پی ٹی آئی کا 2 نومبر کا دھرنا یوم تشکر میں تبدیل

اسلام آباد (قدرت روزنامہ01نومبر2016) پاکستان تحریک انصاف نے 2 نومبر کے اپنے دھرنے کو یوم تشکر میں تبدیل کردیا.

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں پاناما لیکس کے معاملے پر ہونے والی سماعت کو اخلاقی فتح قرار دیا اور اس فتح پر 2 نومبر کو یوم تشکر منانے کا اعلان کیا.

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ کارکن گھر جائیں، کیوں کہ کل دوبارہ اسلام آباد آنا ہے لیکن احتجاج کرنے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر یوم تشکر منانے کے لیے آنا ہے.

انہوں نے کہا کہ 2 نومبر کو دوپہر دو بجے پریڈ گراؤنڈ پر پاکستان تحریک انصاف یوم تشکر منائے گی کیوں کہ تاریخ میں پہلی بار کسی طاقتور کی تلاشی لی جارہی ہے.

عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو سن کر بے حد خوشی ہوئی، سپریم کورٹ نے فیصلہ کیا کہ 3 تاریخ سے نواز شریف کی تلاشی شروع ہوگی.

انہوں نے کہا کہ ’ریاستی اداروں سے انصاف نہ ملنے کے بعد ہم نے میں فیصلہ کیا تھا کہ ہم اسلام آباد آئیں گے اور اسلام آباد کو بند کریں گے اور ہم نے صرف دو شرائط رکھی تھیں کہ یا نواز شریف استعفیٰ دیں یا پھر تلاشی دیں‘.

انہوں نے نواز شریف سے جواب طلب کرنے پر سپریم کورٹ کو پورے پاکستان کی طرف سے خراج تحسین پیش کیا.

عمران خان نے خاص طور پر اپنے کارکنوں کو مبارکباد دی اور کہا کہ میرے کارکنان ملک کے لیے جیلوں میں ہیں میں ان کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں.

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کو انہوں نے مخاطب کرکے کہا کہ ’انہوں نے پی ٹی آئی کے لیے نہیں بلکہ ملک کی خاطر پولیس کی شیلنگ کا سامنا کیا‘.

عمران خان نے کہا کہ ’شہباز شریف نے پرویز خٹک کو فون کیا جس پر انہوں نے جواب دیا میں دعا کرتا ہوں کہ وہ دن آئے جب شہباز شریف تمہیں بھی ایسی شیلنگ کا سامنا کرنا پڑے‘.

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ہم سے درخواست کی کہ اب چونکہ سپریم کورٹ میں کیس شروع ہوچکا ہے لہٰذا آپ اپنا احتجاج ختم کریں.

ان کا کہنا تھا کہ ’ہم نے سپریم کورٹ کے کہنے پر 2 نومبر کو اللہ کا شکر ادا کریں گے، یوم تشکر منائیں گے اور پریڈ گراؤنڈ پر 10 لاکھ لوگ اکھٹا کریں گے‘.

عمران خان نے کہا کہ کل کے جلسے میں آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان بھی کریں گے.

انہوں نے صوابی میں موجود کارکنوں کو بھی ہدایت کی کہ وہ گھر جائیں اور 2 نومبر کو مکمل تیاری کے ساتھ اپنے بچوں اور اہل خانہ کو لے کر آئیں.

انہوں نے کہا کہ ’اگر پولیس کی شیلنگ سے کوئی کارکن شہید ہوا تو وزیر اعلیٰ پنجاب کے خلاف ایف آئی آر درج کرائیں گے‘.

نعیم الحق نے سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہمارا دھرنا ہوگا اور اس میں لاکھوں لوگ آئیں گے‘.

تاہم تحریک انصاف کی پارٹی قیادت نے سپریم کورٹ میں پاناما کیس کی سماعت شروع ہونے کے بعد فیصلے پر نظر ثانی کی اور دو نومبر کو دھرنے کے بجائے یوم تشکر منانے کا اعلان کردیا.

نعیم الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ جس کمیشن کا قیام ہونے جارہا ہے یہ بات کی تہہ تک پہنچ جائے گا اور سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ وہ جلد از جلد اس کمیشن کا قیام عمل میں لائے گی اور جلد از جلد اس کی کارروائی شروع کریں گے.

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہم کرپشن کے خلاف اپنی جدوجہد کو روک دیں، ہم اس جدوجہد کو جاری رکھیں گے اور آگے بڑھائیں گے.

انہوں نے کہا تھا کہ ’نواز شریف کی صورت میں ایک اور شیخ مجیب الرحمٰن پیدا ہوگیا ہے جنہوں نے خیبر پختونخوا کو مکمل طور پر پنجاب سے علیحدہ کردیا‘.

خیبر پختونخوا کے کارکنوں کو پنجاب میں داخل نہ ہونے دینے کے حوالے سے نعیم الحق کا کہنا تھا کہ یہ ملکی یکجہتی اور قومیت پر ضرب ہے اور اس سے جو نفرتیں پھیلیں گی اس کی ساری ذمہ داری نواز شریف پر ہوگی.

نعیم الحق نے کہا تھا کہ تحریک انصاف کا دھرنا کرپشن کے خلاف ہے اور پاناما لیکس مجموعی قومی کرپشن کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے، یہاں پورا نظام کرپشن سے بھرپور ہے.

انہوں نے کہا کہ عمران خان کی 20 سالہ جدوجہد کا مقصد یہ ہے کہ ملک سے کرپشن کا اس طرح خاتمہ کیا جائے گا وہ دوبارہ سر نہ اٹھاسکے ورنہ پاکستان آگے نہیں بڑھ سکتا.

دھرنا ختم کرنے کا خیر مقدم

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے عمران خان کی جانب سے دھرنا ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے تمام راستوں سے کنٹینرز ہٹانے کا حکم دے دیا.

سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ’ عمران خان کے دھرنا ختم کرنے کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں‘.

واضح رہے کہ عمران خان کے 2 نومبر کے دھرنے کے حوالے سے اسلام آباد کی مختلف شاہراہوں کو کنٹینرز لگاکر بند کردیا گیا ہے.

کیا انصاف مانگا عدالت پر دباؤ ڈالنا ہے؟ عمران خان

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان گزتشہ شب وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے قافلے پر کی جانے والی شیلنگ پر شدید تنقید کی.

بنی گالہ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ حکومت نے بے انتہا شیلنگ کی جیسے کہ کوئی دشمن کی فوج آرہی ہو.

انہوں نے پرویز خٹک اور تحریک انصاف کے کارکنوں کو ان کی بہادری پر خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ حکومت نے جو کچھ کیا اس سے صوبوں کے درمیان تعصب بڑھے گا.

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت کہتے ہے کہ خیبر پختونخوا سے مسلح جتھہ آرہا ہے ، میں یہ پوچھتا ہوں کہ اگر ان کے پاس اسلحہ تھا تو جب پولیس نے بے رحمانہ شیلنگ کی تو لوگوں نے فائرنگ کیوں نہیں کی؟ اس لیے نہیں کی کیوں کہ ان کے پاس گولیاں تھیں ہی نہیں.

عمران خان نے کہا کہ پولیس کی جانب سے لوگوں پر جو آنسو گیس کے شیل فائر کیے گئے وہ زائد المعیاد تھے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید نقصان پہنچا.

چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ حکومت نے عوام سے جھوٹ بولا کہ مسلح جتھہ آرہا ہے، انہوں نے ایک بار پھر وزیر اعظم نواز شریف کو سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا.

ان کا کہنا تھا کہ ’ایک شخص اپنی کرپشن بچانے کے لیے صوبوں کے درمیان نفرت پیدا کررہا ہے، لوگوں کے حقوق ختم کرنے کے لیے تیار ہے، ظلم کے لیے تیار ہے‘.

عمران خان نے وزیر اعظم نواز شریف کو میاں پاناما شریف کہہ کر بار بار مخاطب کیا اور کہا کہ وہ پیسے کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں اور ملک کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں.

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں یہ معاملہ اٹھائیں گے کہ کس جرم پر تحریک انصاف کے کارکنوں کو مارا جارہا ، اٹھایا جارہا ہے، میں نے کیا جرم کیا ہے جو مجھے گھر میں بند کیا ہوا ہے؟

انہوں نے کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ کل کسی جج نے کہا کہ عمران خان عدالتوں پر دباؤ ڈال رہا ہے، کیا عدالتوں سے انصاف مانگا دباؤ ڈالنا ہے؟

ان کا کہنا تھا کہ ’میں نے عدالتوں پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا میں صرف انصاف مانگ رہا ہوں، اپنا حق مانگ رہا ہوں‘.

جب ان سے پوچھا گیا کہ شیخ رشید کہہ رہے ہیں کہ اب عمران خان کو باہر نکل جانا چاہیے تو اس حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ’کپتان اپنی حکمت عملی کے تحت چلتا ہے اور میری حکمت عملی 2 نومبر کی ہے، 2 تاریخ کو چاہے جو بھی رکاوٹیں ڈال دیں، سڑکیں کھود دیں میں نکلوں گا چاہے پیدل ہی کیوں نہ جانا پڑے‘.

انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے کہ میں خود کو خیبر پختونخوا اور وہاں کے کارکنوں کو اپنے ساتھ لے کر آؤں.

وزیر داخلہ چوہدری نثار کے حوالے سے کہا کہ ’میں ایک ایسے شخص کو دوست کیے مان سکتا ہوں جو ایک مجرم کی چوری بچانے کے لیے لوگوں کے ساتھ یہ برتاؤ کررہا ہے، میں صرف اسے دوست مانتا ہوں جس کا اور میرا نظریہ ایک ہے اور میرا نظریہ پاکستان ہے‘.

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے پاناما لیکس کے حوالے سے وزیر اعظم نواز شریف کو دو آپشنز دے رکھے ہیں ، یا تو وہ استعفیٰ دیں یا پھر خود کو احتساب کے لیے پیش کریں.

پی ٹی آئی نے پاناما کی تحقیقات کے لیے 2 نومبر کو اسلام آباد میں احتجاج کرنے اور دارالحکومت کو ’لاک ڈاؤن‘ کرنے کا اعلان کررکھا ہے اور اس مقصد کے لیے عمران خان نے ملک بھر سے کارکنوں کو بنی گالہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی.

تاہم حکومت کی جانب سے کارکنوں کو بنی گالہ اور اسلام آباد پہنچنے سے روکنے کی بھرپور کوشش کی جارہی ہے، پنجاب اور خیبر پختوانخوا ہے داخلی راستوں کو کنٹینرز لگاکر بند کردیا گیا ہے جبکہ بنی گالہ جانے والے راستوں پر بھی ناکے لگائے گئے ہیں اور پی ٹی آئی کے سینئر عہدے داروں اور ارکان اسمبلی کو بھی بنی گالہ جانے سے روکا جارہا ہے.

عمران خان کو لال حویلی آنا چاہیے تھا

پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ شیخ رشید نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں 28 اکتوبر کو ہر حال میں لال حویلی آنا چاہیے تھا.

شیخ رشید نے کہا کہ ’ہم حالت جنگ میں ہیں اس لیے کوئی شکوہ نہیں کررہا لیکن عمران خان کو آنا چاہیے تھا، 13 اگست کو بھی یہی ہوا تھا‘.

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا تحریک انصاف کے اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم مانے گی تو شیخ رشید نے کہا کہ ’یہ مجھے نہیں پتہ، تحریک انصاف سے پوچھیں، میں صرف عمران خان کی حد تک پی ٹی آئی کے ساتھ ہوں‘.

سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ تمام راستے بند ہیں لیکن لفٹ لے کر سپریم کورٹ پہنچا.

شیخ رشید نے کہا کہ پرویز خٹک کے پرامن احتجاج پر وحشیانہ تشدد کیا گیا، پنجاب کے حکمران طاقت کا غیرقانونی استعمال کررہےہیں، تمام راستوں کو بند کیا جارہا ہے،جس فرعونیت کامظاہرہ کیا گیا اس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی.

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ میں اپنا کیس خود لڑنے جارہا ہوں، عدالت آتے ہوئے مجھے تین چار جگہ روکا گیا،حکمرانوں کو کرسی سے اتارنے تک چین سے نہیں بیٹھوں گا.

شیخ رشید نے کہا کہ میں ماضی میں جس طرح باہر نکلا اسی طرح دو نومبر کو بھی باہر نکلوں گا،حکومت چاہتی ہے پانامالیکس سےمتعلق کمیٹی میں صرف بیوروکریٹس اورپولیس ہو.

پرویز مشرف کی حکومت میں شامل رہنے کے حوالے سے سوال کے جواب پر شیخ رشید نے کہا کہ ’مجھے اس پر کوئی شرمندگی نہیں، اگر مشرف پر کرپشن کا ایک الزام بھی ثابت ہوجائے تو شام تک سیاست چھوڑ دوں گا‘.

ان کا کہنا تھا کہ پرویز مشرف آمر تھے لیکن چوروں سے بہتر تھے، میں ان کی حمایت نہیں کررہا، انہیں دوبارہ سیاست میں نہیں آنا چاہیے.

مشرف دور میں اکبر بگٹی کی موت کے حوالے سے سوال کے جواب میں چیخ رشید نے کہا کہ جس طرح اکبر بگٹی کو مارا گیا وہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے.

شیخ رشید نے فوج کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’میں عوام کے ساتھ ہوں، جو لوگ قومی سلامتی کو مودی کے ہاتھوں بیچتے ہیں،جو لوگ اردگان بننا چاہتے ہیں، پاک فوج فیصلہ کرے کہ اسے اردگان کے ساتھ رہنا ہے یا جمہوریت کے ساتھ رہنا ہے‘.

انہوں نے کہا کہ پاک فوج فیصلہ کرے کہ کس وجہ سے امریکی کانگرس میں کاغذ لہرایا گیا کہ وہ دہشت گردوں کے ساتھ ہے؟

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top