بلوچستان اسمبلی میں بھارتی جارحیت اور صوبے میں سردی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کے خلاف دونوں مشترکہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی

28

کوئٹہ (آن لائن /سٹاف رپورٹر)بلوچستان اسمبلی میں بھارتی جارحیت اور صوبے میں سردی کے دوران غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کے خلاف دونوں مشترکہ قراردادیں متفقہ طور پر منظور کر لی گئی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس اسپیکر راحیلہ حمید درانی کی صدارت میں ہوا بھارتی جارحیت کے خلاف مشترکہ قرار داد صوبائی وزیر شیخ جعفر خان مندوخیل نے پیش کی جس میں گزشتہ دنوں بھارتی جارحیت کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر میں نئی جان پڑنے کے بعد بھارتی حکومت بدحواسی کا شکار ہوہے اور اس کی ظالم افواج کے ہاتھوں درجنوں بے گناہ کشمیری شہید ہوچکے ہیں اب بھارتی سیکورٹی فورسز ان واقعات سے عالمی توجہ ہٹانے کے لئے اپنی روایتی بزدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہری آبادی معصوم بچوں سمیت تمام شہریوں یہاں تک بسوں اور ایمبولینس پر بھی حملے کئے جارہے ہیں قرار داد میں بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے پر پاک فوج خراج تحسین پیش کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ وہ وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ اس معاملے کو بین الاقوامی سطح پر اٹھائے اور عالمی برادری کے ذریعے بھارتی جارحیت اور اس کے جارحانہ عزائم کا نوٹس لے کر اسے بین الاقوامی قوانین کی پابندی پر مجبور کرے.قرار داد پر اظہار خیال کرتے ہوئے شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ گزشتہ چار مہینوں سے بھارت کشمیر میں مظلوم کشمیریوں پر مظالم کے پہاڑ توڑ رہا ہے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی سے بوکھلاکر اور دنیا کی نظریں کشمیریوں کی جدوجہد سے ہٹانے کے لئے بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی کررہا ہے اور پھر الزامات بھی پاکستان پر عائد کرتا ہے وفاقی حکومت کو چاہئے کہ بھارتی مظالم اور لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں سے اقوام متحدہ سمیت عالمی سطح پر مسئلے کو اجاگر کرے.

صوبائی مشیر محمدخان لہڑی نے کہا کہ بھارتی مظالم قابل مذمت ہیں بھارت لائن آف کنٹرول پر بے گناہ کشمیریوں کو نشانہ بنارہا ہے وفاقی حکومت اس مسئلے کو عالمی سطح پر اٹھائے ایوان نے یہ قرار داد متفقہ طو رپر متفقہ طو رپر منظ46ر کرلی.گیس پریشر میں کمی سے متعلق قرار داد پشتونخوا میپ کے نصراللہ خان زیرئے نے ایوان میں پیش کی جس میں کہا گیا تھا کہ بلوچستان جو رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا اور ایک پسماندہ صوبہ ہے اور صوبے کے اکثر علاقوں میں موسم سرما میں شدید سردی پڑتی ہے جس کی وجہ سے گیس کا استعمال بھی زیادہ ہوتا ہے سوئی سدرن گیس کمپنی کے ملازمین میٹر ریڈنگ بروقت نہیں لیتے جس کی وجہ سے لوگوں کو گیس کے زائد بل ادا کرنے پڑتے ہیں چونکہ ایک سے سو تک ریٹ فی یونٹ ساڑھے پانچ روپے سو سے تین سو یونٹ تک تقریباً9روپے اور 300سے زائد فی یونٹ تقریباً22روپے ہے مزید برآں میٹر ریڈنگ کی درستگی کے لئے سلیب کی سہولت بھی غیر اعلانیہ طور پر بلوچستان میں ختم کردی گئی ہے جبکہ دیگر صوبوں میں یہ سہولت برقرار ہے نیز بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گیس کی غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ اور گیس پریشر میں کمی کی وجہ سے عوام سخت مشکلات کا شکار ہیں اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ بلوچستان کے عوام کے لئے گیس کے یکساں نرخ مقرر کرنے اور سلیب کی سہولت واپس بحال کرنے نیز گیس پریشر کی کمی اور گیس کی بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنانے کے لئے عملی اقدامات اٹھائے تاکہ صوبے کے غریب عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور مشکلات کا ازالہ ممکن ہوسکے.نصراللہ زیرئے نے قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی دس جبکہ صوبے کے سرد علاقوں میں اس سے بھی زیادہ سردی پڑرہی ہے شدید سرد موسم میں کوئٹہ سمیت صوبے کے سرد علاقوں کے عوام زیادہ گیس استعمال کرتے ہیں ایک جانب کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں جہاں جہاں گیس ہے وہاں پریشر میں کمی کا مسئلہ درپیش ہے اور دوسری جانب وزارت پٹرولیم اور گیس نے گیس کے جو نرخ مقرر کئے ہیں وہ ادا کرنا ہمارے عوام کے بس کی بات نہیں ہے ہر سو یونٹ کے بعد گیس کی قیمتیں تقریباً دو گنا ہوجاتی ہیں گیس کے نرخ پورے ملک کے لئے یکساں مقرر کئے گئے ہیں جبکہ بلوچستان کے مقابلے میں دوسرے صوبوں میں موسم سرما میں بھی گیس بہت کم استعمال کی جاتی ہے کوئٹہ سمیت سرد علاقوں میں چھوٹے سے گھر میں بھی پانچ سو یونٹ استعمال کئے جاتے ہیں جس کا بل ہزاروں میں آتا ہے اور یہ ادائیگی ہمارے لوگوں کے بس کی بات نہیں انہوں نے تجویز دی کہ صوبے میں ایک سے لے کر پانچ سو یونٹ تک گیس کی قیمت پانچ روپے فی یونٹ مقرر کی جائے اور شکار پور سے کوئٹہ تک چوبیس انچ قطر کی پائپ لائن بچھائی جائے پشتونخوا میپ کے سید آغا لیاقت نے کہا کہ ہمارا صوبہ گیس کی پیداوار کا بڑا حصہ پیدا کرتا رہا ہے اٹھارہویں ترمیم کے تحت جہاں سے گیس نکلتی ہے اس پر پہلا حق اس صوبے کا ہے مگر یہاں ایسا نہیں دوسری جانب کوہاٹ سے نکلنے والی گیس وہاں کے عوام آج بھی مفت استعمال کررہے ہیں ہماری گیس 1950ء کی دہائی میں سوئی سے نکل کر پورے ملک میں پہنچی ہے مگر خود سوئی کا علاقہ اس سے محروم ہے ایس ایس جی سی کے اثاثوں میں ہمارا بھی حصہ ہے جن کو غصب کیا جارہا ہے انہوں نے کہا کہ پہلے ہی دن اڑتالیس انچ قطر کی پائپ لائن بچھائی جانی چاہئے تھی مگر ایسا نہیں ہوا انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایس ایس جی سی وزارت پٹرولیم و گیس اورا وگرا کے حکام کو یہاں بلا کر ان سے اس مسئلے پر بات کی جائے .پشتونخوا میپ کے مجیدخان اچکزئی نے کہا کہ ہمارے صوبے سے 1954ء سے گیس نکل رہی ہے مگر بدقسمتی سے اس کی مانیٹرنگ کا کوئی نظام ہی نہیں ہے اسلام آباد والے ہمارے ساتھ مذاق کرتے ہیں وزیراعظم نے گورنر ہاؤس میں قلعہ عبداللہ کو گیس کی فراہمی کا اعلان کیا مگر اب گیس حکام نے مجھے فون کرکے بتایا کہ توبہ اچکزئی کو گیس فراہم کی جارہی ہے درمیان میں قلعہ عبداللہ کو چھوڑ دیاگیا ہے حالانکہ اس کی آبادی بہت زیادہ ہے پنجاب حکومت مختلف ممالک سے معاہدے کررہی ہے ہمیں بھی معاہدہ کرنا چاہئے انہوں نے کہا کہ آج کے اخبارات میں سابق سپیکر محمد اسلم بھوتانی کا ایک اشتہار بھی شائع ہوا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ گڈانی میں صرف تین فیصد پر معاہدہ کیا جارہا ہے حالانکہ25فیصد والی کمپنی کو ہم نے مسترد کیا تھا جس پر وزیراعلیٰ نے کہا کہ25فیصد دینے والی کمپنی سے بات کرائی جائے میں آج ہی گڈانی سے متعلق منصوبے پر معاہدے کو منسوخ کردوں گا . صوبائی وزیر تعلیم عبدالرحیم زیارتوال نے کہا کہ اس وقت پورے صوبے میں شدید سردی پڑ رہی ہے دوسری جانب کوئٹہ میں گیس آنے کے بعد گھروں میں اب ایندھن کے متبادل استعمال کا کوئی انتظام بھی نہیں اسی طرح ہمیں ضرورت سے کہیں کم گیس فراہم کی جارہی ہے ایس ایس جی سی کے اثاثوں میں ہم برابر کے شریک ہیں مگر ہمارے عوام کو شدید سردی میں گیس بھی فراہم نہیں کی جاتی ہے یہ ایک سنجیدہ مسئلہ ہے کیونکہ حالات عوام کی برداشت سے باہر ہوتے جارہے ہیں شدید سردی میں گیس کے بغیر گزربسر ممکن نہیں سردی کے باعث جنگلات کاٹ کر ایندھن کے طور پر استعمال کئے جارہے ہیں اگر یہ صورتحال جاری رہی تو کچھ ہی سال بعد ہمارے جنگلات کا مکمل خاتمہ ہوجائے گا وفاقی حکومت بلوچستان کو نظر انداز کرنے کا سلسلہ ختم کرے سی پیک ہمارے صوبے کی مرہون منت ہے اس میں بھی مکمل حصہ ملنا چاہئے ہمارا پورا صوبہ پسماندہ ہے انہوں نے کہا کہ قرار داد منظور کرکے وفاقی حکومت سے وزیراعلیٰ کی قیادت میں اس پر بات کی جائے پشتونخوا میپ کے منظور احمدکاکڑ نے کہا کہ اگر سوئی سدرن گیس کا ہیڈ آفس کوئٹہ میں ہوتا تو یہ صورتحال قطعی نہ ہوتی ہیڈ آفس میں ہمارے افسران کو تعینات ہی نہیں کیا جاتا انہوں نے کہا کہ جو گیس کے تیز رفتار سندھ نے مسترد کئے ہمارے صوبے میں وہ نصب کئے گئے ہیں بتایا جائے کہ ہم نے انہیں کیوں مسترد نہیں کیا جمعیت العلماء اسلام کے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ پورے کوئٹہ میں سی این جی سٹیشن اب بند کردیئے گئے ہیں ایک جانب ہمارے عوام گیس سے محروم ہیں اور اب سی این جی سٹیشن بند ہونے سے رکشوں اور گاڑیوں کا مسئلہ پیدا ہوجائے گا انہوں نے زوردیا کہ زیادہ گیس کے استعمال کے لئے جن لوگوں نے کمپریسر لگا رکھے ہیں وہ ہٹائے جائیں . سپیکر نے کہا کہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے انہوں نے سیکرٹری اسمبلی کو ہدایت کی کہ وہ ارکان کے تحفظات سے تمام متعلقہ اداروں اور محکموں کے حکام کو آگاہ کریں بعدا زاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی . ژوب ایئر پورٹ سے متعلق قرار داد شیخ جعفرخان مندوخیل نے پیش کی قرار دادمیں کہا گیا تھا کہ ژوب ایریا چونکہ سی پیک کے روٹ میں شامل ہے اور ہوائی سفر کے لیئے ژوب ایئر پورٹ مغربی روٹ پر واحد ایئر پورٹ ہے فی الوقت ژوب ایئر پورٹ بوئنگ777طیاروں کی آمدو رفت کے لئے قابل استعمال نہیں ہے اس لئے صوبائی حکومت وفاقی حکومت سے رجوع کرے کہ ژوب ایئر پورٹ کی توسیع کے منصوبے کو سی پیک میں شامل کرتے ہوئے اسے بوئنگ777طیاروں کی آمدورفت کے قابل استعمال بنایا جائے.قرار داد کی موزونیت پر بات کرتے ہوئے شیخ جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ژوب ایئر پورٹ صوبے کا ایک فعال ایئر پورٹ تھا مگر چترال میں اے ٹی آر حادثے کے بعد اس حادثے کو بند کردیاگیا ہے اگر اے ٹی آر کا حادثہ ہوا تھا تو اس کو دیکھنا چاہئے تھا ایئر پورٹ بند کرنے سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے کوئٹہ اور پسنی کے سوا کہیں بڑے جہاز نہیں اتر سکتے ژوب ایئر پورٹ بند کرکے عوام کو سزا نہ دی جائے صوبائی وزیر ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ صوبے کی آبادی میں اضافے کے ساتھ ساتھ مزید ایئر پورٹ بنائے اور پرانے ایئر پورٹ میں توسیع کی جاتی مگر یہاں ایسا نہیں اگرچترال میں اے ٹی آر کا حادثہ ہوا ہے تو بجائے ایئر پورٹ بند کرنے کے اے ٹی آر سروس بند کی جاتی مگر ایئر پورٹوں پر بکرے ذبح کرکے ملک سے مذاق کیا جارہا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ژوب ایئر پورٹ کو انٹرنیشنل بنایا جائے پشتونخوا میپ کے لیاقت آغا نے کہا کہ اس وقت کوئٹہ سے صرف پی آئی اے کی فلائٹس ہیں نجی ایئر لائن کی پروازیں نہ ہونے کے برابر ہیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ پی آئی اے کو نئے اور بڑے جہاز کوئٹہ سے چلانے کا پابند بنایا جائے .اس موقع پر شیخ جعفرخان مندوخیل نے قرار داد میں ترمیم کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ قرار داد میں سے بوئنگ777کا ذکر حذف کیا جائے بعدازاں ایوان نے قرار داد متفقہ طو رپر منظور کرلی .اجلاس میں مسلم لیگ(ن) کے سردار صالح بھوتانی نے پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان کی توجہ گزشتہ روز گڈانی شپ یارڈ میں ایک مرتبہ پھر پیش آنے والے سانحے کی جانب مبذول کراتے ہوئے کہا کہ یہ مسلسل تیسرا واقعہ ہے جس میں بے گناہ جانوں کا ضیاع ہوا ہے اس سے پہلے جو سانحہ پیش آیا اس کا حکام بلکہ صوبائی حکومت نے سختی سے نوٹس لیا وہاں کے دورے کئے گئے مگر اس کے باوجود یہ واقعات ہورہے ہیں ان کی تحقیقات ہونی چاہئیں جمعہ دار مالکان کو بلیک میل کرنے کے لئے بھی آگ لگاتے ہیں وفاقی حکومت کو وہاں سے ریونیو ملتا ہے صوبائی حکومت این او سی جاری کرتی ہے یہ سنجیدہ مسئلہ ہے اس کو دیکھا جائے تاکہ مزدوروں کی جانیں محفوظ رہیں مجید خان اچکزئی نے کہا کہ صرف معاوضہ دینا کافی نہیں بلکہ واقعے کی تحقیقات کرکے ذمہ داروں کو سزا بھی دی جائے سردار عبدالرحمان کھیتران نے کہا کہ مسلسل ہونے والے واقعات کے پیچھے یقینی طو رپر کوئی عوامل کارفرما ہیں ا س کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ کونسی قوتیں اس صنعت کو ختم کرنے کے درپے ہیں پشتونخوا میپ کے نصراللہ زیرئے نے کہا کہ گڈانی شپ یارڈ سے تمام آمدن وفاق کو ہوتی ہے مگر حادثات کے بعد ملبہ صوبائی حکومت پر گرتا ہے اس سلسلے میں قانون سازی کی جائے اور سانحہ کی تحقیقات ہونی چاہئیں ڈاکٹر حامد خان اچکزئی نے کہا کہ یہ ایک بھیانک سانحہ ہے جس میں مزدور جان بحق ہوئے ہیں اس سے پہلے جو سانحہ ہوا اس کی تحقیقات ہورہی ہیں اس واقعے کے جاں بحق مزدوروں کو معاوضہ ادا کردیاگیا ہے ڈاکٹر رقیہ ہاشمی نے کہا کہ بتایا جائے کہ تحقیقات میں صوبائی حکومت کا کیا کردار ہے کیا ایسے واقعات ہوتے رہیں گے اور ہم وفاقی حکومت کی تحقیقات کا انتظار کرتے رہیں گے وزیراعلیٰ نواب ثناء اللہ زہری نے کہا کہ یہ سانحہ انتہائی بھیانک اورسنگین ہے جس کا میں نے فوری طور پر سختی سے نوٹس لیتے ہوئے حکام کو ہدایت کی ہے کہ واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت سے سخت پرچہ درج کرایا جائے ہم کسی کو اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہمارے لوگوں کی جانوں سے کھیلیں واقعے میں مرنے والے غریب مزدور پاکستانی ہیں واقعے کے فوراً بعد وہاں پر دفعہ ایک سوچوالیس نافذ کردیاگیا ہے اس سے پہلے ہونے والے واقعے کے بعد بھی وہاں کام بند کرادیا تھا مگر کچھ لوگ عدالت سے سٹے آرڈر لے آئے تھے انہوں نے کہا کہ میں یقین دلاتا ہوں کہ سانحے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی جس جہاز میں سانحہ پیش آیا اس کے مالک کو گرفتار کرلیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ جہاز جب توڑنے کے لئے لائے جاتے ہیں تو مختلف محکموں کی جانب سے این او سی اور کلیئرنس دی جاتی ہے مگر معلوم ہوتا ہے کہ کچھ محکموں کی ملی بھگت سے ٹینکروں کی مکمل صفائی نہیں ہورہی بلکہ شاید مختلف محکموں کی ملی بھگت سے ان ٹینکروں میں پٹرول ڈیزل بھی لایا جاتا ہے جن کی وجہ سے ایسے حادثات ہورہے ہیں میں یقین دلاتا ہوں کہ واقعے کے ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

Daily QUDRAT is an UrduLanguage Daily Newspaper. Daily QUDRAT is The Largest circulated Newspaper of Balochistan .

رابطے میں رہیں

Copyright © 2017 Daily Qudrat.

To Top