مظفرآباد،تھانہ صدر پولیس کے شیر جوانوں نے خوشیوں بھراگھر ماتم میں بدل ڈالا

پاجگراں شادی والے گھر میں گھس کر اندھا دھند لاٹھی چارج ،بجلی منقطع کرکے شادی میں آئے شہری مہمانوں کی دھرگت بناڈالی چادر اور چاردیواری کاتقدس پامال کرتے ہوئے خواتین کو گھسیٹے ہوئے 3 مردوں کو گرفتار کرلیا مظفرآباد( آن لائن)تھانہ صدر پولیس کے شیر جوانوں نے خوشیوں بھراگھر ماتم میں بدل ڈالا،پاجگراں شادی والے گھر میں گھس کر اندھا دھند لاٹھی چارج ،بجلی منقطع کرکے شادی میں آئے شہری مہمانوں کی دھرگت بناڈالی ، چادر اور چاردیواری کاتقدس پامال کرتے ہوئے خواتین کو گھسیٹے ہوئے 3 مردوں کو گرفتار کرلیا،مزید کے لیے چھاپے جاری ،چیف سیکرٹری آزادکشمیر ، انسپکٹر جنرل پولیس انصاف دلوائیں ، بصورت دیگرشدید احتجاج کرینگے ، گزشتہ روز پاجگراں کے رہائشی علی گوہر نے میڈیا کوتفصیلا ت بتاتے ہوئے کہاکہ ہمارے گھر شادی کی خوشیاں جاری تھیں مہمان بیٹھے تھے خواتین مہندی کی رسم میں مگن تھیں کہ اچانک صدر تھانہ کی پولیس نے چھاپہ مار کر لاٹھی چارج کردی مہمانوں کی خاطرہمارے گھر کی خواتین / رشتہ داروں نے پولیس کی منت سماجت کی کہ ہمارے مردوں سے بات کریں لیکن پولیس نے بھارتی پولیس کاکردار اداکرتے ہوئے خواتین بچوں ، مہمانوں کو تشدد کانشانہ بنایااور تین افراد کو گرفتار بھی کرلیا ، یوں ہماری شادی کی خوشیاں ماتم میں بدل گئیں ارباب اختیار نوٹس لیں علی گوہر نے بتایا کہ میں ایک سال قبل فوج سے ریٹائر ہوا ہوں میراا گھرانہ پولیس و پاک آرمی میں سروس کرتا ہے میرا بھائی صوبیدار بلور حسین حال ہی میں پاک آرمی سے ریٹار ہواور میرا ایک بھائی پولیس میں سروس کے دوران شہید ہوا میری بیٹی کی شادی کی تقریب جاری تھی اور خواتین خوشی کے دوران گھر کے اندر ڈیگ بجا رہی تھی اور نوجون بچے خوشی میں مشغول تھے کہ اچانک میرے گھر میں پولیس آئی نہ ہی انہوں نے کسی سے بات کی اور نہ کوئی وارننگ دی گئی اس دوران میری بڑی بہین پولیس کو منت سماجت کرنے لگی کہ ہمارے مہمانوں پر تشدد کرنے کے بجائے مردوں سے بات کریں پولیس اہلکاروں نے میری بہین کو بالوں سے پکڑ کر روڈ تک گھسیٹا جبکہ میرے دو بھانجوں اور بہنوں کو تشدد کرتے ہوئے تھانے میں لے گئے اور بند کر کے رات پوری تشدد کا نشانہ بناتے رہے اور ایک من گھڑت ایف آئی آر بھی رات گئے ہی ہمارے تمام مہمانوں کو ملوث کر کے کاٹ دی گئی علی گوہر نے چیف آف آرمی سٹاف،وزیراعظم آزاد کشمیر ،وزیر داخلہ اور آئی جی آزاد کشمیر سے درخواست کی ہے کہ میری بیٹی کی شادی کے دوران رات کو پولیس کی دہشتگردی اور گھر میں غائب ہونے والے سامان پر مجھے فوری انصاف فراہم کیا جائے اور ذمہ دار پولیس اہلکاروں کے خلاف انصاف پر مبنی انکوائری کرتے ہوئے ان کے خلاف احتساب عمل میں لایا جائے..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top