مقبوضہ کشمیر،پانپور میں مجاہدین کا بھارت کے فوجی قافلے پر حملہ ،3اہلکار جہنم واصل،4زخمی،فوج کا کف افسوس، ہاتھ کچھ نہ آیا

سرینگر228پلوامہ(اے این این) مقبوضہ کشمیر کے علاقے پانپور میں مجاہدین کا بھارت کے فوجی قافلے پر حملہ ،3اہلکار جہنم واصل،4زخمی،فوج کا کف افسوس، ہاتھ کچھ نہ آیا، مجاہدین نے کدلہ ہل میں کارروائی دن دیہاڑے کی ،فوجی قافلے میں شامل ایک گاڑی کو چھلنی کر دیا،نجی ڈرائیور کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع، غیر متوقع حملے نے فوجی اہلکاروں کو سکتے میں ڈال دیا، اور وہ بو کھلاہٹ کے عالم میں جان بچانے کیلئے بھاگتے رہے ،بھارتی فوجی بوکھلاہٹ کے عالم میں بھارتی فوج کا بندوق کی ایک میگزین قبضے میں لینے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ وادی میں پر تشدد احتجاج کے 163روز ہڑتال میں نرمی،کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش نہ آیا،لوگوں نے کھل کر خریداری کی ،بعض علاقوں میں جزوی ہڑتال رہی.بھارتی میڈیا کے مطابق مجاہدین نے مقبوضہ کشمیر کے علاقے پانپور میں اس سال چوتھی مرتبہ بھارتی فورسز کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند فائرنگ کی جس کے دوران3 فوجی اہلکار ہلاک جبکہ دو اہلکاروں سمیت ایک شہری بھی زخمی ہوا.

پولیس کے مطابق کدلہ بل پانپور میں موٹر سائیکل پر سوارمجاہد ین نے جموں سے سرینگر کی طرف جانے والے بھارتی فوج کے ایک قافلے میں شامل گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی ، جس کی زد میں آکر 3 فوجی اہلکار موقعہ پر ہی ہلاک دو زخمی ہوئے.عینی شاہدین نے بتایا کہ اچانک اور غیر متوقع گولیوں کی گونج سے علاقے میں زبردست افراتفری اورخوف وہراس کی لہر پھیل گئی جس کے باعث بھارتی فوجی بھی سکتے میں آگئے اور بوکھلاہٹ کے عالم میں ادھر ادھر بھاگ کر جان بچانے کی کوشش کرتے رہے.عینی شاہدین جبکہ فائرنگ سے نواحی علاقوں میں اتھل پتھل مچ گئی ، راہگیراور چھاپڑی فروش محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے جس کے نتیجے میں علاقے میں آنا فانا سناٹاچھا گیا. اس موقعہ پر فوجی اہلکاروں نے جواب میں گولیاں چلائی تاہم مجاہد ین فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے.گولیوں کے تبادلے میں اعجاز احمد نامی ایک تویرا ڈرائیور کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی ہے جسے سب ڈسٹرکٹ اسپتال پانپور میں داخل کرایا گیا.واقعے کی خبر سنتے ہی اعلی فورسز اور فوجی افسران کے علاوہ پولیس افسران بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور صورتحال کا جائزہ لیا. سرینگر میں تعینات دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیا نے واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے میڈیا کو بتایا کہ جموں سے آ نے والے فوجی کانوائے پر مجاہدین نے حملہ کیا اور گولی باری کی زد میں آکر36 آر آر سے وابستہ ایک جبکہ 51آرآر سے وابستہ2اہلکار زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر بادامی باغ کے92فوجی اسپتال پہنچایا گیا جہاں وہ دم توڑ بیٹھے.انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ مجاہدین اپنے پیچھے بندوق کا ایک میگزئن بھی چھوڑ کر فرار ہو گئے جبکہ فوج اور فورسز دستوں نے پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر مفرورمجاہدین کی تلاش بڑے پیمانے پر شروع کی. واقعے کے فوری بعد فوجی ، فورسز ، ٹاسک فورس اور پولیس کے اہلکار یہاں نمودار ہوئے اور پورے علاقے کو محاصرے میں لیکر تلاشی کارروائی شروع کر دی گئی.مقامی لوگوں کے مطابق فوری طور سرینگر جموں شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بھی روک دی گئی ، جس کے نتیجے میں پانپور کے دونوں اطراف شاہراہ پر بڑی تعداد میں مسافر و مال بردار اور نجی گاڑیاں درماندہ ہو کر رہ گئیں. کدلہ بل پانپور اوراس کے ملحقہ علاقوں میں پولیس وفورسز کی باری جمعیت کو تعینات کیا گیا ہے اور کسی کو بھی گھروں سے باہر آنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے کیونکہ پولیس وفورسز کو خدشہ ہے کہ موٹر سائیکل پر سوار مجاہدین آس پاس علاقوں میں ہی چھپے بیٹھے ہیں. فورسز نے مفرور مجاہدین کو تلاش کرنے کیلئے سونگھنے والے کتوں کی بھی خدمات حاصل کی ہے.ادھرآئی جی آپریشنز سی آر پی ایف نے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ایک موٹر سائیکل پر سوار مجاہدین نے سیکورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کیلئے اندھا دھند فائرنگ کی.ا نہوں نے کہا کہ ایک فوجی کانوائے میں شامل ایک ایسی بس کونشانہ بنایا گیا، جس میں فوجی اہلکار سفر کر رہے تھے. آئی جی آپریشنز سی آر پی ایف کا مزید کہنا تھا کہ یہ کانوائے جموں سے سرینگر کی طرف آرہی تھی اور اس میں شامل ایک بس کو نشانہ بناتے ہوئے مجاہدین نے اندھا دھند گولیاں چلائیں.اس دوران پانپور میں امسال فوج اور فورسز پر مجاہدین نے چوتھی مرتبہ حملہ کیا جس کے دوران اندھا دھند گولیاں چلائی گئیں،غور طلب بات ہے کہ امسال فروری کی21تاریخ کو مجاہدین نے پانپور میں ای ڈی آئی کے قریب سی آر پی ایف قافلے کو نشانہ بناتے ہوئے اندھا دھند گولیاں چلائیں جس کے نتیجے میں2اہلکار ہلاک جبکہ مزید10زخمی ہوئے.اس دوران مجاہدین نے پانپور میں ہی واقع ای ڈی آئی بلڈنگ میں ہی پناہ لی.اس دوران فورسز اور فوج نے اس عمارت کا محاصرہ کیا اورجھڑپ کے دوران2 کیپٹن سمیت3کمانڈوز ہلاک جبکہ عمارت میں محصور3مجاہد ین بھی جان بحق ہوئے.پانپور میں25جون کو سی آر پی ایف گاڑیوں پر مجاہدین نے گھات لگا کر حملہ کردیا جس کے دوران8 سی آر پی ایف اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ20زخمی ہوئے.فورسز کی جوابی کاروائی کے دوران مختصر سی جھڑپ شروع ہوئی جس میں2مجاہد بھی جان بحق ہوئے.10اکتوبر کو عسکریت پسندوں نے پانپور میں امسال دوسری مرتبہ ای ڈی آئی عمارت میں پناہ لیتے ہوئے فوج پر گولیاں چلائی جبکہ60گھنٹوں تک جاری رہنے والی گولہ باری اور فائرنگ میں12اکتوبر کو2مجاہد جان بحق ہوئے اور اس دوران ایک اہلکار بھی زخمی ہوا.پانپور میں مجموعی طور پر امسال مجاہدین کے حملوں میں2 فوجی افسران سمیت16اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ25 زخمی ہوئے اور جوابی حملوں میں5مجاہد بھی جان بحق ہوئے. دریں اثناء4 مقبوضہ کشمیر میں 163روز جمعہ کو احتجاجی مظاہروں میں آئی تیزی کے بعد ایک مرتبہ پھر وادی میں سکوت چھایا رہا اس دوران ہڑتال میں نرمی کی گئی جس دوران لوگوں نے کھل کر خریداری کی. اس دوران کسی بھی جگہ کوئی بھی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا. تاہم بعض مقامات پر جزوی ہڑتال رہی جس کے دوران مسافر و مال بردار گاڑیوں کے علاوہ نجی گاڑیوں کی نقل وحمل جاری رہی تاہم دکان،کاروباری مراکز اور اسکول مقفل رہیں.شہر کے سول لائنز علاقوں میں گاڑیوں کی نقل وحمل کا سلسلہ چلتا رہا تاہم بیشتر بازاروں میں دکانیں بند رہیں.بڈگام ضلع کے بیشتر حصوں میں مزاحمتی قائدین کی کال پر مکمل ہڑتال کی گئی جس کے دوران بازار بند رہے.بڈگام، ماگام، بیروہ اور چاڈورہ میں مکمل ہڑتال رہی اورسڑکوں پر صرف پرائیویٹ گاڑیاں ہی چلتی ہوئی نظر آئیں. وسطی ضلع گاندربل میں مکمل ہڑتال رہی تاہم کسی بھی جگہ سے کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا. بانڈی پورہ ضلع بھر میں مزاحمتی قیادت کی جانب سے ہڑتال کی گئی. شمالی قصبہ سوپور میں مکمل ہڑتال کی گئی. ملحقہ علاقوں میں جزوی طور پر ہڑتال کی گئی.بارہمولہ قصبے میں بھی دن بھر مکمل ہڑتال رہی جس کے دوران معمولات زندگی متاثر ہوئے. شمالی قصبہ کپوارہ کے علاوہ ترہگام ،لولاب ،لال پورہ ،سوگام ،کرالہ پورہ اور دیگر مقامات پر سنیچر کو مکمل ہڑتال رہی جس کے باعث پورے ضلع میں عام زندگی مفلوج تھی. اننت ناگ سمیت جنوبی کشمیر کے سبھی اضلاع میں جزوی ہڑتال کی گئی. اس دوران،بجبہاڑہ ،کھنہ بل ،نوگام ،شانگس اور دیگر مقامات پر جزوی ہڑتال جاری رہی. سڑکوں پر مسافر بردار گاڑیوں کے علاوہ نجی گاڑیاں بھی چلتی ہوئیں نظر آئیں جبکہ اس دوران دکانیں بھی جزوی طور پر کھلی ہوئی تھی.کولگام کے کئی علاقوں کے بازاروں میں دکانیں بند رہیں جبکہ سڑکوں سے ٹرانسپورٹ غائب رہا.پلوامہ ،شوپیان سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دن بھرجزوی طور پر ہڑتال کی گئی.اس دوران حساس علاقوں میں فورسز،پولیس اور فوج کا گشت بھی جاری رہا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top