بلوچستان اسمبلی میں صوبے بھر میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی

کوئٹہ (آن لائن/سٹاف رپورٹر)بلوچستان اسمبلی میں صوبے بھر میں بجلی لوڈ شیڈنگ کے خلاف قرارداد متفقہ طور پر منظور کرلی گئی عبدالولی خان یونیورسٹی میں قتل ہونیوالے طالب علم مشال خان کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کر تے ہوئے کہا کہ مشال خان کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس سے پوری دنیا میں ہمارا ایک بہت غلط تاثر جارہا ہے یہ ایک دردناک واقعہ تھا جس سے عالمی سطح پر ہمارا ہمارے ملک کا اوراسلامی اقدار کا تصور بھی مجروح ہوا ہے خیبرپشتونخوا حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے اور انہیں سزا دے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے. پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ مشال خان کا قتل وحشت اور بربربیت پر مبنی واقعہ ہے اب تک میڈیا پر اس حوالے سے بہت سی چیزیں آگئی ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ مقتول پر جو الزامات لگائے گئے ان سے اس کا دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا یونیورسٹی کاپرو وائس چانسلر نہیں تھا فیسیں بڑھائی گئی تھیں اورمشال خان احتجاج کررہا تھا اچھی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے بلوچستان اسمبلی کا اجلاس سپیکر راحیلہ حمیدخان درانی کی زیر صدارت شروع ہوا اجلاس میں پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے پارلیمانی لیڈر و صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں پیش آنے والے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ مشال خان کا قتل ایک ایسا واقعہ ہے جس سے پوری دنیا میں ہمارا ایک بہت غلط تاثر جارہا ہے یہ ایک دردناک واقعہ تھا جس سے عالمی سطح پر ہمارا ہمارے ملک کا اوراسلامی اقدار کا تصور بھی مجروح ہوا ہے خیبرپشتونخوا حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر اس واقعے میں ملوث افراد کو گرفتار کرکے انہیں قانون کے کٹہرے میں لائے اور انہیں سزا دے تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات پیش نہ آئیں اور ہمیں بین الاقوامی سطح پر خفت کا سامنا نہ کرنا پڑے.

پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ مشال خان کا قتل وحشت اور بربربیت پر مبنی واقعہ ہے اب تک میڈیا پر اس حوالے سے بہت سی چیزیں آگئی ہیں اور یوں لگ رہا ہے کہ مقتول پر جو الزامات لگائے گئے ان سے اس کا دور دور تک کا واسطہ نہیں تھا یونیورسٹی کاپرو وائس چانسلر نہیں تھا فیسیں بڑھائی گئی تھیں اورمشال خان احتجاج کررہا تھا اچھی بات ہے کہ سپریم کورٹ اور وزیراعظم میاں نواز شریف نے اس واقعے کا نوٹس لے لیا ہے ہم اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ یہ کیس ہمارے تمام اداروں کے لئے ایک ٹیسٹ کیس ہے ہمارا مطالبہ ہے کہ مشال خان کے والدین کو انصاف دلاتے ہوئے واقعے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے .ڈپٹی اپوزیشن لیڈر انجینئرزمرک خان اچکزئی نے کہا کہ مشال خان کے قتل کا واقعہ ایک انتہائی دردناک واقعہ تھا اس واقعے سے متعلق سوشل میڈیا پر بہت ساری ویڈیوز موجود ہیں اس واقعے میں حکومت کی رٹ کو چیلنج کیا گیا اسلام شریعت اور ہماری قبائلی روایات میں اس طرح کے واقعات کی کوئی گنجائش نہیں ہے جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ مشال خان شہید ہے جسے بے دردی سے قتل کیا گیا کوئی بھی ذی روح وہ ویڈیوز نہیں د یکھ سکتا یہ واقعہ اس صوبے میں پیش آیا ہے جس کا لیڈر اصلاحات لانے کی بات کرتا ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دنیا کا کوئی مذہب اس طرح کے وحشتناک عمل کی اجازت نہیں د یتا. جے یوآئی کے مفتی گلاب خان نے کہا کہ مردان واقعے کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے جن لوگوں نے یہ قتل کیا انہوں نے اس کے لئے اسلام اور شریعت کا نام استعمال کیا حالانکہ شریعت میں اس کی کوئی گنجائش نہیں بلکہ اس طرح کے عمل سے شریعت میں منع کیا گیا ہے وفاقی حکومت کو چاہئے کہ اس وقعے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلائے تاکہ آئندہ کسی کو اس طرح کے عمل کی ہمت نہ ہو. پشتونخوا میپ کے عبیداللہ جان بابت نے کہا کہ یہ واقعہ انتہائی سفاکانہ اور قابل مذمت ہے مگر یوں لگتا ہے کہ یہ اچانک رونما نہیں اس کے پیچھے ایک منظم پلان تھا واقعے سے آٹھ دس روز قبل مشال خان کا انٹرویو تھا جس میں وہ یونیورسٹی میں پرووائس چانسلر کی تعیناتی اور فیسوں میں کمی کا مطالبہ کررہا تھا انہوں نے کہا کہ فتوے لگنا ہمارے لئے کوئی نئی بات نہیں ہمارے ہاں بہت پہلے سے فتوے لگتے رہے ہیں وزیراعظم کا شکریہ کہ انہوں نے نوٹس لیا ہے سپریم کورٹ نے بھی نوٹس لے لیا ہے ضروری ہے کہ جو بھی ملوث ہو اسے سزا دی جائے کیونکہ یہ کہا جارہا ہے کہ بااثر لوگوں کے بچوں کو بچایا جارہا ہے . صوبائی وزیر نواب محمد خان شاہوانی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی افسوسناک اور دردناک واقعہ تھا جس کی میں اپنی اور اپنی جماعت کی جانب سے مذمت کرتا ہوں طاقتور گروہوں نے اگر خودسزا اور جزا شروع کیا تواس کے بہت خطرناک نتائج ہوں گے پھر بے لگام گروہ بندیاں شروع ہوجائیں گی اس لئے ضروری ہے کہ جتنے بھی لوگ اس واقعے میں ملوث ہیں ان سب کو سزا ئے موت دی جائے . ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ واقعے کے جو بھی ذمہ دار ہیں انہوں نے ایک دو نہیں کئی ایک جرائم کئے انہوں نے اسلام کی توہین کی ملک کے قوانین وفاقی حکومت صوبائی حکومت کی توہین کی ایک انسان کو قتل کرکے اس کی لاش کی تذلیل کی انہیں ان تمام جرائم کی سزا ملنی چاہئے .مسلم لیگ (ن) کی انتیا عرفان نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ واقعے کے تمام ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے .پشتونخوا میپ کے منظور کاکڑ نے کہا کہ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی واقعے کے ذمہ داروں اور اس کے پس پردہ جو بھی ماسٹر مائنڈ ہیں ان سب کو سزا ملنی چاہئے ورنہ کل ہر کوئی اپنی مرضی سے قانون کو ہاتھ میں لے گا ہمیں اس سلسلے کو روکنا ہوگا ورنہ ہماری مشکلات بڑھ جائیں گی جنگل کا قانون قابل قبول نہیں . مسلم لیگ(ن)کشور احمد جتک نے کہا کہ بہت افسوسناک واقعہ ہے اور زیادہ افسوسناک یہ عمل بھی کہ باقاعدہ ویڈیوز بنائی گئیں یوں لگتا ہے کہ کوئی قانون نہیں بس جنگل کا قانون ہے . حسن بانو رخشانی نے کہا کہ اس طرح کے واقعات سے انتشار پھیلتا ہے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے صوبائی وزیر میر مجیب الرحمان محمد حسنی نے کہا کہ یہ ایک انتہائی ناخوشگوار واقعہ تھا یہ کسی ایک گروپ کی کارستانی نہیں ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کا پتہ چلتا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ واقعہ اسلام اور پاکستان کو بدنام کرنے کی سازش ہے اس حوالے سے عدالتی کمیشن قائم ہونا چاہئے ان لوگوں کو بھی بے نقاب کرکے سخت سزا دینے کی ضرورت ہے جو اس واقعے کی وجہ بنے اور پس پردہ رہے .مسلم لیگ(ن)کے پرنس احمد علی بلوچ نے کہا کہ یہ ایک انتہائی قابل مذمت واقعہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے سے برداشت کا مادہ ختم ہورہا ہے اور عدم برداشت بڑھ رہا ہے اس طرح کے واقعات کی روک تھام کی ضرورت ہے حکومت کی رٹ کو چیلنج کرکے قانون ہاتھ میں لینے کا عمل انتہائی خطرناک ہے .پشتونخوا میپ کے ولیم جان برکت نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ وہ تعلیمی ادارہ جو عدم تشدد کے نام لیوا سے منسو ب ہے وہاں یہ واقعہ پیش آنا مزید افسوسناک ہے اس واقعے سے وہ تمام والدین پریشانی اور تشویش میں مبتلا ہوگئے ہیں جن کے بچے یونیورسٹیوں میں پڑھ رہے ہیں .مسلم لیگ کے میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ اس واقعے نے ہر ایک انسان کو دہلا کر رکھ دیا ہے کل کوئی اپنے بچوں کو خوف کے باعث یونیورسٹیوں میں پڑھنے کے لئے نہیں بھیجے گا ہمیں ایسے واقعات کا سدباب کرنا ہوگا.نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ اس افسوسناک واقعے سے پوری دنیا میں ہمارا ایک بہت غلط تاثر گیا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اسلام کا غلط تصور پیش کیا جارہا ہے جو افسوسناک ہے . ڈاکٹر شمع اسحاق نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فیض احمد فیض کاکلام پیش کیا .اراکین کے اظہار خیال کے بعد سپیکر نے اپنی رولنگ میں کہا کہ عبدالولی خان یونیورسٹی مردان میں طالبعلم مشال خان کے قتل کے واقعے پر اراکین نے تشویش کااظہار کرتے ہوئے ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت سزا کا مطالبہ کیا ہے اراکین کی بحث کے دوران قانون ہاتھ میں لینے ،شدت پسندی اور سوشل میڈیا کے غلط استعمال پر بات ہوئی انہوں نے کہا کہ قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت کسی کو بھی نہیں دی جاسکتی سوشل میڈیا کا غلط استعمال افسوسناک ہے کیونکہ اب تک یہ معلوم ہوا ہے کہ سوشل میڈیا ہی اس واقعے کی بنیاد بنا ہے.اجلاس میں جے یوآئی کی شاہدہ رؤف نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات کہی جارہی ہے کہ تمام محکموں کے سیکرٹریز سیکرٹریٹ میں حاضری لگانے کے بعد کور ہیڈ کوارٹر جاکر حاضری دیتے ہیں حکومت اس بات کی وضاحت کرے کہ یہ درست ہے یا نہیں . انہوں نے کہا کہ فوج کی قربانیاں اور خدمات ہمارے سامنے ہیں لیکن یہ جو بات ہورہی ہے اس سے ایک غلط تاثر جارہا ہے انہوں نے کہا کہ کیا حکومت ناکام ہوچکی ہے . پشتونخوا میپ کے آغا سید لیاقت نے کہا کہ وزیراعلیٰ صوبے کے چیف ایگزیکٹیو ہیں وہ صوبے سے باہر جاتے ہیں تو چیف سیکرٹری بھی چلے جاتے ہیں چیف سیکرٹری کو پابند کیا جائے کہ وہ وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں صوبے سے باہر نہ جائیں .وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے شاہدہ رؤف کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی بھی محکمے کے سیکرٹری کو کہیں کسی میٹنگ میں بلایا جاتا ہے تو وہ پابند ہے کہ متعلقہ محکمے کے وزیر سے اجازت لے یا پھر چیف سیکرٹری سے اجازت لے .جہاں تک فوج کی حکمرانی کی بات ہے تو ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ماضی میں فوج کی حکمرانی کی وجہ سے خرابیاں آئیں.اس حوالے سے بعض لوگ ایک تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں میں ایک سیاسی کارکن اور خان شہید کے پیروکار کی حیثیت سے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کا مشکور ہوں کہ انہوں نے مل کر جمہوریت کی خاطر ڈی چوک اسلام آباد کے ڈرامے کو طشت ازبام کیا انہوں نے کہا کہ یہ تاثر دیا جاتا رہا ہے اور بار بار یہ غلطی کی جاتی ہے کہ سیاسی اور فوجی قیادت . حالانکہ قیادت صرف سیاسی ہے ہم پولیٹیکل قیادت ہیں اور ہوں گے اس کے علاوہ اور کوئی قیادت نہیں ہوگی نہ ہوسکتی ہے 22گریڈ کا افسر تو ہر محکمے میں ہوتا ہے مگر وہ قیادت نہیں انہوں نے شاہدہ رؤف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ذہن میں کیا ہے مجھے نہیں معلوم لیکن اس ملک کا مستقبل جمہوریت کے ساتھ ہے جمہوریت کی راہ روڑے اٹکانے والے جوبھی ہوں روڑے اٹکانے کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد یا کوئٹہ میں جہاں بھی سیکرٹری کو جس میٹنگ میں جانا ہو وہ اپنے محکمے کے وزیر یا چیف سیکرٹری سے پوچھ کر جائے گا اس کے بغیر اسے جہاں سے بھی حکم ملے گا وہ ہم قبول نہیں کریں گے. بعدازاں سپیکر نے اس حوالے سے اپنی رولنگ میں کہا کہ حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر واضح انداز میں جواب دے چکے ہیں اس حوالے سے تمام جماعتوں کے پارلیمانی لیڈرز اور چیف سیکرٹری کو سپیکر چیمبر میں بلا کر اس حوالے سے مزید بات کی جائے .اجلاس میں نواب محمدخان شاہوانی ،محمدخان لہڑی ،میر اظہار حسین کھوسہ،سردار عبدالرحمان کھیتران کی مشترکہ قرار داد میر اظہار کھوسہ نے ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا تھا صحبت پور ،نصیرآباد اور جعفرآباد کے اضلاع کا شمار صوبے کے گرم ترین علاقوں میں ہوتا ہے جبکہ ان اضلاع میں شاہی واہ فیڈرپر16گھنٹے ،خیرپور فیڈرپر15گھنٹے،میر اظہا ر فیڈر پر16گھنٹے،حیر دین فیڈر پر 16گھنٹے،جیانی فیڈرپر 16گھنٹے اور سٹی صحبت پور فیڈر پر12گھنٹوں کی طویل لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے باقیماندہ آٹھ گھنٹے فراہم کی جانے والی بجلی کے دوران دو گھنٹے ٹرپنگ کی جاتی ہے اب گرمیوں کا موسم شروع ہوچکا ہے اور درجہ حرارت50سینٹی گریڈ تک پہنچنے کی وجہ سے علاقے کے عوام کو شدید گرمی برداست کرنا پڑرہی ہے قرار داد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی تھی کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ صحبت پور نصیرآباد اور جعفرآباد کے اضلاع میں مذکورہ بالا فیڈرز پر بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیہ کو کم کرکے کم از کم چار گھنٹے تک لایا جائے تاکہ وہاں کے عوام کو شدید گرمی میں ریلیف ملنا ممکن ہوسکے.انہوں نے کہا کہ پورے نصیرآباد ڈویژن میں عوام کو لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے واپڈا حکام بلوں پر توجہ دینے کی بجائے ہر فیڈرسے ماہانہ لاکھوں روپے بھتہ لے رہے ہیں ایک ایکسیئن کی جانب سے لوٹ مار کا بازار گرم کیا گیا ہے شدید گرم موسم میں لائن لاسز کو بھی فیڈروں پر ڈالا جارہا ہے علاقے میں کیسکو اہلکار سمجھتے ہیں کہ وہ دبئی میں ہیں عوام احتجاج کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں کیسکو چیف کو یہاں بلا کر ان سے لوڈشیڈنگ میں کمی پر بات کی جائے اورمذکورہ ایکسیئن کے خلاف کارروائی کی جائے . جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ میری کیسکو چیف سے اس سلسلے میں بات ہوئی ہے ان کا موقف ہے کہ بلوں کی مد میں ریکوری نہیں ہورہی انہوں نے سپیکر سے استدعا کی کہ کیسکو چیف کو وہ اپنے چیمبر میں بلائیں اور قرار داد کے محرکین کو بھی وہاں بلائیں تاکہ مل بیٹھ کر مسئلے کو حل کیا جاسکے. مسلم لیگ(ن) کے میر عاصم کرد گیلو نے کہا کہ شدید گرم موسم میں طویل لوڈشیڈنگ کے باعث عوام تڑپ رہے ہیں درجہ حرارت پچاس سینٹی گریڈ سے اوپر جاچکا ہے گرمی کا تو اب آغاز ہوا ہے مگر بمشکل ایک گھنٹے بجلی دی جاتی ہے جس میں وولٹیج کا مسئلہ درپیش رہتا ہے انہوں نے زور دیا کہ کیسکو چیف کو اسمبلی میں بلایا جائے.عوامی نیشنل پارٹی کے انجینئر زمرک خان نے کہا کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ پورے صوبے کا مسئلہ ہے واپڈا حکام کا موقف ہے کہ مسلسل بجلی فراہم کی گئی تو ٹیوب ویل بے دریغ چلائے جائیں گے انہوں نے بھی کیسکو چیف کو اسمبلی بلانے کی تجویز کی حمایت کی نیشنل پارٹی کی یاسمین لہڑی نے کہا کہ شدید گرم موسم میں عوام بجلی سے اور شدید سرد موسم میں گیس سے محروم رہتے ہیں کیسکو چیف سمیت اسلام آباد سے واپڈا کے اعلیٰ حکام کو بلا کر نصیرآباد میں ایک ہفتہ ٹھہرایا جائے تاکہ انہیں عوام کی مشکلات کا احساس ہو پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ قرار داد میں جن علاقوں کا ذکر کیا گیا ہے وہاں شدید گرمی میں سولہ گھنٹے سے زائد کی لوڈشیڈنگ افسوسناک ہے یہی صورتحال باقی صوبے کی ہے ہم یہاں پر قرار دادیں منظور کرچکے ہیں کیسکوحکام کو بھی بلایا گیا مگر یہ مسئلہ حل نہیں ہو اانہوں نے تجویز دی کہ اس سلسلے میں وزارت پانی و بجلی کو خط لکھا جائے اور واپڈا حکام کو یہاں بلایا جائے صوبائی مشیر عبیداللہ بابت نے کہا کہ صوبے کے گرم علاقوں میں شدید گرمی پڑرہی ہے لوڈشیڈنگ کے باعث شدید مشکلات کا سامنا ہے بجلی کی فراہمی کی صورت میں ٹیوب ویلوں کے استعمال کا موقف درست نہیں کیونکہ اب تو اکثر ٹیوب ویل سولر پر جاچکے ہیں بجلی زندگی کی بنیادی ضرورت بن چکی ہے واٹر سپلائی بند پڑے ہیں کیسکو اہلکاروں کی جانب سے بھتہ وصولی افسوسناک ہے وزیر اعلیٰ بلوچستان چیئرمین واپڈا کو یہاں بلائیں اور ان سے اس پر بات کی جائے. صوبائی وزیر نواب محمدخان شاہوانی نے کہا کہ صوبے کے گرم علاقوں میں شدید گرمی پڑرہی ہے بمشکل چند گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے انہوں نے زور دیا کہ دوپہر اور رات کے وقت لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کی جائے . صوبائی حکومت کی جانب سے صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے قرار داد کی حمایت کرتے ہوئے تجویز دی کہ قرار داد میں ترمیم کرتے ہوئے اس میں پورے صوبے کو شامل کیا جائے اور ایک کمیٹی بنائی جائے جس میں تمام جماعتوں کے ارکان شامل کئے جائیں کیسکو چیف کو اسمبلی بلا کر ان کے سامنے ارکان کی تمام باتیں رکھی جائیں اور انہیں بتایا جائے کہ ایک رکن کی جانب سے یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ایک ایکسیئن ماہانہ لاکھوں روپے رشوت لے رہا ہے انہوں نے کہا کہ اس وقت دنیا میں لائن لاسز گیارہ فیصد جبکہ ہمارے ہاں چالیس سے پچاس فیصد کے درمیان ہیں ٹیکنیکل حکام کو لائن لاسز میں کمی لانی ہوگی اور اس کے لئے دیکھنا ہوگا کہ کیا کیا جاسکتا ہے لائن لاسز کا بوجھ عوام پر ڈالنا درست نہیںیہ ناانصافی ہے انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں زمینداروں کے وفد سے صوبائی حکومت کی نمائندگی میں واپڈا حکام کی جانب سے سبسڈی طے کئے جانے کے بعد بجلی کی فراہمی کا دورانیہ بھی طے کیا گیا مگر اس شیڈول پر ایک دن بھی عمل نہیں کیا گیا بلوچستان میں چوبیس سو میگاواٹ بجلی پیدا ہوتی ہے مگر ہمیں کبھی سات سو میگاواٹ بجلی بھی نہیں دی گئی اب ہماری ٹرانسمیشن لائنیں تیار ہیں ہم نے واپڈا حکام سے بات کرنی ہے کہ وہ ہمیں ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کریں اس موقع پر سپیکر نے صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال کی ترمیم کے ساتھ قرار داد ایوان کے سامنے پیش کی جس کی ایوان نے متفقہ طورپر منظور دی .سپیکر نے کہا کہ بجلی ہماری زندگی کی ایک بنیادی ضرورت بن چکی ہے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ اگرچہ طویل عرصے سے جاری ہے تاہم شدید گرم علاقوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ سے عوام کو جن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا تصور بھی محال ہے سولہ سولہ گھنٹے کی لوڈشیڈنگ برداشت سے باہر ہے موجودہ وفاقی حکومت کی کوششوں سے لوڈشیڈنگ میں خاطرخواہ کمی آئی ہے وفاقی حکومت کے جاری منصوبے سے توقع ہے کہ جلد لوڈشیڈنگ میں مزیدکمی آئے گی بلوچستان میں بھی مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے انہوں نے کہا کہ اظہار کھوسہ کی جانب سے جس ایکسیئن کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا گیا اس پر کیسکو چیف سے بات کی جائے گی واپڈا حکام سے بھی بات چیت کی جائے گی ضرورت پڑی تو اس کے لئے ایک کمیٹی بھی اسلام آباد بھیجیں گے.اجلاس میں صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے صوبائی وزیر محکمہ سماجی بہبود ، خصوصی تعلیم ، خواندگی ، غیر رسمی تعلیم و انسانی حقوق کی جانب سے بلوچستان کے معذور افراد ،امتناع نابالغ بچوں کی شادی ،معمر شہریوں کی فلاح و بہبوداورکم لاگت ہاؤسنگ سکیمز کے مسودہ قوانین اجلاس میں پیش کئے جنہیں سپیکر نے ایوان کی متعلقہ قائمہ کمیٹیوں کے سپرد کردیاجبکہ صوبائی وزیر عبدالرحیم زیارتوال نے صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ کی جانب سے بلوچستان موٹروہیکلز کا ترمیمی مسودہ قانون مجلس کی سفارشات کے بموجب پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی .اجلاس میں انجینئر زمرک خان نے بلوچستان صوبائی اسمبلی کے قاعدہ233کے باب12کے بعد نیا باب 12الف (زیرو ہاور) میں اضافے کی بابت مجلس کی رپورٹ کو مجلس کی سفارشات کے بموجب منظوری کے لئے پیش کیا جس کی ایوان نے منظوری دے دی جس کے بعد سپیکر نے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top