مقبوضہ کشمیر ٗ بھارتی فوج کے مظالم جاری ٗ فائرنگ اور لاٹھی چارج سے درجنوں کشمیری زخمی

سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم نہ رک سکے ٗ احتجاجی مظاہرین پر فائرنگ اور لاٹھی چارج ٗ ایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ 100 سے زائد شہریوں کو گرفتارکرلیا گیا ٗ وادی کے مختلف علاقوں میں خواتین کی احتجاجی ریلیاں ٗ بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی ٗ بھارتی فورسز اور ریاستی انتظامیہ کی حریت کانفرنس کی جانب سے بارہمولہ چلو کال ناکام بنانے کی کوشش ٗ لوگ کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے نکل آئے ٗ فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ ٗ سکیورٹی فورسز کی جانب سے گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ٗ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ معمول بنالیا ٗ161 ویں روز بھی وادی کے اکثر علاقوں میں تاحال کرفیو نافذ ٗ انٹرنیٹ اور فون سروس بھی معطل . تفصیلات کے مطابق حریت قیادت نے گزشتہ روز مکمل ہڑتال کے دوران متفقہ طور پر طے کیا کہ گئی جگہوں پر احتجاجی مظاہروں کی کال دی جائے جس کی وجہ سے وادی میں روز مرہ کی زندگی متاثر ہوکر رہ گئی.

سیول لائنز میں کاروباری ادارے اور دکانیں بند رہیں تاہم سڑکوں پر جزوی طور پر نجی گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پبلک ٹرانسپورٹ کی نقل وحرکت جاری رہی .شہرخاص کے نوہٹہ علاقے میں صبح سے ہی جامع مسجد کو سیل کر کے رکھ دیا گیا تھا اور جامع مسجد میں سیرت کانفرنس اور ممکنہ احتجاجی مظاہروں کو مد نظر رکھتے ہوئے نواحی علاقوں میں بھی فورسز اور پولیس کا پہرہ بٹھا دیا گیا تھا. نماز جمعہ سے قبل ہی غیر میوقع طور پر جامع مسجد سرینگر کے باہر فورسز کی انسانی فصیل کو ہٹایا گیا.مرکزی جامع مسجد میں نماز جمعہ کے بعد میر واعظ عمر فاروق ، پیر سیف اللہ ، راجا معراج الدین کلوال ، شیخ عبدالرشید ، سید امتیاز حیدر اور عمر عادل ڈار ،رمیض راجہ کی قیادت میں ایک بڑا احتجاجی جلوس برآمد ہوا ، جس میں شامل لوگ اسلام اور آزادی کے علاوہ اتحاد و اتفاق کے حق میں نعرے بلند کرر ہے تھے جبکہ اس دوران جلوس میں شامل افراد نے شہدا کے وارث ہم ہیں کے نعرے بھی لگائے.جلوس جامع مسجد احاطہ کے مین گیٹ پر پر امن طور اختتا م پذیر ہوا . جامع مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد جب لوگ باہر آئے تو پولیس کی بھاری تعداد دیکھ کر انہوں نے اس پر احتجاج کرنا شروع کیا.اسی اثنا میں یہاں نوجوان کی ایک بڑی تعداد اپنے ہاتھوں میں پوسٹر لئے آزادی کے حق میں نعرے بلند کرتے ہوئے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کا تعاقب کرنا شروع کیا جس دوران احتجاجی نوجوانوں نے پتھراوکیا.پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے ان پر جوابی پتھراؤکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی.پولیس نے مرچی گیس کے گولے داغے گئے جس کے بعد طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پورا علاقہ اشک آور گولوں سے لرز اٹھا اور ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیااورشلنگ اور مرچی گیس سے نمازیوں اور علاقہ میں لوگوں کو تکلیف دہ صورتحال کا سامنا کرنا پڑا.گوجوارہ میں مشتعل نوجوانوں نے سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑا کرکے آزادی کے حق میں نعرے لگائے جس کے ساتھ ہی وہاں دکانیں بند ہوئیں اور ٹریفک کی آمد ورفت رک گئی. پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے شلنگ کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے مابین شدید جھڑپیں ہوئیں اور خشت باری کرنے والے نوجوانوں کو منتشر کر نے کیلئے فورسز نے شدید شلنگ کرنے کے علاوہ مرچی گیس کا استعمال کیا جس سے گوجوارہ اور ملحقہ علاقوں میں افراتفری پھیل گئی اور جھڑپوں کا سلسلہ راجوری کدل اور دیگر علاقوں میں شروع ہوا جس کے ساتھ ساتھ ہی ان علاقوں میں آنا فانا کاروباری سرگرمیاں ٹھپ ہوگئیں اور سڑکوں پر پبلک ٹرانسپورٹ بھی غائب ہوا.نوہٹہ چوک میں نوجوانوں نے آزادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے جلوس نکالا اور پیشقدمی کی.اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈس اور سبز پرچم لئے احتجاجی نوجوانوں نے خشت باری کی تاہم پولیس نے ان کا تعاقب کیااور جوابی پتھراوکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج اور شلنگ کی.اس دوران نوجوانوں کی ایک ٹولی نے پولیس اسٹیشن کی طرف جانے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں منتشر کرنے کیلئے اشک آور گولے داغے جس کے بعد احتجاجی نوجوانوں نے شدید خشت باری کی.اشک آور گولوں کی وجہ سے علاقہ دھویں سے بھر گیا جبکہ سڑکوں پر ہر طرف پتھر اور اینٹیں نظر آرہی تھیں.احتجاج کررہے نوجوانوں اورفورسز کے مابین کئی گھنٹوں تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ جاری رہا. مشتعل نوجوانوں کو قابو کرنے کیلئے نوہٹہ ،گوجوارہ اور اسکے ملحقہ علاقوں میں سی آر پی ایف اور پولیس کی بھاری نفری تعینات کی گئی اور گلی کوچوں اور چوراہوں پر گاڑیاں کھڑا کی گئیں جس کی وجہ سے ان علاقوں میں کرفیو جیسی صورتحال دیکھی گئی تاہم اس کے باوجود خشت باری اور شلنگ جاری تھی. بٹہ مالو علاقہ میں بھی نماز جمعہ کے بعد مشتعل نوجوانوں کی سنگباری کے جواب میں پولیس اور فورسز نے آنسو گیس کے گولے داغے جبکہ طرفین کے درمیان شام دیر گئے تک ٹکراؤ کی صورتحال جاری رہی.اس دوران بڈگام ضلع ہیڈ کوارٹر سمیت چاڑورہ، چرار شریف، بیروہ، ماگام، کھاگ اور خانصاحب میں مکمل ہڑتال رہی اس دوران کاروباری و تجارتی ادارے، دفاتر اور تعلیمی ادارے بند رہے. ماگام بڈ گام میں کاروان اسلامیہ کی طرف سے ایک جلوس مکہامہ سے ماگام تک برآ مد ہوا. عینی شاہدین کے مطابق ما گام چوک میں جو نہی یہ جلوس اختتام پذ یر ہورہا تھا تو واپسی پر کچھ نوجوانوں نے وہاں تعینات پولیس پر پتھرا ؤ کیا جس کے جواب میں پولیس نے لوگوں پر پلٹ کا استعما ل کیا. واقعے میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا جبکہ اس کے سر میں پتھر لگنے کی وجہ سے شدید نوعیت کی چوٹیں آئیں. پولیس ذرائع کے مطابق کچھ مشتعل اور نامعلوم افراد نے زخمی پولیس اہلکار سے اس کی رائفل بھی چھین لی. سروس رائفل اور گولیاں چھیننے کا واقع رونما ہونے کے بعد پولیس وفورسز نے بیروہ بڈگام کے گاؤں کو پوری طرح سے سیل کرکے گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا آغاز کیا ہے. اس موقعہ پر کئی افراد زخمی ہو ئے ہیں جبکہ پلٹ گن کے استعمال سے جلوس میں افرا تفری پھیل گئی اور کئی لوگوں بھگدڑ میں بھی زخمی ہو ئے.بدرن اسٹاپ ماگام میں بھی فورسز،پولیس اور مظاہرین کے درمیان قہر انگیز سنگبازی ہوئی.شمالی کشمیر کے ہی اولڈ ٹاؤن بارہمولہ میں مظاہرین اور پولیس کے مابین جھڑپیں ہوئیں.نوجوانون نے جلوس نکالنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے اسکو ناکام بنانے کی فوری کارروائی عمل میں لائی.اس پر خانپورہ پل پر مشتعل نوجوانوں اور پولیس و فورسز کے درمیان سنگباری اور ٹیر گیس شلنگ کا تبادلہ ہوا ، جس وجہ سے قصبہ میں تشویش کی لہر دوڑ گئی .عینی شاہدین کے مطابق اس دوران پولیس اور فورسز نے تین نوجوانوں کی گرفتاری عمل میں لائی ، جن میں ایک نوجوان کے دماغی طور معذور ہونے کا مقامی لوگوں نے دعوی کیا. مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور فورسز نے دماغی طور معذور جاوید احمد نجار ساکنہ بنگلہ باغ اور شارک حسین وازہ ساکنہ ککر ہمام سمیت تین نوجوانوں کی جمعہ کے روز گرفتاری عمل میں لائی . سوپور کی مرکزی جامع مسجد میں ہزاروں لوگوں نے مشترکہ طور نماز جمعہ ادا کی جبکہ بعد از نماز مین بازار اور مین چوک میں کچھ نوجوانوں نے فورسز پر سنگ باری شروع کی،جس کے جواب میں فورسز نے انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے شل اورسونڈ بم کے گولے بھی داغے .طرفین کے مابین جھڑپ کافی دیر تک جاری رہی ،جس کے دوران سنگبازی وجوابی سنگبازی کا سلسلہ جاری رہا. نیو کالونی سوپور میں بھی نماز جمعہ کے بعد نوجوانوں نے جنرل بس اسٹینڈ کے نزدیک سی آرپی ایف کیمپ پر پتھراؤ کیا اور جواب میں فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لئے جوابی پتھراؤ اور لاٹھی چارج کیا . پولیس اسٹیشن سوپور پر بھی نوجونوں نے نماز جمعہ کے بعد زبردست پتھراؤ کیا جس کی وجہ سے حالات کشیدہ ہوگئے . ادھر علاقہ زینہ گیر کے بیشتر مضافاتی علاقوں ڈورو،بوٹنگو،بومئی ،واڈرہ،وٹلب،ذالورہ اور تجر شریف میں بھی نماز جمعہ کے بعد علاقوں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے جن میں لوگ اسلام و آزادی کے حق میں نعرے بلند کر رہئے تھے. بانڈی پورہ پلان کے وارڑ نمبر 4میں گزشتہ رات کے دوران پولیس نے مبینہ مطلوبہ نوجوانوں کو چھاپہ ڈالا لیکن خواتین نے مزاحمت کرکے چھاپہ مار کاروائی کو ناکام بنایا بتایا جاتا ہے. گزشتہ شام پولیس دو نوجوانوں کو گرفتار کر نے میں کامیاب ہو گئی .ادھر ملنگام اور مسلم آباد کلوسہ میں بھی پولیس کی جانب سے چھاپہ ڈالنے کی اطلاع موصول ہوئی ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top