حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کے موبائل فونز پر پہلے سے ہی صارفین کی جاسوسی کرنے والا سافٹ ویئر انسٹال ہوتا ہے

ممبئی (قدرت روزنامہ19مارچ2017) حال ہی میں سامنے آنے والی ایک رپورٹ میں تہلکہ خیز انکشاف کیا گیا کہ بڑی بڑی کمپنیوں کے موبائل فونز پر پہلے سے ہی صارفین کی جاسوسی کرنے والا سافٹ ویئر انسٹال ہوتا ہے. اس انکشاف نے موبائل فون صارفین کو بے حد پریشان کررکھا ہے اور اکثر لوگ یہ نہیں جانتے کہ کیسے معلوم کریں کہ ان کے موبائل فون پر پہلے ہی کوئی مشکوک سافٹ ویئر انسٹال ہے، اور اگر ایسا سافٹ ویئر موجود ہے تو کیا کیا جائے.

ہندستان ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کمپنی لوسیڈیس ٹیک کے سی ای او ساکت مودی نے موبائل صارفین کو اس حوالے سے کچھ انتہائی مفید مشورے دئیے ہیں. وہ کہتے ہیں کہ خطرے کا سراغ لگانے کے لئے آپ کو اپنے انٹرنیٹ ڈیٹا کے استعمال پر نظر رکھنی چاہیے. مثال کے طور پر اگر آپ ہر مہینے اوسطاً دو جی بی ڈیٹا استعمال کرتے ہیں لیکن کبھی کبھار اچانک استعمال شدہ ڈیٹا میں غیر معمولی اضافہ نظر آتا ہے، جبکہ آپ کا استعمال معمول کے مطابق ہی ہے، تو یہ خطرے کی علامت ہے. یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ آپ کے موبائل فون پر مشکوک سافٹ ویئر موجود ہے. ایسی صورت میں آپ کو اپنا موبائل فون کسی ماہر کو دکھانا چاہیے، جو اس کا مکمل معائنہ کرکے مشکوک سافٹ ویئر کو ختم کرسکے. اینڈرائیڈ اور iOSصارفین ایک آسان طریقے سے مشکوک سافٹ ویئر کے نقصان سے محفوظ رہ سکتے ہیں. محفوظ رہنے کے لئے اپنے موبائل فون پر موجود ایپس کی سیٹنگ تبدیل کریں. آپ ہر ایپ کی علیحدہ طور پر سیٹنگ کرکے یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ وہ کس حد تک آپریٹنگ سسٹم کے ذرائع کو استعمال کرسکتی ہے اور آپ کی تصاویر، ویڈیوز اور میموری کے دیگر حصوں کو استعمال کر سکتی ہیں یا نہیں. ایپس کی سیٹنگز کو محدود کر کے کئی قسم کے مسائل سے محفوظ رہا جا سکتا ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top