ہمارے ہاں چکن نگٹس کا شوق غیر معمولی حد تک عام ہوچکا ہے جبکہ ہمارے بچے تو انہیں دیوانگی کی حد تک پسند کرتے ہیں

بوسٹن(قدرت روزنامہ15فروری2017)ہمارے ہاں چکن نگٹس کا شوق غیر معمولی حد تک عام ہوچکا ہے جبکہ ہمارے بچے تو انہیں دیوانگی کی حد تک پسند کرتے ہیں، لیکن کیا یہ غذا اس قابل ہے کہ اسے کھایا بھی جائے؟ امریکا کے ممتاز علمی مرکز یونیورسٹی آف مسی سپی میڈیکل سنٹر نے حال ہی میں ایک چشم کشا تحقیق کرکے چکن نگٹس کا پول کھول دیا ہے. ڈاکٹر رچرڈ ڈی شازو کی سربراہی میں کی گئی تحقیق میں معلوم ہوا ہے کہ اچھی سے اچھی کمپنیوں کے چکن نگٹس میں بھی نصف سے زائد حصہ چربی، انتڑیوں، پسی ہوئی ہڈیوں اور دیگر ایسے ہی اجزاء4 پر مشتمل ہوتا ہے.

تحقیق میں جب چکن نگٹس کا تجزیہ کیا گیا تو ان کا نصف سے زائد حصہ صحت بخش گوشت کے علاوہ اجزاء4 پرمشتمل تھا اور اس میں صرف 15 سے 19 فیصد پروٹین پائی گئی. ان میں جو گوشت پایا گیا وہ بھی عمومی معیار کے مطابق نہ تھا. ڈاکٹر ڈی شازو کا کہنا ہے کہ چکن نگٹس کا شمار کم غذائیت والی مضر صحت خوراک میں کیا جاسکتا ہے. ماہرین غذائیات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر آپ کے بچے چکن نگٹس کے شوقین ہیں تو یہ جان لیں کہ آپ خاصی رقم خرچ کرکے ان کے لئے بیماری خرید رہے ہیں. یہ تحقیق سائنسی جریدے ’’دی امریکن جنرل آف میڈیسن‘‘ میں شائع کی گئی ہے.

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top