کشمیری نوجوان بے خوف، موت کو گلے لگانے کے لیے تیار ،گرمیوں میں کچھ بڑا ہونے والا ہے جس کیلئیتیار رہنا ہوگا: بھارتی تحقیقاتی کمیشن

سری نگر(آن لائن) کشمیر کے حوالے سے پانچ رکنی بھارتی تحقیقاتی کمیشن نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں سکیورٹی فورسز کی طرف سے بھارت مخالف مظاہروں کو دبانے کے لیے طاقت کے استعمال نے کشمیری نوجوانوں کے دلوں سے موت کا خوف نکال دیا ہے اور وہ موت کو گلے لگانے کے لیے تیار رہتے ہیں،مسئلہ کشمیر کا حل سیاسی ہے،گرمیوں میں کچھ بڑا ہونے والا ہے جس کیلئے بھارت کو تیار رہنا ہوگا.بھارتی میڈیا کے مطابق یہ بات بھارت میں ایک پانچ رکنی تحقیقاتی کمیشن کی طرف سے کشمیر کے بارے میں جاری کردہ رپورٹ میں کشمیر کی نوجوان نسل کی سوچ کی عکاسی کرتے ہوئے کہی گئی ہے،رپورٹ میں کہا گیا ہے کشمیریوں کا خیال ہے کہ بنیادی مسئلہ انڈیا کی ریاست کی طرف سے اس بحران کا اعتراف نہ کرنا ہے، کشمیری سمجھتے ہیں کہ انڈیا کشمیر کو سیاسی مسئلہ تسلیم کرنے اور اس کے سیاسی حل پر تیار نہیں ہے.

سنہ 2016 میں کشمیر میں عام لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کرنے والے گروپ میں سابق وزیر خارجہ یشونت سنہا، اقلیتیوں کے قومی کمیشن کے سابق سربراہ وجاہت حبیب اللہ، بھارتی فضایہ کے ایئر واس مارشل (ریٹائرڈ) کپل کاک، معروف صحافی بھارت بھوشن اور سینٹر آف ڈائیلاگ اینڈ ریکنسیلیشن کے پروگرام ڈائریکٹر ششہوبا بریو شامل تھے.اس گروپ نے 2016 میں کشمیر کے مختلاف علاقوں میں شدید مظاہروں اور سینکڑوں نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعات کے بعد بٹگرام، شوپیاں، اننت ناگ اور بارہ مولہ کا دورہ کیا اور وہاں سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے گروپوں کے علاوہ پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں سے بھی مسئلہ کشمیر کے بارے میں بات کی. اس کے علاوہ گروپ نے کشمیر کے سرکردہ سیاسی قائدین انجیئر رشید، سیف الدین سوز اور سابق وزیر اعلی ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے ساتھ نیشنل کانفرنس کے کئی ممبران سے بات کی.کمیشن کے ارکان نے مسئلہ کے سیاسی حل پر زور دیا اور کہا کہ جب تک اس کا سیاسی حل تلاش نہیں کر لیا جاتا وادی میں موت اور تباہی کا سلسلہ زیادہ شدت سے جاری رہے گا،رپورٹ میں کہا گیا کہ کشمیریوں کا کہنا ہے کہ انڈیا پر ان کو اعتماد نہیں رہا اور بداعتمادی کی یہ خلیج بڑھتی جا رہی ہے. کچھ کشمیریوں کا خیال ہے کہ انڈیا کی ریاست کشمیر کو صرف قومی سلامتی کے زوایے سے دیکھتی ہے.رپورٹ کہا گیا کہ لوگوں سمجھتے ہیں کہ مظاہروں میں وقفہ کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ ہے، عمومی طور پر ایک خوف ہے کہ آئندہ موسم گرما میں اپریل سے ستمبر کے درمیان کچھ بڑا ہونے والا ہے، ان کا خیال ہے کہ سنہ 2017 میں اپنی شدت اور سنگینی کے اعتبار سے کوئی بڑا واقع پیش آ سکتا ہے عام کشمیریوں کے ذہنوں میں اس مسئلے کے حل کا جو خاکہ ہے اسے بیان کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگوں کے خیال میں اس مسئلے سے وابستہ تمام فریقوں، انڈیا، پاکستان اور تمام کشمیر کے عوام کو شامل کیے بغیر اس کا حل ممکن نہیں ہے فریقین کو اس مسئلہ کے حل کے لیے لچک دار رویے اپنا ہو گا تاکہ کشمیر کے لوگوں کی مشکلات دور ہو سکیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top