بلڈ کلاٹ کی 9 نشانیاں

03

(قدرت روزنامہ9جنوری-2016)کئی بار رگوں میں خون کا جمنا اچھا ہوتا ہے خاص طور پر اگر آپ زخمی ہو اور خون کا بہاﺅ روکنا چاہتے ہو. مگر اکثر اوقات خون کا جمنا یا کلاٹ جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے خاص طور پر اگر وہ مسلز کے قریب شریانوں میں ہو.

اگر آپ طیارے یا گاڑی میں طویل سفر کرتے ہیں، خون کے جمنے کی خاندانی تاریخ ہو یا نیچے درج علامات سامنے آئیں تو فوری طور پر طبی امداد کے لیے رجوع کریں. واضح رہے کہ خون کا جمنا ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت متعدد دیگر امراض کا باعث بنتا ہے جبکہ پھیپھڑوں اور دیگر جسمانی اعضاءکو نقصان پہنچا سکتا ہے. ٹانگوں کی اکڑن جن لوگوں کو بلڈ کلاٹ کا تجربہ ہوتا ہے ان کی ٹانگ اکڑ جاتی ہے اور کھچاﺅ محسوس ہونے لگتا ہے، جس کی وجہ کسی بڑی شریان میں خون کا لوتھڑا بننا ہوتا ہے، ٹانگ میں بلڈ کلاٹ کو ایک دن کے لیے نظرانداز کرنا پھیپھڑوں کے مسائل کا باعث بن سکتا ہے جو کہ انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے. جھنجھناہٹ کسی ایک عضو میں مسلسل ہونے والی جھنجھناہٹ یا سنسناہٹ بھی خون کے جمنے کی عام علامات میں سے ایک ہے، جس میں سوئیاں چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں اگر آپ ہائی بلڈ پریشر کے مریض ہیں تو اس طرح کی کسی بھی جھنجھناہٹ پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے. جلد بے رنگ ہونا بلڈ کلاٹ خون کے معمول کی گردش کو متاثر کرتی ہے جس کے نتیجے میں متاثرہ حصہ زرد یا بے رگ ہوجاتا ہے، اگر آپ کی ایک ٹانگ کا کوئی حصہ زیادہ زرد یا جسمانی رنگت سے ہٹ کر لگے تو یہ خون جمنے کی علامت ہے اور ایسا ہونے پر فوری طور پر ڈاکٹر کو دکھانا چاہئے. چھونے پر جلد گرم یا ٹھنڈی ہونا ایک اور عام علامت جلدی درجہ حرارت میں تبدیلی ہے، رنگت بدلنے کی طرح متاثرہ حصے میں دوران خون متاثر ہونے سے وہاں کا درجہ حرارت بھی بدلتا ہے، جیسے گرم یا ٹھنڈا ہوجاتا ہے، ایسا مسلسل ہو تو ڈاکٹر سے رجوع کیا جانا چاہئے. ایک ہاتھ یا ٹانگ کا سوجنا کسی ایک ٹانگ یا ہاتھ کا سوجنا خون کے جمنے کی واضح ترین علامات میں سے ایک ہے، درحقیقت خون کے جمنے کے نتیجے میں ٹانگوں تک خون کا پہنچنا بلاک ہوجاتا ہے اور وہ خون اس جگہ جمع ہونے لگتا ہے جہاں کلاٹ ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سوجن ہونے لگتی ہے، اگر کبھی آپ کا ہاتھ یا ٹانگ سوج جائے اور ساتھ میں درد بھی ہو تو فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے. بہت زیادہ پسینہ آنا موسم گرم نہ ہو پھر بھی مسلسل پسینہ آرہا ہو تو یہ بھی بلڈ کلاٹ کی نشانی ہوسکتی ہے جو کہ پھیپھڑے یا دل کے قریب ہوسکتا ہے، یہ بہت سنگین قسم کی علامت ہوتی ہے جس کا فوری علاج ہونا ضروری ہوتا ہے. سانس لینے میں مشکل یا تیز دھڑکن پھیپھڑوں میں خون کا جمنا آکسیجن کے بہاﺅ کو سست کردیتا ہے، ایسا ہونے پر دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے جبکہ سانس گھٹنے لگتا ہے. آپ کو غشی کا احساس بھی ہوسکتا ہے ایسا ہونے پر فوری طور پر طبی امداد حاصل کریں. سینے میں درد سینے میں درد ہوسکتا ہے کہ آپ کو لگے کہ ہارٹ اٹیک ہے مگر یہ کلاٹ بھی ہوسکتا ہے، درحقیقت دونوں کی علامات ملتی جلتی ہیں، خون جمنے سے ہونے والا درد تیز اور خنجر کی طرح محسوس ہوتا ہے خاص طور پر گہری سانس لینے پر بدتر ہوجاتا ہے، ہارٹ اٹیک میں مریض کو کندھوں، جبڑوں یا گردن تک درد پھیلتا ہوا محسوس ہوتا ہے. بغیر کسی وجہ کے کھانسی اگر سانس گھٹنے، دل کی دھڑکن تیز ہونے یا سینے کے درد کے ساتھ کھانسی ہورہی ہو جو رک نہ رہی ہو تو یہ کلاٹ کی واضح علامت ہے، یہ کھانسی خشک ہوتی ہے مگر کئی بار بلغم یا خون بھی نکلتا ہے، کسی قسم کا شک ہونے پر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top