پانامہ کی لیکس حکومت کی ویکس ثابت ہوگی،سردار اختر مینگل

کوئٹہ (آن لائن)بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ پانامہ کی لیکس حکومت کی ویکس ثابت ہوگی کیونکہ اس کے فیصلے کے بعد بلوچستان میں مسلم لیگ( ن) کے کئی ارکان اتحاد سے لیک ہوجائیں گے بلوچستان کے حالات بدتر ہیں،کرپشن عروج پر ہے، ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں، پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں انتخابات میں کچھ دو کچھ لو کی بنیاد پر معاملات طے پاتے ہیں، گوادر میں ترقی بلوچوں کی نقل مکانی کے بعدہی شروع ہوگی ان خیالات کاانہوں نے سراوان ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا سردار اختر جان مینگل نے کہا ہے کہ میڈیا کو بھی کوٹا سسٹم میں تبدیل کیا گیا ہے اب میڈیامیں بھی بلوچستان کی خبریں کوٹے کے حساب سے خبر نشر ہوتی ہیںیہاں میڈیا والے بھی خاموش ہیں اور حکمران بھی بہرے ہوگئے ہیں اس عمل سے ہمارا موقف عوام سمیت مقتدرہ قوت تک نہیں پہنچ سکتابلوچستان کے حالات میں کوئی بہتری نہیں آج بھی صورت حال ابترہے حکمرانوں کوساون کے اندھے کی طرح ہر چیز ہری نظر آرہی ہے مگر حالات اس کے برعکس ہیں انہوں نے کہاکہ پانامہ لیکس کے فیصلے کے بعد بلوچستان میں مسلم لیگ ن کے کئی ارکان لیک ہوجائینگے اوریہاں مسلم لیگ کو اتنے پینچر ہونگے کہ ان پینچرز کو لگانے والا کوئی نہیں ہوگاآصف علی زرداری سے ملاقات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہم پارلیمانی سیاست پر یقین رکھتے ہیں آنے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی سمیت تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں سے بات چیت ہوگی پارلیمانی سیاست میں کچھ دو اور لو کی بنیاد پر ہی معاملات طے پاتے ہیں.انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے سیاسی ڈھانچے میں قبائلی شخصیات کا بھی اہم کردار ہوتا ہے اسی طرح سیاسی رہنماؤں اور شخصیات کے ساتھ بیٹھک لگے گی انتخابات پر بات چیت ہوگی فی الوقت اس حوالے سے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کس طرح کا اتحاد بنے گا .

انہوں نے کہاکہ انتخابات کی تاریخ پر نظر دوڑائی جائے تو ہمیں یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ کبھی بھی بلوچستان میں الیکشن شفاف نہیں ہوئے اور یہ امید بھی نہیں کہ آنے والے انتخابات شفاف ہونگے.سردار اختر جان مینگل نے کہاکہ گوادر کو شوپیس کی طرح پیش کیاجارہا ہے اور اس کے ذریعے پنجاب کو ترقی دی جارہی ہے تمام ترقیاتی منصوبے پنجاب میں جاری ہے جبکہ گوادر سے بلوچوں کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا بلوچوں کی نقل مکانی کے بعد ہی گوادر میں ترقیاتی کام تیز ہونگے،گوادر کی ترقی کو اس وقت تسلیم کرینگے جب بلوچ وہاں رہ کر اس سے استفادہ حاصل کرینگے سی پیک منصوبے کے حوالے سے منتخب نمائندوں کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس معاملے پر قانون سازی کریں.انہوں نے کہاکہ بلوچستان میں تمام ادارے تباہی کے دہانے پر پہنچ چکے ہیں بجٹ میں سب سے زیادہ رقم تعلیم پر مختص کی گئی تھی جو49 بلین روپے ہے مگراس کے باوجود تعلیمی نظام میں کوئی بہتری نہیں آئی ہے حالت یہ ہے کہ اسکولوں کی عمارتیں اب بھی کچی ہیں جبکہ اساتذہ سے پیسے لیکر بھرتیاں عمل میں لائی جارہی ہیں موجودہ حکومت کا تعلیمی ایمرجنسی کا نعرہ ڈھکوسلہ اور گمراہ کن ہے، این ٹی ایس کے نام پر ملازمتیں فروخت کی جارہی ہیں یا اپنے من پسند افراد کو نوازاجارہا ہے .انہوں نے کہاکہ ہمارے دور حکومت میں چالیس فیصد بجٹ تعلیم کیلئے مختص تھا ہم نے تعلیمی اداروں کی بنیاد کو مضبوط بنانے کو فوقیت دی اور جس کے خاطر خواہ نتائج برآمدہوئے. انہوں نے کہاکہ محکمہ خزانے کے سوائے دیگر محکمے تباہ حال ہیں اداروں میں کرپشن عروج پر ہے. انہوں نے کہاکہ ہم کسی سے ناراض نہیں بس اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب ہم سے ناراض ہیں ہم صرف اپنا بیانیہ کہتے ہیں اس پر کسی کو اعتراض ہو تو ہم کیا کرسکتے ہیں انہوں نے کہاکہ موجودہ اسمبلی سیٹ اپ کے دوران جو قراردادیں میں نے لائی ہیں ان میں سے کسی پر عملدرآمد نہیں ہوا ان سب کو ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا گیا ہے سردار اختر جان مینگل نے کہاکہ بلوچستان کی بیڈ گورننس کی وجہ چیک اینڈ بیلنس ہے آج بھی بلوچستان کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں . چیف آف سراوان پاکستان پیپلزپارٹی کے رہنماء وسابق وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے کہا ہے کہ سی پیک کو جس طرح ترتیب دیاجارہا ہے اس سے بلوچ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے جوہمارے لئے قابل قبول نہیں تمام سیاسی جماعتوں کو سی پیک پر سنگل پوائنٹ ایجنڈا پر متفق ہوکر بیٹھنا ہوگاریکوڈک کیس کے حوالے سے وہی جوابدہ ہیں جنہوں نے پیرس کی ٹھنڈی ہواؤں کا مزہ لیا ہے ان خیالات کااظہار انہوں نے سراوان ہاؤس میں لالہ یوسف بنگلزئی کی جانب سے ان کے اعزاز میں دیئے گئے ظہرانے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کیا نواب اسلم رئیسانی نے کہاکہ اقتصادی راہداری منصوبہ کے حوالے سے سیاسی جماعتیں اپناہوم ورک مکمل کریں ، گوادر میں بڑی آبادکاری سے بلوچوں کا نام ونشان مٹ جائے گا نواب اسلم رئیسانی نے کہا کہ موجودہ حالات پر سیاسی جماعتوں کی سوچ کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتا ان کا سیاسی طریقہ کار اور سوچ الگ ہے ان کے اپنے تھینک ٹینکس ہیں اور اپنی پالیسیاں بناتے ہیں انہوں کہاکہ ریکوڈک مسئلے کو بحیثیت وزیراعلیٰ ہم نے اٹھایا میرا مقصد ریکوڈک کو بلوچستان کے حوالے کرنا تھا اب ریکوڈک کیس کے حوالے سے وہی جوابدہ ہیں جنہوں نے پیرس کی ٹھنڈی ہواہوؤں کا مزہ لیا ہے شاید انہیں ان ٹھنڈی ہواہوں میں ریکوڈک کی مٹی نظرآئی ہوانہوں نے کہاکہ ریکوڈک مسئلہ اب بھی ہاتھوں سے نہیں نکلا ہے اگر بہترین لیگل ایڈوائزر رکھیں تو ہمیں کامیابی ملے گی نواب اسلم رئیسانی نے کہاکہ سی پیک کو ابھی تک ترتیب دیاجارہا ہے اسے بنایا نہیں جارہا مگر خدشہ یہی ہے کہ اس منصوبے سے بلوچ اقلیت میں تبدیل ہوجائیں گے گوادر سمیت بلوچستان کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے انہوں نے کہاکہ نیت کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ گوادر کے علاقے کلی شمبے زئی جس کی تاریخ چار سو سال پرانی ہے اس کو نقشے سے ہٹانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے انہوں نے کہاکہ آنے والے انتخابات کے دوران سیاسی جماعتوں کے درمیان معاہدے ہونگے پھر اتحاد بنیں گے فی الوقت تو اس معاملے پر صرف غور ہی کیاجاسکتا ہے کہ آنے والے وقت میں کیا ہوگا انہوں نے کہاکہ میں نے بحیثیت وزیراعلیٰ بلوچستان کے منصب کو فریضہ سمجھ کر نبھایا کیونکہ یہ عیش وعشرت کی کرسی نہیں بلکہ بڑی ذمہ داریاں ہوتی ہیں سارا دن کام کرنا پڑتا ہے صوبے کیلئے وفاق کے ساتھ لڑنا پڑتا ہے مگر کچھ وزراء اس کرسی کا فائدہ اٹھاتے ہیں. بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان رکن صوبائی اسمبلی سردار اختر جان مینگل نے ہفتے کے روز ساروان ہاوس میں بلوچستان کے سابق وزیر اعلیٰ اور چیف آف ساروانواب اسلم خان رئیسانی سے ملاقات کی اور ان سے خاص طور پر بلوچستان کی سیاسی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا ذرائع کے مطابق دونوں لیڈروں کے درمیان خاص طور پرپانامہ لیکس کے فیصلے سمیت دیگر قبائلی امور پر بھی غور خوص کیا گیا سیاسی حلقے دونوں قبائلی و سیاسی شخصیات کے ملاقات کو بڑی اہمیت دے رہے ہیں...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top