پراجیکٹ جیکارڈ کے تحت گوگل اور لیویز اس سال دنیا کی پہلی سمارٹ جیکٹ متعارف کرائیں گے

اسلام آباد (قدرت روزنامہ16مارچ2017)وئیر ایبل ٹیکنالوجی میں صارفین ابھی تک سمارٹ واچ، ہیلتھ بینڈز اور سمارٹ جوتے ہی دیکھ سکے ہیں لیکن گوگل اور لیویز (Levi's) کی وجہ سے وئیر ایبل کا تصور بدلنے والا ہے. گوگل اور لیویز اس سال دنیا کی پہلی سمارٹ سفری جیکٹ متعارف کرائیں گے.

اس جیکٹ کے زیادہ تر حصے تو لیویز کی سفری جیکٹ جیسےہی ہوں گے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس میں موصلی (conductive) فیبرک ،جسے Interactive denin کا نام دیا گیا ہے ، بھی شامل ہوگا. اس جیکٹ کی آستینوں میں بلوٹوتھ ڈیوائسز اٹیچ ہونگی . گوگل نے پچھلے سال میں لیویز کے ساتھ مل کر پراجیکٹ جیکارڈ کے تحت جیکٹ بنانے کا اعلان کیا تھا. اس سے پہلے گوگل نے 2015 میں کپڑوں میں کنکٹڈ ڈیوائسز شامل کرنے کے لیے پراجیکٹ جیکارڈ اور پراجیکٹ سیلو کے نام سے نئی ٹیکنالوجیز متعارف کرائیں تھی. اس سال متعارف کرائی جانے والی لیویز کی جیکٹ پراجیکٹ جیکارڈ کی پہلی پراڈکٹ ہوگی. اس جیکٹ میں جو کپڑا استعمال کیا گیا ہے اس کے اندر ہی بہت چھوٹے چھوٹے الیکٹرونک سرکٹس کو بُن دیا گیاہے. جیکٹ کی آستینیں ٹچ سنسی ٹیو(sensitive) ہونگی .جیکٹ میں کف لنک سٹائل کی بلوٹوتھ ڈیوائس استعمال کیا جائے گی جسے آستینوں کے بٹنوں کی جگہ استعمال کیا جائے گا. جیکٹ کےکپڑے پر ٹچ کمانڈز اور حرکات سے کمانڈز انہیں بلوٹوتھ بٹنوں سے سمارٹ فونز یا دوسری کنکٹڈ ڈیوائسز تک منتقل ہونگی. دوران سفر آپ کوئی گانا سن رہے ہوں تو اسے تبدیل کرنے کے لیےآپ کو ڈیوائس نکالنے کی ضرورت نہیں پڑے گی بلکہ آپ کو صرف اپنی آستین کو چھونا پڑے گا.اس طرح ہاتھ اٹھا کر آواز بڑھائی جا سکے یا ہاتھ کے اشارے سے ہی کال سن یا کال ریجیکٹ کی جا سکے گی. نیوی گیشن فیچر کو بھی حرکات سے ہی کنٹرول کیا جا سکے گا. جیکٹ میں صارف کو تھوڑی وائبریشن بھی محسوس ہوگی. یہ اس لیے شامل کی گئی ہے تاکہ کال یا میسج آنے کی صورت میں صارف کو معلوم ہوجائے. جیکٹ کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس کے کف لنک سٹائل کی بلوٹوتھ ڈیوائس کو ہٹانے کے بعد اسے عام کپڑوں کی طرح دھویا بھی جا سکتا ہے...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top