پنجاب یونیورسٹی واقعہ پر ایوان کی کمیٹی قائم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں،ثناء اللہ زہری

کوئٹہ (آن لائن/سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی واقعہ پر ایوان کی کمیٹی قائم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں بلوچستان کے بچوں کا ہر صورت دفاع کیا جائے گابلوچستان کے بچے پر امن ماحول میں تعلیم مکمل کرینگے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے اغوا پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کر رہا ہوں بہت سے باتیں ایسی ہیں جن کو میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہتابہت حد تک اغوا کاروں تک پہنچ چکے ہیں ایوان نے حکومتی رکن سید لیاقت آغا کی جانب سے شناختی کارڈ کی بندش کے حوالے سے قرارداد واپس لے لیں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پینل چیئرمین منظور کاکڑ کی صدارت میں شروع ہوا اجلاس میں ارکان اسمبلی کی مسلسل غیر حاضری پر ارکان اسمبلی نے احتجاج کیا اور کہا کہ جو ارکان بلاوجہ اجلاس سے غیر حاضر رہتے ہیں انکی مراعات روک لی جائیں ایسے بہت سے ارکان ہیں جوایوان میں حلف اٹھانے کے بعد سے نہیں آئے بلوچستان اسمبلی میں پشین میں قومی شناختی کارڈ کی بندش سے متعلق قرارداد پشتونخواملی عوامی پارٹی کے رکن اسمبلی آغا سید لیاقت علی نے پیش ڈی جی نادرابلاک اور تجدید کے عمل کو بحال کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھائیپشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی رہنماء اور صوبائی وزیر پی ایچ ای نواب ایاز خان جو گیزئی نے کہا کہ ملک میں پشتونوں کے ساتھ جو رویہ اپنایا جا رہا ہے وہ ناقابل برداشت ہو چکی ہے پشتونوں نے اس ملک کے لئے بے پناہ قربانیاں دی ہیں اور قربانیوں کی بدولت آج پشتونوں کو پگڑھی، داڑھی اور شناختی کارڈ کے نام پر ذلیل کیا جا رہا ہے پشتون عوام سے اپیل کر تا ہوں کہ وہ ہتھیار پھینک کر تعلیم حاصل کریں اور اب کسی کے لئے استعمال نہ ہو پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک ہونے پر خاموش نہیں رہیں گے قربانی بھی دیتے ہیں اور ڈنڈے بھی کھاتے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک کے70 سال میں 40 سال میں لوگ آئے نہیں بلکہ لائے گئے اور ایک منصوبے کے تحت کیمپوں میں بسائے اور ان کے نام پر ڈالر لے کر ان پر مہا جر کیمپوں کے دروازے کھولے اور شہروں کی طرف لے آئے جو ڈالر مہا جرین کے لئے آتے تھے وہ ڈالر مہا جرین پر خرچ ہونے کی بجائے اس وقت کے حکمرانوں اور بیورو کریسی نے اپنے جیبوں میں ڈالے غلطیاں کس نے کی اور آج مشکلات کون برداشت کر رہا ہے پنجاب سندھ میں عزت دار پشتونوں کی تذلیل کی جا رہی ہے اور ہمار ا قصور یہ ہے کہ کشمیر میں آزادی کی جنگ لڑی اور سپر پاور کو افغانستان میں لڑنے کے لئے ہمیں لڑایا گیا اور کتنے قربانیاں چاہئے افسوس اس بات پر ہے کہ قربانیاں بھی پشتون دیتے ہیں اور ڈنڈے بھی پشتون کھاتے ہیں د یوار سے نہ لگایا جائے سویت یونین اور نیٹو کا حشر کر سکتے ہیں تو اور کسی کا بھی اسی طرح حشر کر سکتے ہیں مزید برداشت کی قوت نہیں ہے ہندوستان اور بنگال سے لوگ آکر کراچی میں آباد ہو تے ہیں ان سے کوئی نہیں پوچھ رہا انہوں نے کہا کہ یہ غلطی پشتونوں کی ہے جس کی سزا آج مل رہی ہے پشتون قوم ہمیشہ دوسروں کے لئے استعمال ہوئے ملک کے کونے کونے میں پشتونوں کی خون کی بو آرہی ہے مگر اس کے باوجود ہمیں بحیثیت قوم تسلیم نہیں کیا جا رہا پشتون عوام سے اپیل کر تا ہوں کہ وہ ہتھیار پھینک کر تعلیم حاصل کریں اور اب کسی کے لئے استعمال نہ ہو پشتونوں کے شناختی کارڈ بلاک ہونے پر خاموش نہیں رہیں گے قربانی بھی دیتے ہیں صوبائی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ہم سے پہلے بلوچستان میں ہزاروں کی تعداد میں جعلی شناختی کارڈ بنائے گئے ہمارے اپنے لوگوں نے غیر ملکیوں کو شناختی کارڈ اور ڈومیسائل بنوا کر دےئے افغان مہاجرین کو بڑی تعداد میں شناختی کارڈ جاری کئے گئے ر ملکیوں نے ہمارے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جو سراسر ناانصافی ہے مہاجرین کے باعث جرائم کی شرح میں اضافہ ہواکالعدم تحریک طالبان افغانستان کے سربراہ ملا منصور اختر کا بھی شناختی کارڈبنایا گیا ایسی کمیٹی بنائی جائے جو ضلعی سطح پر شناختی کارڈ سے متعلق ڈی جی نادرا سے بات کریں عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پشتونوں کے ساتھ نادرا کا ناروا سلوک بدستور جاری ہے اور پشتونوں کے شناختی کارڈ کو بند کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے پشتونوں کو مشکلات کا سامنا کر نا پڑھ رہا ہے ڈی جی نادرا کو طلب کر کے پشتونوں کے شناختی کارڈ کے حوالے سے بات کی جائے اگر یہی صورتحال رہی تو ہم احتجاج کرنے پر مجبو ر ہونگے اپوزیشن رکن سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ4 پارلیمانی سال مکمل ہو رہے ہیں لیکن آج تک ایک قرارداد پر بھی عمل نہیں ہوا ڈی جی نادرا کو پابند کریں اسپیکر چیمبر طلب کیا جائے بعد میں قرارداد کو واپس لے لی گئی وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے انجینئر زمرک خان اچکزئی کی جانب سے اٹھائے گئے پوائنٹ آف آرڈر پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی واقعہ پر ایوان کی کمیٹی قائم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں بلوچستان کے بچوں کا ہر صورت دفاع کیا جائے گابلوچستان کے بچے پر امن ماحول میں تعلیم مکمل کرینگے سیکرٹری ہائر ایجوکیشن کے اغوا پر روزانہ کی بنیاد پر رپورٹ طلب کر رہا ہوں بہت سے باتیں ایسی ہیں جن کو میڈیا کے سامنے نہیں لانا چاہتابہت حد تک اغوا کاروں تک پہنچ چکے ہیں اغوا کار وں نے دوسرے ملک کی سم استعمال کی عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی لیڈر انجینئر زمرک خان اچکزئی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی میں گزشتہ دنوں تحریک التواء پیش کی گئی وزیراعلیٰ کی قیادت میں کمیٹی بھی بنائی گئی طلباء کا وفد آیا ہوا ہے ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج ہو چکی ہے25 دن گزرنے کے باوجود پنجاب حکومت نے کچھ نہیں کیا پنجاب حکومت ہمارے بچوں کو تحفظ فراہم کریں پشتونوں کے خلاف کارروائیاں کی جا رہی ہے اس پر ہم خاموش نہیں رہ سکتے انہوں نے کہا کہ سیکرٹری ہائیر ایجو کیشن کو25 دن ہوئے اغواء ہوئے جس پر بیورو کریسی میں بھی تشویش پائی جاتی ہے اسپیکر راحیلہ حمید درانی نے کہا کہ پنجاب یونیورسٹی کے واقعہ پر ایوان کی کمیٹی وزیراعلی کی مشاورت سے قائم ہو گی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس 17 اپریل شام4 بجے تک ملتوی کر دی گئی..

.


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top