مشال قتل کی سینٹ میں گونج ‘ سینیٹر عثمان کاکڑ نے بڑا مطالبہ کردیا

کوئٹہ (آن لائن)پشتونخواملی عوامی پارٹی کے صوبائی صدر و سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا ہے کہ عبدالولی خان یونیورسٹی میں مشال خان کے قتل کا جو واقعہ ہوااس کی مزمت کرتے ہیں اسلام ایک مذہب اور ایک دین ہے اس میں کوئی شک نہیں جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں بعض لوگ اسے اسلحہ کے طورپر استعمال کررہے ہیں مذہب دین ‘ پیغمبر اور اسلام کو استعمال کررہے ہیں اگرمیں کسی کامخالف ہوں تو میں بس یہی ٹھپہ استعمال کرتا ہوں یہاں پر مذہب اسلام اور فرقہ واریت کے نام پر ہزاروں لوگوں کو شہید کردیاگیا ہے گلے کاٹ دیئے گئے ہیں نہ مسجد ‘ نہ مدرسہ ‘ نہ تعلیمی اداروں کو معاف کیا گیا ان خیالات کااظہار انہوں نے سینٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ دیگر عام واقعات سے مختلف ہیں یونیورسٹی میں طلباء آکر ایک طالبعلم کو شہید کرتے ہیں بنیادی طورپر یہ ہے کہ مشال خان ایک ہونہار طالبعلم تھا اس کی یونیورسٹی کے حوالے سے اپنے مطالبات تھے اور یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں یونیورسٹی انتظامیہ نے کچھ طلباء کو اکساکر مشال خان کو قتل کردیا انہوں نے کہا کہ یہاں پر جمہوریت کی بالادستی اور انصاف ہونا چاہئے غریبوں کو تعلیم دینا چاہئے جو بعض لوگوں کو ناگوار گزرے پھر اسے مذہب کا نام دیکر یا بعض لوگوں کو بدنام کرنے کا نام دیکر یہ فلاح سوچ والے کرتے ہیں اصل میں اس واقعے میں یونیورسٹی کے ملازمین ملوث ہیں جن میں سے اب تک 6 گرفتار ہوئے باہر سے ایک کونسلر اس واقعہ میں ملوث ہے اس کے علاوہ اورلوگ بھی اس واقعہ کے پیچھے ہیں ان لوگوں کو فوری طورپر گرفتار کیاجائے ..

.


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top