مقبوضہ کشمیر ٗ بھارتی فوج کے مظالم جاری ٗ 15 روز قبل فائرنگ سے زخمی ہونے والا بزرگ شہری جاں بحق

وادی کے طول و ارض میں 133 ویں روز بھی ہڑتال ٗ احتجاجی مظاہرے ٗ کرفیو میں مزید سختی ٗ لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ٗ ترال میں درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے سکول کو نذر آتش کردیا ٗ واقعہ کے خلاف لوگ مشتعل ٗ پتھراؤ سے ایک درجن سے زائد اہلکار زخمی ٗ دو گاڑیاں بھی جلا دی گئیں ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال معطل سری نگر (اے این این) مقبوضہ کشمیر میں گزشتہ 4ماہ سے زائد عرصے سے جاری بھارتی فوج کے مظالم سے ایک اور کشمیری شہید ٗ 15 روز قبل فائرنگ سے زخمی ہونے والا 65 سالہ شخص زندگی کی بازی ہار گیا ٗ وادی کے طول و ارض میں 133 ویں روز بھی ہڑتال ٗ احتجاجی مظاہرے ٗ کرفیو میں مزید سختی ٗ لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ٗ ترال میں درندہ صفت بھارتی فوجیوں نے سکول کو نذر آتش کردیا ٗ واقعہ کے خلاف لوگ مشتعل ٗ پتھراؤ سے ایک درجن سے زائد اہلکار زخمی ٗ دو گاڑیاں بھی جلا دی گئیں ٗ وادی میں انٹرنیٹ اور موبائل فون سروس تاحال معطل . تفصیلات کے مطابق سرینگر کے مضافات الٰہی باغ صورہ میں2نومبر کو پولیس کی طرف سے داغے گئے ٹیر گیس شل لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا بزرگ شہری 15روز تک موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد زندگی کی جنگ ہار گیا.

90فٹ صورہ کا رہائشی غلام محمد خان2نومبر کو اس وقت سر میں ٹیر گیس لگنے کی وجہ سے زخمی ہوا تھا جب اس علاقے سے3کلو میٹر دور آنچار میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے.اس دوران غلام محمد خان کو صورہ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ پہنچایا گیا جہاں پر انہیں انتہائی نگہداشت کے وارڑ میں ونٹی لیٹر پر رکھا گیا.15دنوں تک اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد غلام محمد خان کو دوران شب موت نے اپنی آغوش میں لیا.غلام محمد خان18برس قبل سرکاری نوکری سے سبکدوش ہوئے تھے.وہ سیکریٹریٹ میں درجہ چہارم ملازمین کی انجمن کے صدر بھی تھے. انکے نواسے سہیل احمد خان کا کہنا ہے کہ ان کے نانا مکان کے نزدیک ہی واقع ایک پارک میں دھوپ سیخ رہے تھے،جس دوران پولیس کی جپسی وہاں پہنچی اور ٹیر گیس کے گولے داغے جس میں ایک گولہ ان کے نانا کے سر میں لگا.انہوں نے کہا کہ علاقے میں کوئی بھی احتجاج نہیں چل رہا تھا بلکہ3کلو میٹر دور آنچار میں احتجاجی مظاہرے ہو رہے تھے.ان کا کہنا تھا کہ پارک میں بھی بچے کھیل رہے تھے .غلام محمد خان کی نعش انکے اہل خانہ کو جمعرات صبح8بجے کے قریب سپرد کی گئی. غلام محمد خان کی نعش کو جب انکے آبائی گھر پہنچایا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا.ہر طرف اشکوں کی روانی اور آنسوؤں کی دھاریں دیکھنے کو ملی.ہر آنکھ نم نظر آرہی تھی جبکہ غلام محمد خان کو ہر شخص اشکبار آنکھوں سے یاد کر رہا تھا.اس دوران لوگوں کی بڑی تعداد نے انکے نماز جنازہ میں شرکت کی جبکہ اسلام و آزادی کے نعروں کی گونج کے بیچ غلام محمد خان کو پیوند خاک کیا گیا.غلام محمد خان کو جب سپرد لحد کیا جا رہا تھا ،تو انکے فرزند فیاض احمد خان پر غشی طاری ہوئی اور وہ بے ہوش ہوگئے جبکہ انکی میت کو جب قبرستان کی طرف لئے جایا جا رہا تھا ااس وقت بھی کئی خواتین پر غشی طاری ہوئی.ینگ مینز لیگ چیئرمین امتیاز احمد ریشی ،ظہور صدیقی اور شیخ خورشید،تحریک حریت کے عمر عادل سمیت کئی مزاحمتی کارکنوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی.اس دوران صورہ آنچار،علی جان روڑ،ککر باغ اور نواحی علاقوں میں ہڑتال مزید سخت ہوا،جبکہ سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمدرفت بھی بند ہوگئی.عینی شاہدین کے مطابق الہی باغ اور اس کے ارد گرد علاقوں میں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کو بند کیا جبکہ فورسز اور پولیس کے ساتھ بھی معمولی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے. شام کے وقت صورہ کے90 فٹ پر بھی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے جس کے دوران نوجوانوں نے فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا. شام کے وقت فتح کدل میں نوجوانوں نے فورسز پر سنگبازی کی جبکہ فورسز نے بھی جوابی سنگبازی کی. طرفین میں سنگبازی وجوابی سنگبازی کے دوران ایک بزرگ خاتون زخمی ہوئی.معلوم ہوا ہے کہ گوجوارہ ، راجوری کدل ، صراف کدل علاقوں میں مشتعل نوجوانوں نے فورسز پر پتھراو کیا جنہوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے اشک آور گیس کے گولے داغے. شہر خاص کے متعدد علاقوں میں نامعلوم نوجوانوں نے کئی گاڑیوں کے شیشے بھی چکنا چور کئے. ادھر لالچوک ،بٹہ مالو، سونہ واراور سول لائنز کے دیگرملحقہ علاقوں میں نجی ٹرانسپورٹ ، آٹو رکشھااور سوموگاڑیاں بھی چلتی نظر آئیں.قمرواری ، رام باغ، صنعت نگر، وزیر باغ،جواہر نگر، ،بمنہ اور دیگر مقامات پر دکانیں جزوی کھلی تھیں .لالچوک ہری سنگھ ہائی اسٹریٹ، امیراکدل میں چھاپڑ ی فروشوں دیکھے گئے اورسومو گاڑیوں کے ساتھ ساتھ کئی روٹوں کی گاڑیوں کی نقل و حرکت جاری .صنعت نگر ، جواہر نگر ، راجباغ ، کرنگر، باغات اور حیدرپورہ سمیت کئی دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی . شہر کی سڑکوں پر سینکڑوں ریڈی والوں کو بھی دیکھا گیا جو سبزی اور پھل فروخت کر رہے تھے.ادھر پائین شہر میں بھی پرائیویٹ اور سوموگاڑیوں کی سڑکوں پر نقل و حمل کرتی ہوئی نظر آرہی تھی جبکہ دکان مکمل طور پر بند تھے. شہر خاص کے حساس جگہوں پر اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور وہ متحرک تھے. سرینگر میں ہردن مسافراور نجی گاڑیوں کی آمدورفت میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے.بانڈی پورہ ضلع میں مکمل ہڑتال رہی تاہم گزشتہ دنوں کے مقابلے میں سڑکوں پر نجی ٹریفک کی نقل و حمل میں اضافہ ہوا.نامہ نگار عازم جان کے مطابق لاوڑارہ پاپہ چھن میں میں نوجوانون نے نجی گاڑیوں اور فورسز پر سنگبازی کی جبکہ گلشن چوک میں اسی طرح کا واقعہ پیش آیا جس کے دوران نوجوانوں نے نجی گاڑیوں کو سنگبازی کا نشانہ بنایا.نامہ نگار نے عینی شاہدین کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ کلوسہ میں بھی سنگبازی ہوئی جبکہ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے انکا تعاقب کیا.ادھر آشٹینگو اور پتو شاہی میں نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی تھی اور گاڑیوں کی آمدرفت کو مسدود بنایا تھا.ضلع کے حساس علاقوں میں فوج،فورسز اور پولیس نے گشت کیا جبکہ کئی علاقوں میں فورسز کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا. صدر کوٹ،نائد کھئے،حاجن،عشم،سمبل اور صفا پورہ میں مکمل ہڑتال رہی تاہم ان علاقوں میں بھی نجی گاڑیاں سڑکوں پر چلتی ہوئیں نظر آئیں.گاندربل کے اکثر بازاروں میں دکان بند تھے البتہ سڑ کیںآ باد تھیں .نامہ نگار غلام نبی رینہ کے مطابق سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل جاری رہی جبکہ فورسز اور پولیس کا گشت بھی جاری رہا.نمائندے کے مطابق اس دوران بوسر بوگ گاندربل میں اس وقت سنسنی اور خوف ودہشت کا ماحول پھیل گیا جب نامعلوم افراد نے گورنمنٹ اسکول کو نذر آتش کرنے کی کوشش کی تاہم مقامی لوگوں نے شر پسند عناصر کی کوشش کو ناکام بنایا . معلوم ہوا ہے کہ اسکول کے فرنیچر کو جزوی طورپر نقصان پہنچا ہے.ادھر بڈگام ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت چاڑورہ، چرار شریف، بیروہ، ماگام، کھاگ اور خانصاحب میں مکمل ہڑتال رہی اس دوران کاروباری و تجارتی ادارے، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے.پولیس نے بڈگام میں گورنمنت اسکول حبر لاسی پورہ کو نذر آتش کرنے اور حنفیہ اسکول میں توڑ پھوڑ کرنے کے الزام میں2نوجوانوں کو گرفتار کرنے کا دعوی کیا.پولیس بیان کے مطابق فاروق احمد ملک عرف بوڑھا اور بلال احمد ملک عرف درانی نامی نوجوانوں نے علاقے میں افراتفری مچانے کیلئے اسکولوں کے خلاف سازش کی جبکہ اس دوران تحقیقات میں پتہ چلا کہ انہوں نے اپنے گھروں سے تیل خاکی لایا اور اسکول کو نذر آتش کرنے کی سازش کی.پولیس بیان کے مطابق دونوں نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی گئی جبکہ مزید تحقیقات بھی جاری ہے. سرحدی ضلع کپوارہ اور بارہمولہ میں بھی دن بھر سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آواجاہی جاری رہی تاہم اس دوران مکمل ہڑتال رہی...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top