یہ بات درست ہے کہ کبھی مرغی کم چکنائی والی غذا ہوتی تھی لیکن اب ایسانہیں ہے

لندن(قدرت روزنامہ11فروری2017)مرغی کا گوشت تقریباً ہر کسی کو پسند ہوتاہے اور دنیا بھر میں اسے بکثرت کھایاجاتا ہے. کوئی اسے نگٹس کی صورت میں کھاتا ہے تو کوئی بریانی کی صورت میں، کوئی چکن روسٹ پسند کرتا ہے تو کوئی اس سے قورمے کی صورت میں لطف اندوز ہوتا ہے.

اس کی پسندیدگی کی نمایاں وجوہات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس میں چکنائی کی مقدار بہت کم ہوتی ہے، لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ یہ بات درست ہے کہ کبھی مرغی کم چکنائی والی غذا ہوتی تھی لیکن اب ایسانہیں ہے. اس کی بنیادی وجہ پولٹری فارم کے جدید طریقے ہیں، جن کی وجہ سے مرغی کے گوشت کی ساخت ہی تبدیل ہوکررہ گئی ہے.

 دی مرر کی رپورٹ کے مطابق ادارے ’کمپیشن ان ورلڈ فارمنگ‘ کی جانب سے حال ہی میں ایک ویڈیو ریلیز کی گئی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ پولٹری فارم میں تیار کی گئی مرغی کے گوشت میں مخصوص قسم کی سفید دھاریاں ہوتی ہیں، جبکہ پولٹری فارم کے برعکس کھلے اور صحت مند ماحول میں قدرتی غذا پر پرورش پانے والی مرغیوں کے گوشت میں یہ سفید دھاریاں نہ ہونے کے برابرہوتی ہیں. تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ آج کل پولٹری فارمز میں مرغیوں کو جلد از جلد بڑا اور بھاری کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کے نتیجے میں ان کے گوشت میں چکنائی نسبتاً زیادہ ہوجاتی ہے. یہ سفید دھاریاں دراصل جمع شدہ چربی ہی ہوتی ہے.
 00
یونیورسٹی آف آرکنسا اینڈ ٹیکسس اے اینڈ ایم کی تحقیق میں بھی بتایا گیا ہے کہ مرغی کے گوشت میں سفید دھاریاں پہلے صرف چھاتی کے گوشت میں کسی حد تک نظر آتی تھیں لیکن اب ان کی کثافت میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے. تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ سفید دھاریوں کا مطلب صرف زیادہ چکنائی نہیں ہے بلکہ یہ گوشت کی کمتر کوالٹی اور کم غذائیت کی نشانی بھی ہے. ماہرین نے اپنی حالیہ تحقیق میں 285 مرغیوں کے گوشت کا معائنہ کیا تھا، جن میں سے 96 فیصد میں سفید دھاریاں پائی گئیں.
..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top