خاندان کے اندر ہی شادیاں کرنے سے کئی میڈیکل مسائل پیدا ہوتے ہیں

لندن(قدرت روزنامہ31مارچ2017)کئی سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ خاندان کے اندر ہی شادیاں کرنے سے کئی میڈیکل مسائل پیدا ہوتے ہیں اور پیدا ہونے والے بچے جنیاتی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں.اس کی وجہ وہ یہ بتاتے ہیں کہ اگر کسی انسان کو جنیاتی مسئلہ درپیش ہوتو اس کے امکانات اُس صورت میں بڑھ جاتے ہیں جب وہ اپنے ہی خاندان میں شادی کرلے لیکن اگر وہ کسی اور خاندان میں شادی کرے گا تو یہ منتقلی رُک جاتی ہے لیکن اس نظریے کو پہلی بار دو سائنسدانوں نے رد کردیا ہے اوراپنی ہی خاندان میں شادی کرنے والے کے خواہشمند افراد کو خوش کردیا ہے.

یونیورسٹی آف میساچیوسٹس کی پروفیسر ڈیانا پال اور نیوزی لینڈ کی یونیورسٹی کے پروفیسر ہمیش سپنسر کاکہنا ہے کہ کزن میرج کی وجہ سے پیدا ہونے والے بچوں میں بیماری کا امکان صرف2فیصد زیادہ ہوتا ہے اور ان میں پیدائش کے وقت پیدا ہونے والے نقائص 4فیصد زائد ہوسکتے ہیں.ان کاکہنا ہے کہ یہ خطرات اتنے ہی ہیں جتنے 40سال سے زائد کی عمر میں ماں بننے والے خواتین کے لئے ہوتے ہیں.ان سائنسدانوں کاکہنا ہے کہ جن ملکوںمیں فرسٹ کزن سے شادیوں کی ممانعت ہے انہیں چاہیے کہ ان قوانین پر نظر ثانی کریں کیونکہ جنیاتی طور پر ایسا کوئی خطرہ موجود نہیں ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top