لوگوں نے زبردست احتجاج کیا جبکہ فورسز اور پولیس نے احتجاجی مظاہرین پر گولیاں برسائیں جس میں ابتدائی طور پر ایک نوجوان کرکٹر ندیم قادر اور محمد اقبال نامی2نوجوان گولیوں کی زد میں آئے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے.انتظامیہ نے علاقے میں کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا جبکہ دیگر اضلاع میں بھی احتیاتی طور پر سیکورٹی سخت کی گئی.13اپریل کو اس واقعے کے خلاف کپوارہ میں بھی احتجاج ہوا جبکہ اس دوران ایک خاتون جو اپنی کھیت میں کام کر رہی تھی گولیاں لگنے سے جان بحق ہوئی .راجہ بیگم کی موت کے خلاف بھی احتجاج ہوا جبکہ اس دوران ایک ٹیر گیس شل جہانگیر احمد وانی ولد غلام الدین وانی ساکنہ شالپورہ برمری درگمولہ کے سر میں جا لگا جس کے نتیجے میں وہ دم توڑ بیٹھا.15اپریل کو سرحدی ضلع کپوارہ کے نطنوسہ علاقہ میں قائم فوجی بینکر میں تعینات اہلکاروں نے اندھا دھند فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں یہاں بہن کے سسرال آیا 11ویں جماعت میں زیر تعلیم طالب علم 17سالہ عارف احمد ڈار ولد غلام محی الدین ڈار ساکن آوورہ کپوارہ جاں بحق ہوا ،جس کے ساتھ ہی مرنے والوں کی تعداد5 ہوگئی.اس دوران وادی میں ایک ہفتہ تک کرناہ سے کولگام تک احتجاجی مظاہروں،سنگبازی،اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں رہا،جبکہ جوابی کاروائی میں سینکڑوں نوجوان زخمی ہوئے. وقت کا پہیہ گردش کرتا رہا،اور اس دوران8جولائی کا دن آیا.وادی میں لوگ عیدالفطر کی خوشی میں محو تھے کہ اچانک یہ خبر جنگل کے آگ کی طرح پھیل گئی کہ حزب المجاہدین کے معروف عسکری کمانڈر برہان وانی اپنے دو ساتھیوں سمیت بمڈ ورہ ڈورومیں فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جاں بحق ہوا.9جولائی کو وادی کے شرق و غرب سے ا حتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا اور برہان وانی کے آخری سفر میں شامل ہونے کیلئے لاکھوں لوگوں نے انکے آبائی علاقے ترال کی طرف رخ کیا. جنوبی کشمیر میں ہر ایک راستہ ترال کی طرف جا رہا تھا اور لوگوں کی کثیر تعداد اور احتجاجی مظاہرون کی گونج کو روکنے کیلئے فورسز ،پولیس اور فوج نے بندوقوں کے دہانے کھول دئے جس کے دوران پہلے ہی روز10افراد لقمہ اجل جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے.آئندہ4دنوں میں صورتحال بدسے بد تر ہوگئی اور مرنے والوں کی تعداد40 تک پہنچ گئی جبکہ ہزاروں زخمی ہوئے. ایک ماہ تک جاری رہنے والے خون وآہن میں55شہری جانبحق جبکہ6ہزار زخمی ہوئے جن میں سے2ہزار کے قریب فائرنگ کا شکار ہوئے. اگست میں بھی وادی شہریوں کے خون سے غلطان ہوئی.2ماہ کے دوران وادی میں مجموعی طور پر75 شہریوں کو ابدی نیند سلا دیا گیا جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی10ہزار کو عبور کر گئی.احتجاجی لہر کے100دنوں میں90شہری جان بحق ہ15ہزار کے قریب زخمی ہوئے.دسمبر تک احتجاجی مظاہروں میں فورسز کی کارروائی کے دوران جان بحق ہونے والوں کی تعداد 95تک پہنچ گئی جبکہ زخمیوں کی تعداد بھی16 ہزار کو متجاوز کر گئی،جن میں7ہزار کے قریب وہ زخمی بھی شامل ہیں جو جسم کے مختلف حصوں میں پیلٹ لگنے کی وجہ سے مضروب ہوئے.پیلٹ بندوق سے نکلنے والے چھروں سے زخمی ہونے والوں کی تعداد3ہزار ہے،تاہم ایسے پیلٹ زخمیوں کی تعداد بھی کافی ہے جنہوں نے اسپتالوں کے بجائے نجی کلینکوں اور تشخیصی مراکز سے اپنا علاج کروایا.1247افراد کی آنکھوں پر پیلٹ لگے جن میں سے7کی دونوں آنکھوں کی بنیائی چلی گئی جبکہ70کے قریب ایک آنکھ کے نور سے محروم ہوئے ہی. اس دوران2پولیس اہلکار اور3شہری بھی مظاہرین اور فورسز کے درمیان ہورہی سنگبازی کی پاداش میں اپنی جاں کھو گئے. مجموعی طور پر سال بھر ایک درجن شہری نامعلوم افراد کے گولیوں کا شکار بھی بن گئے.کشمیر میں2016 بھی خونین واقعات کی منظر کشی کے بعد جہاں گزر رہا ہے. سال بھر عسکریت پسندوں اور فورسز کے درمیان خونین جھڑپوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس میں مجموعی طور پر245افراد اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے. دستیاب اعداد وشمار کے مطابق فورسز اور عسکریت پسندوں کے درمیان ہوئے خونریز معرکہ آرائیوں میں144جنگجوجاں بحق ہوئے جن میں مقامی اور غیر ملکی عسکریت پسند دونوں شامل ہیں. ان معرکہ آرائیوں میں کئی اعلی تعلیم یافتہ اور معروف عسکری کمانڈر بھی شامل ہے.8جولائی کو کوکر ناگ کے بمڈورہورہ علاقے میں حزب کے معروف کمانڈر برہان وانی اپنے ساتھیوں سمیت جان بحق ہوئے جبکہ دیگر کمانڈروں میں حزب المجاہدین کے سجاد احمد ،شارق بٹ،مشتاق احمد ہارو کے علاوہ ابو ضرار، عادل کھانڈے، اسحاق احمد عرف نیوٹن، داؤد شیخ،ابواشاکہ، نصیر پنڈت،وسیم ملہ، ماجد زرگر،عاشق حسین اور دیگر شامل ہے.اس دوران جھڑپوں میں101فورسز اہلکاروں کو بھی اپنی جان سے ہاتھ دھونا پڑا.مارے گئے فورسز اہلکاروں میں63فوجی،11سی آر پی ایف،8سرحدی حفاظتی فورس ،ایک ایس ایس بی اور18پولیس اہلکار بھی شامل ہیں. اس دوران فوجی کیمپوں پر فدائین اور جنگجویانہ حملوں کا سلسلہ بھی جاری رہا جس کے دوران فوج اور فورسز کو جانی نقصان پہنچایا گیا. ستمبر میں اوڑی فوجی کیمپ پر حملے کے دوران19فوجی اہلکار ہلاک اور کئی زخمی ہوئے جبکہ امسال فروری کی21تاریخ کو مجاہدین نے پانپور میں ای ڈی آئی کے قریب سی آر پی ایف قافلے کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں2اہلکار ہلاک جبکہ مزید10زخمی ہوئے.اس دوران مجاہدین نے پانپور میں ہی واقع ای ڈی آئی بلڈنگ میں ہی پناہ لی اورجھڑپ کے دوران2 کپتانوں سمیت3کمانڈوز ہلاک ہوئے.پانپور میں25جون کو سی آر پی ایف گاڑیوں پر مجاہدین نے گھات لگا کر حملہ کردیا جس کے دوران8 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ20زخمی ہوئے.ادھر سرحدوں پر بھی سال بھر آر پار افوج کے درمیان گولہ باری کا سلسلہ جاری رہا.امسال وادی میں عسکری گراف میں گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اضافہ دیکھنے کو ملا. سال گزشتہ کے دوران فورسز اور مجاہدین کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں100عسکریت پسند جان بحق ہوئے تھے جبکہ اس عرصے میں54فورسز اہلکار بھی ہلاک ہوئے جن میں35فوجی اہلکاروں کے علاوہ12پولیس اہلکار،سرحدی حفاظتی فورس کے5اور سی آر پی ایف کے2اہلکار بھی شامل تھے.امسال شہریوں سمیت جہاں مجموعی طور پر371افراد کی جان بندوق اور گولی نے لی وہیں سال گزشتہ میں ان کی تعداد195تھی...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top