مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 118 ویں روز بھی بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم نہ رک سکے

34

بھارتی فورسز اور ریاستی انتظامیہ کی حریت کانفرنس کی جانب سے بارہمولہ چلو کال ناکام بنانے کی کوشش ٗ لوگ کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے نکل آئے ٗ فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ ٗ ایک درجن سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے سکیورٹی فورسز کی جانب سے گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ٗ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ معمول بنالیا ٗ وادی کے اکثر علاقوں میں تاحال کرفیو نافذ ٗ انٹرنیٹ اور فون سروس بھی معطل سری نگر ( اے این این ) مقبوضہ کشمیر میں مسلسل 118 ویں روز بھی بھارتی فوج کے نہتے کشمیریوں پر مظالم نہ رک سکے ٗ متعدد جگہوں پر تشدد آمیز جھڑپیں ٗ ایک درجن سے زائد کشمیری زخمی ٗ 100 سے زائد شہریوں کو گرفتارکرلیا گیا ٗ وادی کے مختلف علاقوں میں خواتین کی احتجاجی ریلیاں ٗ بھارتی فوج کے خلاف شدید نعرے بازی ٗ آسیہ اندرابی سمیت تمام حریت پسند رہنماؤں کو فوری رہا کرنے کا مطالبہ ٗ بھارتی فورسز اور ریاستی انتظامیہ کی حریت کانفرنس کی جانب سے بارہمولہ چلو کال ناکام بنانے کی کوشش ٗ لوگ کرفیو کی پرواہ کئے بغیر گھروں سے نکل آئے ٗ فوجی گاڑیوں پر پتھراؤ ٗ ایک درجن سے زائد اہلکار زخمی ہوگئے ٗ سکیورٹی فورسز کی جانب سے گھر گھر تلاشی کارروائیوں کا سلسلہ بھی جاری ٗ قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ معمول بنالیا ٗ وادی کے اکثر علاقوں میں تاحال کرفیو نافذ ٗ انٹرنیٹ اور فون سروس بھی معطل . جمعرات کی صبح پولیس ، ٹاسک فورس اور سی آر پی ایف اہلکاروں نے آنچار صورہ علاقہ کو محاصرے میں لیکر مبینہ طور ہند مخالف احتجاج اور سنگبازی میں مطلوب افراد کی گرفتاری عمل میں لانے کیلئے جب تلاشی کارروائی شروع کی تو اس دوران مقامی لوگوں کے بقول گھروں میں داخل ہو کر افراد خانہ کو بلا لحاظ عمر و جنس زد وکوب کیا گیا.

مقامی لوگوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فورسز اہلکاروں نے جناب صاحب صورہ آستان عالیہ میں شیشیوں کو چکنا چور کیا اور مبینہ طور پر بے حرمتی کی. مساجد سے اعلانات ہونے کے بعد آ نچار اور جناب صاحب کے گرد ونواح علاقوں کے لوگ جلوس کی صورت میں وہاں پہنچ گئے اور یوں وہاں ایک مر تبہ پھر احتجاج کررہے نوجوانوں اورفورسز کے مابین کئی گھنٹوں تک پر تشدد جھڑپوں کا سلسلہ شروع ہوا.عینی شاہدین کے مطابق ٹاسک فورس اور سی آر پی ایف اہلکاروں کی اس کاروائی کے خلاف شالباف محلہ،ڈار محلہ،منز محلہ،کبیر محلہ اور دیگر نواحی علاقوں کے مقامی مردوزن گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے چھاپوں کے دوران زیادتیوں کیخلاف صدائے احتجاج بلند کرنا شروع کیا. مقامی لوگوں کے مطابق احتجاجی مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے پولیس اور فورسز نے ٹیر گیس شلنگ اور پیلٹ فائرنگ کے علاوہ پاوا شل بھی داغے جس کے نتیجے میں پورے علاقہ میں دھواں چھا گیا اور خوف و دہشت کی لہر دوڑ گئی .عینی شاہدین کے مطابق پولیس و فورسز اہلکاروں نے اس دوران گھروں میں گھس کر گھریلو سامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی کارروائی جاری رکھی جبکہ مقامی مردوزن خوف دہشت کے عالم جناب صاحب صورہ کے آستانہ میں جان بچانے کیلئے چلے گئے. مقامی لوگوں نے بتایا کہ ٹیر گیس شل پھٹنے کے نتیجے میں مقامی اوقاف کمیٹی کے دفتر میں آگ نمودار ہوئی تاہم لوگوں نے جلد ہی اس پر قابو پالیا. مقامی لوگوں کے مطابق آگ پر قابو پانے کیلئے فائر سروسز کی گاڑیاں بھی یہاں پہنچ گئیں اور فوری بچاؤ کارروائی کے نتیجے میں اوقاف دفتر کی عمارت کو خاکستر ہونے سے بچا لیا گیا.جھڑپوں کااندزاہ اس بات سے لگا یا جا سکتا تھاسڑکوں پر پتھر اور اینٹیں دکھائی دے رہی تھیں جبکہ علاقے شلنگ کی وجہ سے دھویں سے بھر گئے لگ بھگ دن بھر جاری رہنے والیجھڑ پوں میں پولیس کا ایک ایس پی نوید پیرزادہ سمیت40 زائد نوجوان زخمی ہو ئے ہیں ان میں سے ایک درجن کو تصادم آ رائی اور مارپیٹ کے بعدصورہ میڈیکل انسٹیچوٹ منتقل کیا گیا ہے ایک نوجوان کو ٹا ئر گیس شیل لگاہے. معلوم ہواہے کہ مذ کورہ نوجوان کے سر پر شیل لگا ہے جس کی وجہ سے اسکی حالت ناز ک بنی تھی. اس دوران معلوم ہوا کہ ٹیر گیس شلنگ ، پیلٹ فائرنگ اور پاوا شل دھویں کی زد میں�آکر زخمی اور بے ہوش ہوئے کئی مردوزن کو صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ منتقل کیا گیا. ادھر پاوا شل اور ٹیر گیس شل کا دھواں صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ تک بھی پہنچ گیا اور یہاں زیر علا ج بیماروں کے ساتھ ساتھ تیمارداروں کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا. اس دوران معلوم ہوا کہ کچھ نوجوان ٹیر گیس شل اور پیلٹ فائر کی زد میں آکر زخمی ہوئے اور ان میں سے کچھ شدید زخمی بتائے جاتے ہیں .مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ 5دنوں سے متعلقہ پولیس تھانے کے ایس ایچ اؤ نے علاقے میں خوف و دہشت مچا رکھا ہے جبکہ مسلسل چھاپہ مار کاروائی عمل میں لائی ہے.انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ فورسز اور ٹاسک فورس نے آستان عالیہ کی بے حرمتی کی جس کی وجہ سے وہاں زیارت پر معمور اہلکاروں اور فورسز اہلکاروں کے درمیان گرم گفتاری بھی ہوئی.مقامی لوگوں کے مطابق پولیس اور فورسز کی کاروائی میں40افراد زخمی ہوئے جبکہ فورسز نے اس قدر خوف و دہشت کا ماحول پیدا کیا ہوا ہے کہ بیشتر زخمی اسپتال علاج کرنے نہیں گئے اور انکا علاج مقامی طور پر ہی کیا گیا.ادھر پولیس ذرائع نے بتایاکہ صورہ آنچا ر میں 3 درجن افراد زخمی ہوئے ، جن میں ایس پی نوید پیر زادہ کے علاوہ کئی پولیس اور سی آر پی ایف اہلکار بھی شامل ہیں. پولیس ترجمان نے بتایا کہ علاقہ میں کچھ لوگوں نے معمول کی تلاشی کارروائی کے دوران صورتحال کو بگاڑنے کے بعد شدید پتھراؤ کیا جس کے نتیجے میں یہاں صورتحال بگڑ گئی اور کئی افراد زخمی ہوئے جن میں ایک سینئر پولیس آفیسر اور کئی سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں.صورہ کے الہی باغ میں اس وقت ایک بزرگ شہری زخمی ہوا جب وہ مقامی پارک میں دھوپ سیخ رہا تھا. عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس دوران فورسز کا گزر ہوا اور انہوں نے بلا اشتعال ایک ٹیر گیس شل پھینکا جو مذکورہ بزرگ کو لگ گیا،جس کی وجہ سے وہ زخمی ہوا اور انہیں صورہ میڈکل انسٹی چیوٹ میں شدید نازک حالات میں منتقل کیا گیا. فیاض احمد خان نامی ایک شہری نے کشمیر عظمی کو فون پر بتایا کہ اس کا78برس کا معمر والد مسجد الہی کے نزدیک پارک میں دھوپ سیخ رہا تھا اور اس دوران فورسز نے وہاں پر ٹیر گیس گولہ داغا جس کی وجہ سے اس کا والد غلام محمد خان زخمی ہوا.انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ اس کو فوری طور پر اسپتال پہنچایا گیا جہاں انہیں انتہائی نگہداشت کی وارڑ میں رکھا گیا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اس کی حالات نازک ہے. صورہ اور آنچار میں پولیس اور مقامی لوگوں کے درمیان جھڑپوں اور آستان عالیہ کی مبینہ بے حرمتی کی خبر پھیلتے ہی شہر کے پائین علاقے میں تناؤ کی سی صورتحال پیدا ہوئی اور کئی جگہوں پر سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے. معلوم ہوا ہے کہ علی جان روڑ کے علاوہ سعد پورہ،زونی مر،گلی کدل اور دیگر جگہوں پر نوجوان سڑکوں پر نمودار ہوئے اور گاڑیوں پر سنگبازی کی جس کی وج سے کشیدگی کی لہر پھیل گئی.اس دوران فورسز بھی وہاں پر پہنچ گئی اور نوجوانون کا تعاقب کر کے انہیں منتشر کیا.کاوڑارہ اور صورہ کے90 فٹ پر بھی سنگبازی کے واقعات رونما ہوئے جس کے دوران نوجوانوں نے فورسز اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا.شہر خاص کے کئی علاقوں میں بھی شام کو نوجوانوں اور فورسز کے درمیان سنگبازی کے واقعات پیش آئے جبکہ نوجوانوں نے زبردست خشت باری کی.عینی شاہدین کے مطابق نوا کدل،صفا کدل،کنہ کدل میں سنگبازی ہوئی جبکہ فورسز نے کاروائی کرتے ہوئے ٹیر گیس کے گولے داغے.شام کے وقت سرینگر ،مظف ر آباد روڑ پر عمر آباد لاوئے پورہ کے نزدیک شام5بجے جب فورسز اہلکاروں کو ہٹایا گیا تو نوجوانوں کی ٹولیاں نمودار ہوئی جنہوں نے گاڑیوں پر پتھراؤ کیا.اس دوران اگر فورسز اہلکار بھی نمودار ہوئے،تاہم نوجوانوں نے انہیں بھی خشت باری کا نشانہ بنایا.فورسز نے ان مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے ٹیر گیس کے گولے داغے. شہر کی کئی مساجد میں تحریکی ترانوں اور نغموں کی گونج سنائی دی.ادھر انتظامیہ نے سرینگر میں کشیدہ صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے حساس علاقون میں اجافی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا.اس دوران سرینگر کے سیول لائنز علاقوں بشمول صنعت نگر ، جواہر نگر ، راجباغ ، کرنگر ، بٹہ مالو اڈہ ، لالچوک ، ڈلگیٹ سمیت کئی دیگر علاقوں میں بڑی تعداد میں سڑکوں پر نجی گاڑیوں کی آمد و رفت جاری رہی جبکہ.ٹی آر سی کراسنگ سے لے کر لالچوک تک چھاپڑی فروشوں نے مختلف اشیا کو سجایا اور اس دوران لوگوں کی ایک بڑی تعداد خرید و فروخت میں نظر آرہی تھی. شہر کی سڑکوں پر سینکڑوں ریڈی والوں کو بھی دیکھا گیا جو سبزی اور پھل فروخت کر رہے تھے .ادھر پائین شہر میں ہڑتال کا اچھا خاصا اثر نظر آیا اور اکا دکا پرائیویٹ گاڑی کی سڑکوں پر نقل و حمل کرتی ہوئی نظر آرہی تھی جبکہ دکان مکمل طور پر بند تھے اور چھاپڑی فروشوں کا بھی کئی نام و نشان نہیں تھا. شہر خاص کے متعدد علاقوں سے اگرچہ کرفیو اور بندشوں کا سلسلہ ہٹایا گیا تھا تاہم گلی کوچوں اور سڑکوں کے علاوہ حساس جگہوں پر اضافی فورسز اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی اور وہ متحرک تھے. شہر کے کئی حساس علاقوں میں فورسز اور پولیس کی بکتر بند گاڑیاں بھی گشت کرتی ہوئی نظر آئی. ادھرپائین شہرمیں ہڑتال کا زیادہ اثر دیکھنے کو ملا اور وہاں اور ہر طرح کے کاروباری اور تجارتی ادارے بند رہے.تاہم ہڑتال کے باوجود سیول لائنز اور مضافاتی علاقوں میں نجی گاڑیوں کی آمدورفت میں ہر گذرتے دن کے ساتھ اضافہ درج کیا جارہا ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top