مقبوضہ کشمیر ٗ برہان وانی کی شہاد ت ٗ مسلسل170 ویں روز بھی حالات معمول پر نہ آسکے ٗ کرفیو میں مزید سختی

سری نگر ( اے این این )مقبوضہ کشمیر میں برہان وانی کی شہاد ت کے بعد مسلسل170 ویں روز بھی حالات معمول پر نہ آسکے ٗ کرفیو میں مزید سختی کردی گئی ٗ بھارتی فورسز نے حریت کانفرنس کی احتجاجی کال پر قدغن لگاتے ہوئے سری نگر کے داخلی و خارجی راستوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا ٗ لوگ گھروں میں محصور ٗ پٹن اور سوپور میں پرامن مظاہرین پر ایک بار پھر شیلنگ اور لاٹھی چارج ٗایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ پائین شہر اور بانڈی پورہ میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے بھارتی فوج پر پتھراؤ ٗ 5 اہلکار زخمی ہوگئے ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بدستور معطل ٗہندواڑہ میں بارودی شیل پھٹنے سے 16سالہ لڑکا شہید ٗورثاء کے نماز جنازہ کے بعد بھارتی فوج کے خلاف احتجاج ٗ بارہمولہ میں بھارتی فوج کا جھڑپ کے دوران دو مجاہدین کو شہید کرنے کا دعویٰ ٗ مجاہدین کی فائرنگ سے 4 اہلکار زخمی. تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں مجاہد کمانڈر برہان وانی کی شہادت کے 170 روز بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں وادی کے اکثر علاقے کرفیو کے زیرعتاب ہیں.

بھارتی فورسز نے حریت کانفرنس کی احتجاجی کال پر قدغن لگاتے ہوئے سری نگر کے داخلی و خارجی راستوں کو خاردار تاروں سے سیل کردیا جس کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے . پٹن اور سوپور میں بھارتی فوج نے ایک مرتبہ پھر پرامن مظاہرین کو نشانہ بنایا شیلنگ ٗ لاٹھی چارج اور پیلٹ گن کے استعمال سے ایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ہوگ. بھارتی فوج کی جانب سے اشتعال انگیز کارروائیوں کے جواب میں پائین شہر اور بانڈی پورہ میں مشتعل مظاہرین کی جانب سے بھارتی فوج پر پتھراؤ شروع کردیا گیا جس کے نتیجے میں 5 اہلکار زخمی ہوگئے . دوسری جانب وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس بدستور معطل ہے . ادھر مشترکہ حریت قیادت کی طرف سے لیڈروں اور کارکنوں کو تحاصیل سطح پر دھرنا دینے کی کال کے پیش نظر سرینگر میں عوامی ایکشن کمیٹی،تحریک حریت اور لبریشن فرنٹ کارکنوں نے دھرنا دیا تاہم وادی کے دیگر تحاصیل میں دھرنے نہیں دیئے گئے.تازہ احتجاجی کلینڈر کے تحت دوسرے روز کی ڈھیل کے دوران بھی بازاروں میں گہما گہمی اور چہل پہل رہی.شمال وجنوب مجموعی طور پر احتجاجی مظاہروں پرٹھراؤ جاری ہے تاہم آلوسہ بانڈی پورہ میں شبانہ چھاپوں کے دوران پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان مزاحمت ہوئی.مزاحمتی جماعتوں کی کال پر ہڑتال میں رواں ہفتے کے دوران دوسرے روز بھی ڈھیل کا سلسلہ جاری رہا جس کے دوران بازاروں کی رونق دوبالا ہوگئی. ہر سو خریداروں کی غیر معمولی چہل پہل کی وجہ سے کاروباری مراکز اور دکانوں میں بھیڑ جمع تھی.سخت سردی کی لہر کے باوجود بازاروں میں تل دھرنے کی جگہ بھی موجود نہیں تھی اور شمال و جنوب سے لوگوں نے سرینگر کا رخ کیا تھا.لالچوک،آبی گزر،ریگل چوک،مہاراج بازار،کوکر بازار کورٹ روڑ،پلیڈئم گلی،پولو ویو، مائسمہ،ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ،سرائے بالا،جہانگیر،مدینہ چوک،ریڈ کراس روڑ اور گاؤ کدل سمیت دیگر علاقوں میں جہاں دن بھر کاروباری سرگرمیاں شباب پر رہی.مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے تحاصیل سطح پر مزاحمتی کارکنوں کو دھرنا دینے کی کال کے پیش نظر سرینگر میں مدینہ چوک میں مزاحمتی لیڈروں اور کارکنوں نے دھرنا دیتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے.مدینہ چوک میں مشترکہ احتجاجی دھرنے کے دوران حریت کانفرنس (گ) ، حریت کانفرنس (ع) اور لبریشن فرنٹ سے وابستہ لیڈران اور اراکین سمیت زندگی کے دوسرے شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے حصہ لیا . احتجاجی دھرنے میں محمد شفیع خان، شیخ عبدالرشید، مشتاق احمد صوفی، امتیاز حیدر،معراج الدین کلوال، ظہور احمد بٹ،غازی جاوید، محمد صدیق شاہ اور شیخ عبدالرشید، بشیر احمد بویا شریک ہوئے. اس موقع پر آزادی، شہدا، اسیروں، اتحاد و اتفاق اور تحریک آزادی کے حق میں جبکہ ظلم و جبر، تعدی، کالے قوانین کے نفاذ اور جاری گرفتاریوں کے چکر کے خلاف بھرپور نعرے بلند کئے گئے. احتجاجی دھرنا قریب ایک گھنٹہ تک جاری رہا .مقررین نے کہا کہ یہ علامتی احتجاج وادی میں جاری جبر و تشدد اور کالے قوانین کے نفاذ کے خلاف عوام کی آواز ہے.انہوں نے کہا کہ اس احتجاج کے ذریعے وادی کے طول و عرض میں جاری گرفتاریوں کے چکر نیز گرفتار شدہ لوگوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کے خلاف برسر احتجاج ہیں.وسطی کشمیر کے ضلع گانڈربل اور بڈگام میں مزاحمتی کال کے پیش نظر ہڑتال میں ڈھیل کے دوران ایک مرتبہ پھر زندگی کی رفتار بحال ہوگئی ،جس کے دوران ان اضلاع مین جزوی ہڑتال کے بعد دکانیں،کاروباری و تجارتی مراکز مکمل طور پر کھل گئے جبکہ سڑکوں پر گاریوں کی اس قدر تعداد پہنچ گئی کہ کئی علاقوں میں تریفک جام کے مناظر بھی دیکھنے کو ملے. ضلع کپوارہ میں بھی ڈھیل کے دوران لوگوں نے جم کر خریداری کی.اس دوران سڑکوں پر غیر معمولی ٹریفک کی نقل وحمل بھی دیکھنے کو ملی.ضلع کے لولاب،لنگیٹ،ماؤر،ہندوارہ اور دیگر جگہوں پر بھی تجارتی مراکز و دکانیں کھل گئیں اور دن بھر خریداروں سے کھچا کھچ بھری رہی.ضلع بانڈی پورہ میں بھی مزاحمتی جماعتوں کی طرف سے ہڑتال میں دی گئی دھیل کے دوران کاروباری سر گرمیاں جاری رہی جبکہ سڑکوں پر نجی ،مال و مسافر بردار گاڑیوں کی نقل وحمل جاری رہی. نامہ نگار عازم جان کے مطابق ضلع میں آلوسہ کے گنائی محلہ میں گزشتہ شب فورسز اور پولیس نے کئی گھروں پر چھاپے ڈالے تاہم اس دوران کسی بھی شخص کو گرفتار نہیں کیا گیا. مقامی لوگوں کا حوالہ دیتے ہوئے نمائندے نے بتایا کہ لوگوں نے مزاحمتی کی جس کے بعد پولیس اور فورسز اہلکار علاقے سے چلے گئے تاہم نصف درجن گھروں کی تلاشیاں بھی لی.اس دوران سمبل،نائد کھے،حاجن،صفاپورہ، صدر کوٹ اور دیگر علاقوں میں بھی ڈھیل کے دوران بازار اور دکان کھل گئے.ادھر بارہمولہ ضلع میں بھی مکمل طور پر دکانیں کھل گئی اور کاروباری سرگرمیاں بحال ہوئی جس کے پیش نظر لوگوں کی بڑی تعداد جن میں خواتین بھی شامل تھی نے خریداری کی.جنوبی کشمیر کے تمام اضلاع میں دن بھر پرامن صورتحال کے بیچ کاروباری سرگرمیوں نے دوام پکڑا.پلوامہ،شوپیاں،اننت ناگ اور کولگام میں لوگوں کی بھیڑ سڑکوں پر نظر آئی جبکہ بازاروں میں خرید و فروخت کا سلسلہ بھی شباب پر نظر آیا.مزاحمتی جماعتوں نے اگرچہ تحاصیل سطح پر لیڈروں اور کارکنوں کو پرامن طور پر دھرنا دینے کی کال دی تھی تاہم جنوبی کشمیر میں کسی بھی تحصیل سے دھرنے کی کوئی بھی خبر موصول نہیں ہوئی. دوسری جانب سرحدی قصبہ ہندوارہ کے راجواڑ علاقہ میں اس وقت کہرام مچ گیا جب بارودی شل پھٹنے کے نتیجے میں ایک 16سالہ لڑکا شدید طور زخمی ہو گیا اور اس کو علاج و معالجہ کے لئے صدر اسپتال سرینگر منتقل کیا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسا .عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ 16سالہ امتیاز احمد شیخ ولد غلام رسول شیخ ساکن وڈر بالا راجواڑ جمعہ کی شام نماز مغرب کے بعد اپنے دوستو ں کے ساتھ اپنے مکان کے نزدیک ایک میدان میں کھیل رہا تھا کہ اس دوران اس کا پیر ایک بارودی شل سے ٹکرا گیا جس کے نتیجے وہا ں زور دار دھماکہ ہو ا اور اس میں امتیاز احمد شدیدزخمی ہو گیا .عینی شاہدین کے مطابق امتیاز کے دیگر ساتھیو ں نے ان کے گھر والو ں کو خبر دی جبکہ دھماکہ کی آ واز سن کے مقامی لوگ جائے موقع کی طرف دوڑ پڑے جہا ں امیتاز احمد خون میں لت پت بے ہوش پڑا تھا .مقامی لوگو ں نے امتیاز احمد کو فوری طور ضلع اسپتال ہندوارہ میں لے جانے کی کوشش کی تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے راستے میں ہی دم توڑ گیا ...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top