ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے حق وصداقت پر مبنی فیصلہ دیکر قانون وجمہوریت کی بالادستی کو قائم رکھا،،صوبائی وزراء اور اراکین بلوچستان اسمبلی

کوئٹہ(اے پی پی)بلوچستان کے صوبائی وزراء اور اراکین اسمبلی نے پانامہ کیس میں عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اطمینان کا اظہار رکرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کی اعلیٰ ترین آئینی عدالت نے حق وصداقت پر مبنی فیصلہ دیکر قانون وجمہوریت کی بالادستی کو قائم رکھا،تمام فریقین عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جمہوری تسلسل اور ترقیاتی ویژن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کریں،’’اے پی پی‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی ،وزیراعلیٰ بلوچستان کے مشیر برائے معدنیات وکانکنی حاجی محمد خان لہڑی،قائمہ کمیٹی برائے سیاحت وخصوصی تعلیم کی چیئرپرسن متحرمہ کشور نواز جتک،قائمہ کمیٹی برائے تعلیم کی چیئرپرسن ثمینہ خان ،ایم پی اے میر عاصم کرد گیلو اور میر عبدالماجد ابڑو نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد وزیراعظم اور ان کے خاندان کے خلاف منفی پروپیگنڈے کا خاتمہ ہوجانا چاہیے ،وزیراعظم نے روز اول سے ہی از خود تحقیقات کے لیے غیر جانبدارانہ انکوائری فورم کی تشکیل کی آفر کی تھی،عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر حکومت من وعن عمل درآمد کرے گی اور مشترکہ تحقیقاتی ٹیم سے ہر ممکن تعاون کرے گی،انہوں نے کہا کہ عدالت کا فیصلہ وزیراعظم نواز شریف کی نہیں بلکہ پورے ملک کے 20کروڑ عوام کی جیت ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کے تسلسل سے عوام کو معیار زندگی بلند ہوگا اور پاکستان حقیقی معنوں میں ایشین ٹائیگر بن کر پورے خطے کی رہنمائی کرے گا،بلوچستان کے وزراء اور اراکین اسمبلی نے وزیراعظم محمد نواز شریف کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم نے صبروتحمل اور برداشت سے تمام صورتحال کو فیس کیا اور حق وسچ کی عدالت میں سرخرو ہوئے،بلوچستان کے وزراء اور اراکین اسمبلی نے تمام سیاسی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ ملک کے وسیع تر مفاد میں انتشار بے چینی اور باہمی نفرتوں پر مبنی ایسے منفی رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جس سے ملکی ترقی اور جمہوری تسلسل کی راہ میں رکاوٹیں پیدا ہوں ،انہوں نے کہا کہ وزیراعظم تو کیا پوری حکومت میں شامل ہر فرد اپنے احتساب کے لیے تیار ہے تاہم کچھ لوگ احتساب کی آڑ میں اقتدار چاہتے ہیں ،لیکن یہ بات واضع ہے کہ طاقت کاممبا عوام ہیں اور عوام نے اپنے ووٹوں کے ذریعے جس قیادت کو اقتدارکا مینڈیٹ دیا ہے وہی حقیقی عوامی نمائندے ہیں انہوں نے کہا کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے بعد بے یقینی کی صورتحال کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب وقت آگیا ہے کہ قوم کوذہنی خلفشار میں مبتلا رکھنے کے عمل کے بجائے اخلاقی جمہوری سیاسی رویات کو فروغ دیتے ہوئے غیر جمہوری رویوں کی حوصلہ شکنی کی جائے اور عوامی خدمت کے ذریعے سیاسی عمل میں اپنا مقام بنایا جائے ..

.


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top