ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے زراعت بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے ‘سینیٹر عثمان کاکڑ

54

کوئٹہ(آن لائن)پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے صدر وسینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ صوبہ طویل خشک سالی کی لپیٹ میں ہے بلوچستان کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے لیکن ڈیمز نہ ہونے کی وجہ سے زراعت بھی تباہی کے دہانے پر کھڑا ہے سالانہ250 سے300 ملی لیٹر بارش ہو تی ہے اس سال تو بہت زیادہ خشک سالی ہمارے ہاں سالانہ 12 سے14 ملین ایکٹر فٹ پانی ضائع ہو رہا ہے صوبے میں صرف دو ملین فٹ پانی استعمال ہو رہا ہے وفاقی حکومت کی طرف سے یہاں پر کوئی میگا پروجیکٹ نہیں تقریباً دس سال سے 100 ڈیمز کا کہا جا رہا ہے ابھی تک اس پر صرف 60 فیصد کام ہوا ہے 40 فیصد رہتا ہے یہ کام100 ڈیم سے نہیں چلے گا 300 ڈیم کی ضرورت ہے چھوٹے چھوٹے ڈیمز کم پیسوں میں بنتا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہاکہ کوئٹہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ زمین دھنس رہی ہے پانی نکلنے کی وجہ سے زمین خالی ہو چکی ہیں کوئٹہ میں1500 فٹ سے پانی نکالا جا رہا ہے اگر یہ پانی ختم ہوگیا تو کوئٹہ سے لوگ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں اس وقت کوئٹہ کی آبادی 30 لاکھ ہے کوئٹہ ، گوادر، چمن ، لورالائی ، قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، پشین اور زیارت میں پانی نہیں ہے گوادر کے لئے سی پیک کا منصوبہ ہے لیکن وہاں پانی نہیں ہے ریاست کی ذمہ داری ہے کہ معاشرے کو ٹھیک کرے اس سال کا بجٹ ساڑھے چار ہزار ارب روپے کا تھا جس میں ساڑھے تین ہزار ارب روپے غیر ترقیاتی منصوبے کے لئے تھے یہ سارے محکمے کے لئے تھے یہ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کو ٹھیک کرے چاہئے جو بھی محکمہ ہو کوئی آئین سے بالاتر نہیں ہے..

.


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top