کس کی جیت؟حکومت کی یا عمران خان کی؟سپریم کورٹ میں کیا ہوا؟تفصیلات سامنے آگئیں

nawaz-supreme-768x384

اسلام آباد  (قدرت روزنامہ01نومبر2016)سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کیخلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران حکومت اور تحریک انصاف نے معاملے کی تحقیقات کیلئے جو ڈیشل کمیشن کے قیام پر رضامندی ظاہر دی ہے جس کے بعد عدالت عظمیٰ نے حکومت اور پاکستان تحریک انصاف سے تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر (کل) جمعرات تین نومبر کو تحریری جواب طلب کرلیا ہے جبکہ ججز نے ریمارکس نے دیئے ہیں کہ کوئی ہدایت نہیں دے رہے ٗسیاسی سوال میں بھی نہیں پڑینگے ٗامید ہے فریقین اپنے گھوڑوں کو روک لیں گے ٗ فریقین ملک کو ہیجانی صورتحال سے نکالنے کیلئے تحمل کا مظاہرہ کریں،عدالت مسئلے کو حل کریگی ٗتنازعات کے حل کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہے ٗ عدالت فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کریگی ٗمجوزہ کمیشن کو سپریم کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے ٗ کمیشن عدالت عظمی ہی کو رپورٹ پیش کریگا .منگل کو سپریم کورٹ آف پاکستان میں پاناما لیکس کے معاملے پر وزیراعظم نواز شریف کیخلاف پاکستان تحریک انصاف ٗ جماعت اسلامی ٗ عوامی مسلم لیگ ٗجمہوری وطن پارٹی اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر درخواستوں پر چیف جسٹس مسٹر جسٹس انور ظہیر جمالی کی سربراہی میں جسٹس آصف سعید کھوسہ ٗجسٹس امیرہانی مسلم ٗجسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الحسن پر مشتمل سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بینچ نے پاناما لیکس کی درخواستوں پر سماعت کی.

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس آف پاکستان نے استفسار کیا کہ آیا تمام فریقین نے پاناما لیکس کے حوالے سے جواب جمع

کروا دیا ہے جس پر جسٹس شیخ عظمت سعید نے کہا کہ نیب کے سوا کسی بھی فریق نے جواب جمع نہیں کرایا.جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت اور سڑکوں پر ایک ہی سوال ہے کہ جائیداد آمدن سے زائد بنائی گئی.جسٹس امیر ہانی مسلم نے ریمارکس دئیے کہ پیسہ باہرجائے تو معاملہ نیب کے اختیار میں آتا ہے.انہوں نے کہا کہ اگر ذرائع آمدن سے زیادہ پیسہ ہو تو نیب تحقیقات کر سکتا ہے اس نے اب تک کارروائی نہیں کی ٗچیف جسٹس نے انور ظہیر جمالی نے کہا کہ 2ہفتے سے اس کیس میں سنسنی پھیلائی جارہی ہے،ہائی پروفائل کیس ہے، عوام کی نظریں اس پر ہیں.سماعت کے دور ان طارق اسد ایڈوکیٹ نے اپنے دلائل میں کہاکہ حکمران ہم پر مسلط ہیں جبکہ نیب نے پاناما لیکس کے حوالے سے تحقیقات نہیں کیں جس پر چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ حکمرانوں کو ہم ہی نے منتخب کیا ہے آپ پاناما لیکس پر ہی فوکس کریں عدالت نے نیب کے جواب کو افسوسناک قرار دیاجسٹس شیخ عظمت سعید نے نیب پراسیکیوٹر سے پوچھا کہ آپ نے معاملے کی تحقیقات کیوں نہیں کیں؟ جسٹس امیر ہانی مسلم نے کہا کہ کیا نیب کے پاس شواہد اکٹھے کرنے کا اختیار نہیں ہے؟، عوام شواہد ان کے پاس لے کر آئیں گے تو نیب کارروائی کریگا جسٹس آصف سعید کھوسہ نے بھی نیب کے جواب پر اظہار برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیب نے روز مرہ کارروائی سے انحراف کیوں کیا؟ انہوں نے کہاکہ ہمیں بڑا واضح پیغام مل گیا ہے کہ کوئی ادارہ اپنا کام نہیں کرنا چاہتا، اب اس معاملے پر کمیشن بنانے کی ضرورت نہیں، سپریم کورٹ اس کیس کو خود دیکھے گی ٗجسٹس عظمت سعید نے کہا کہ اب کچھ نہ کرنے والوں سے بھی نمٹ لیں گے.سماعت کے دور ان وزیر اعظم نواز شریف کے وکیل اور سابق اٹارنی جنرل سلمان اسلم بٹ نے کہاکہ انھیں پانچ دن قبل ہی وکیل مقرر کیا گیا ہے لہٰذا انھیں جواب داخل کروانے کیلئے مزید مہلت درکار ہے اس پر چیف جسٹس نے کہاکہ پوری قوم کی نظریں پاناما لیکس پر لگی ہیں اس لیے جواب جمع ہونا چاہیے تھا.انہوں نے کہاکہ بادی النظر میں یہ معاملہ عوامی ہے اس لیے اس کی روزانہ کی بنیاد پر سماعت ہو سکتی ہے.سماعت کے دوران پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے کہاکہ ہمارا مطالبہ تھا کہ پاناما لیکس کا معاملہ سامنے آتے ہی اس کی تحقیقات شروع کر دی جاتیں.انھوں نے کہا کہ اس معاملے میں نیب، ایف آئی اے اور ایف بی آر تاخیر اور اپنا کام احسن طریقے سے سرانجام نہ دینے کے ذمہ دار ہیں.اس پر عدالت نے نیب کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بادی النظر میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ نیب اور دیگر اسے معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے میں سنجیدہ نہیں تھے. سماعت کے دور ان چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہاکہ 20 اکتوبر کو سپریم کورٹ نے کیس 2 ہفتے میں لگانے کا فیصلہ کیا تاہم خبر لگی کہ عدالت نے کیس کی تاریخ پر نظر ثانی کردی ٗیہ سرخی کیسے لگی؟ میڈیا کو ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا چاہیے.پاکستان کے انصاف کے چیئر مین عمران خان کے وکیل حامد خان نے کہاکہ اپریل میں پاناما کا معاملہ سامنے آیا ٗپاناما دستاویات میں میں اہم شخصیات کی آف شور کمپنیوں کا بتایا گیا جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا کسی نے بھی پاناما دستاویزات پر اعتراض نہیں کیا؟ تو حامد خان نے جواب دیا کہ کسی نے بھی اعتراض نہیں کیا. حامد خان نے کہاکہ وزیراعظم کے بچوں کی فرمز کا ویب سائٹ کے ذریعے علم ہوا .عدالت نے پوچھا کہ نیلسن اور نیسکول کب بنائی گئیں جس پر حامد خان نے کہا کہ ایک ہی فلور پر 4 جائیدادوں کا ذکر کیا گیا ہے اور چاروں جائیدادیں 1993 سے 1996 کے درمیان بنائی گئیں.جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ 1993 میں جائیداد کتنے کی خریدی گئی تو حامد خان نے جواب دیا کہ پانامہ لیکس میں جائیدادوں کی قیمت نہیں بتائی گئی.انہوں نے کہا کہ خفیہ دستاویزات کی لیکس اور معلومات کی صداقت سے کسی کو انکار نہیں جس پر جسٹس آصف سعید کھوسہ نے استفسار کیا کہ کیا متعلقہ قانونی فرم نے ان دستاویزات سے انکار کیا؟ تو حامد خان نے جواب دیا کہ جی نہیں اس لاء فرم نے دستاویزات کو چیلنج نہیں کیا جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سوال کیا کہ کیا دستاویزات لیک ہونے پر صحافیوں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ تو حامد خان نے کہا کہ صحافیوں کے خلاف کارروائی کا علم نہیں .حامد خان نے کہا کہ ہم صرف بنیادی شواہد ہی پیش کر سکتے ہیں اورپانامہ پیپرز کی تحقیقات کیلئے سپریم کورٹ کے پاس آئے ہیں. پاکستان تحریک انصاف کے وکیل حامد خان نے جب عدالت سے تحقیقات کا مطالبہ کیا تو بینچ نے کہا کہ سپریم کورٹ نہ تو ٹرائل کورٹ ہے اور نہ ہی کوئی تحقیقاتی ادارہ ہے تاہم چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے کہا کہ اگر سپریم کورٹ کے کسی جج کی سربراہی میں کمیشن تشکیل دیا جاتا ہے تو فریقین اس بات کی تحریری یقین دہانی کروائیں کہ اس کے فیصلے کو تسلیم کیا جائیگا.اس پر فریقین نے اپنے رہنماؤں سے مشاورت کیلئے مہلت مانگی توسپریم کورٹ نے حکم دیا کہ پاناما لیکس پر تحقیقاتی کمیشن کے قیام کیلئے آج ہی ہدایات لے کر عدالت کو آگاہ کیا جائے.سپریم کورٹ نے کہاکہ کمیشن کی سربراہی کون کریگا اور اس میں کون ہوگا اس کا فیصلہ عدالت کریگی اور دوسرے فریق کی رضامندی کے بعد عدالت کمیشن کے قیام کا فیصلہ کریگی. بعد ازاں سپریم کورٹ نے حکومتی وکیل اور درخواست گزاروں کے وکلاء کو جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے حوالے مشاورت کا وقت دیتے ہوئے سماعت ایک بجے تک ملتوی کردی گئی .وقفے کے بعد سماعت دوبار ہ شروع ہوئی تو وزیر اعظم محمد نواز شریف اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے وکلاء نے پانا ما معاملے کی تحقیقات کیلئے کمیشن کے قیام پر رضا مندی ظاہر کر دی .وزیراعظم نواز شریف کے وکیل سلمان اسلم بٹ نے عدالت عظمیٰ کو بتایا کہ وزیراعظم لندن کی جائیدادوں کی تحقیقات کیلئے راضی ہیں اور الزامات درست ثابت ہوئے تو وزیراعظم نتائج تسلیم کریں گے.پی ٹی آئی رہنما شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن کے ٹی او آرز پر کمیشن کی تشکیل پر اعتماد کا اظہار کیا جس پر عدالت نے فریقین سے تحقیقاتی کمیشن کے ٹرمز آف ریفرنسز (ٹی او آرز) پر (کل) جمعرات تین نومبر کو تحریری جواب طلب کرلیا .سماعت کے دور ان چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ہم کوئی ہدایت نہیں دے رہے،سیاسی سوال میں بھی نہیں پڑیں گے،امید کرتے ہیں کہ فریقین اپنے گھوڑوں کو روک لیں گے . چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے فریقین کوا پنے جواب جمع کرانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ہر فریق کو اپنا موقف پیش کرنے کا موقع دیں گے ٗاس حوالے سے کوتاہی برداشت نہیں کریں گے.چیف جسٹس نے کہا کہ ملک کو ہیجانی صورتحال سے نکالنے کیلئے تحمل کا مظاہرہ کریں،عدالت اب اس مسئلے کو حل کریگی .عدالت نے قرار دیا کہ مجوزہ کمیشن کو سپریم کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہوں گے اور کمیشن عدالت عظمی ہی کو رپورٹ پیش کریگا.سماعت کے دوران چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ پاناما لیکس سے پورا ملک متاثر ہوا، عدالت کا کام ملک کو انتشار اور بحران سے بچانا ہے اس موقع پر جسٹس آصف سیعد کھوسہ نے کہا کہ تنازعات کے حل کا سب سے بڑا ادارہ سپریم کورٹ ہے اور عدالت فیصلہ کرنے میں تاخیر نہیں کرے گی.بی بی سی کے مطابق عدالت نے کہاکہ اگر فریقین پاناما لیکس کی تحقیقات کیلئے تشکیل کردہ کمیشن کے ضوابط کار پر متفق نہ ہوئے تو عدالت خود ضوابطِ کار بنائیگی. بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سماعت تین نومبر کو دن گیارہ بجے تک ملتوی کر دی .
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top