مقبوضہ کشمیر میں کپواڑہ فائرنگ کے 6 روز بھی حالات کشیدہ،احتجاج اور جھڑپیں ،مزید7زخمی،حریت قیادت بدستور نظر بند

مشترکہ حریت قیادت کی اپیل میں ہڑتال کے باعث نظام زندگی متاثر،کاروباری اور تجارتی مراکز بند،سڑکوں سے گاڑیاں غائب رہیں،لوگوں کا لائسنس یافتہ اسلحہ تھانوں میں جمع کرانے سے انکار سرینگر/جموں (اے این این) مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں کم سن بچی اور بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے چھ روز بعد بھی صورتحال معمول پر نہ آ سکی،حالات کشیدہ،حتجاج اور جھڑپیں ،مزید7زخمی ،مشترکہ حریت قیادت کی اپیل میں ہڑتال کے باعث نظام زندگی متاثر،کاروباری اور تجارتی مراکز بند،سڑکوں سے گاڑیاں غائب رہیں،لوگوں کا لائسنس یافتہ اسلحہ تھانوں میں جمع کرانے سے انکار.تفصیلات کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں کم سن بچی اور بے گناہ نوجوانوں کی شہادت کے چھٹے روز بھی مقبوضہ وادی میں حالات کشیدہ رہے .

اس دوران سرینگر کے پائین شہر کے علاوہ گاؤ کدل،صورہ آنچار، ماچھوا، کپوارہ،سوپور،اوردیگر جگہوں پر جلوس اور پرتشدد احتجاج ہوا . ان واقعات میں 7افراد زخمی ہوئے.یہ احتجاج اور ہڑتال مشترکہ مزاحمتی قیادت کی اپیل کر کی گئی.مظاہرین نے اس دوران پاکستان اور اسلام کے حق جبکہ بھارت کی مخالفت میں نعرے بازی کی .نوجوان اپنے ہاتھوں میں سبز ہلالی پرچم و پوسٹر لئے آزادی کے حق میں بھی نعرے لگاتے رہے .اس دوران نوجوانوں نے پتھراؤ کیا.پولیس نے لاٹھی چارج، ٹائر گیس شلنگ اور مرچی گیس کے گولے داغے جس کے بعد طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں .پولیس اور فورسز کی اس کارروائی کے نتیجے میں پورا علاقہ اشک آور گولوں کے دھویں سے بھر گیا.پولیس اور احتجاجی نوجوانوں کے مابین جھڑپوں کے نتیجے میں خواجہ بازار ، نوہٹہ اور ملحقہ علاقے میں کچھ دیر کیلئے کاروباری ادارے ٹھپ ہو کر رہ گئے. راجوری کدل اور گوجوارہ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں بھی احتجاج کررہے نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے فورسز نے لاٹھی چارج اور شلنگ کی . جھڑ پوں کی وجہ سے شہرخاص میں کا فی دیر تک ان علاقوں میں افراتفر ی کا عالم رہا. اس دوران گاؤ کدل سے ایک پرامن احتجاجی جلوس برآمد ہوا .احتجاجی جلوس میں شامل مزاحمتی کارکنوں نے ضمنی پارلیمانی چناؤ کے خلاف نعرے بلند کرنے کے ساتھ ساتھ کپوارہ میں گزشتہ دنوں ایک کمسن بچی کنیزہ کی ہلاکت اور نظر بندوں کی رہائی میں تاخیر کے خلاف سخت ناراضگی کا اظہار کیا .چاڈورہ کے ماچھوا میں بھی ریلوئے برج کے نزدیک نوجوانوں نے احتجاج کرتے ہوئے اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بازی کی.اس موقعہ پر فورسز اور پولیس بھی نمودار ہوئی اور طرفین میں جھڑپ ہوئی.سنگبازی وجوابی سنگبازی کے بعد ٹیر گیس شل بھی چلے. جبکہ مقامی لوگوں کے مطابق2نوجوان زخمی ہوئے. بارہمولہ میں اگر چہ مجموعی طور پر صورتحال پرامن رہی تاہم جامع مسجد سوپور سے جلوس برآمد ہوا اور جو نہی یہ جلوس میں چوک کے قریب پہنچا ،تو یہاں پہلے سے تعینات فورسز اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کیلئے ٹیرگیس شلنگ ،چھروں اور پا وا شلنگ کی . جلوس میں شامل شرکا مشتعل ہوئے اور فورسز پر پتھراؤ کیا جس کے ساتھ ہی یہاں شدید نوعیت کی جھڑپیں شروع ہوئیں اور یہ سلسلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا.مشتعل مظاہرین اور پولیس وفورسز کے درمیان ہوئی جھڑپوں میں متعدد اہلکاروں سمیت کئی افراد مضروب ہوئے .ہندوارہ اور کپوارہ کے کئی علاقوں میں پر امن احتجاجی مظاہروں کی اطلاع ہے. کپوارہ کے مین قصبے میں معصوم بچی کی ہلاکت کے خلاف نوجوانوں نے جلوس برآمد کیا اور اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کی. اس دوران پولیس اور فورسز اہلکار بھی نمودار ہوئے اور انہوں نے جلوس میں شامل نوجوانوں کو پرامن طور پر منتشر ہونے کی ہدایت دی تاہم نوجوان نعرہ بازی کرتے رہے. معمولی نوعیت کی سنگبازی وجوابی سنگبازی کے بعد فورسز اور پولیس نے مظاہرین کا تعاقب کر کے انہیں منتشر کیا.قاضی گنڈ میں شہدا کپواڑہ کے حق میں غائبا نہ جنازہ اداکی گئی. صورہ آنچار سے بھی جلوس برآمد ہوا جو اسلام و آزادی کے حق میں نعرہ بازی کرنے لگا. احتجاجی مظاہرین اور پولیس کا آمنا سامنا ہونے کے ساتھ ہی طرفین میں سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ شروع ہوا جو وقفے وقفے سے کافی دیر تک جاری رہا.فورسز نے جواب میں ٹیر گیس کے گولے داغے اور مرچی گیس کا بھی استعمال کیا گیا.فورسز نے پیلٹ بندوقوں کا بھی استعمال کیا.شام تک جاری رہنے والی اس جھڑپ میں5کے قریب نوجوان زخمی ہوئے.سنگبازی وجوابی کاروائی کی وجہ سے کچھ دیر تک علی جان روڑ پر گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوئی .دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس کے قائدین سید علی ،گیلانی،میر واعظ عمر فاروق اور یاسین ملک سمیت کئی رہنما گھروں میں نظر بند اور تھانوں میں قید ہیں جنھیں پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بھارتی فورسز نے حراست میں لے رکھا ہے .ادھر لوگوں نے مقامی انتظامیہ کے احکامات نظر انداز کرتے ہوئے لائسنس یافتہ اسلحہ تھانوں میں جمع کرانے سے انکار کر دیا ہے .بھارتی فورسز 5فیصد اسلحہ بھی جعم نہیں کر سکیں .اسلحہ جمع کرانے کا حکم چار روز قبل دیا گیا تھا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top