بلوچستان میں 1997 ءکے بعد خشک سالی کے بادل پھر منڈلانے لگے

بلوچستان(قدرت روزنامہ09جنوری2017)بلوچستان میں ایک مرتبہ پھر خشک سالی کے بادل منڈلانے لگے رواں سال کے دورانے اب تک بارشیں معمول سے انتہائی کم رہیں . باغات شدید متاثر ، قدرتی چراہ گاہیں خشک ہونے سے مال مویشی بھی زد میں آنا شروع ہو گئے .

کوئٹہ سمیت صوبے بھر میں زیر زیر پانی کی سطح تشویشناک حد تک گر گئی . زراعت کو بھی نقصان موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لئے ڈیمز کی تعمیر ناگزیر ہے . رپورٹ کے مطابق صوبے کے مختلف علاقوں میں بارشیں نہ ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات رونما ہونا شروع ہو گئے ہیں . بارش کم ہونے کی وجہ سے زراعت ، باغات اور مال مویشی سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں اور زمیندار نان شبینہ کے محتاج ہو گئے . بلوچستان میں 1997 ءسے 2003 ءتک طویل دورانیہ کی خشک سالی ہوئی تھی جس کی وجہ سے لوگوں نے نقل مکانی بھی کی اور مال مویشی سستے دامےوں فروخت کئے جبکہ خ شک سالی کے نتیجے میں زراعت اور مالداری کے شعبے بری طرح متاثر ہوئے تھے . کوئٹہ و گرد و نواح میں زیر زمین 200 سے 250 فٹ تک پانی ہوتا تھا تاہم بعد ازاں یہ لیول 500 سے 600 تک گر گیا لیکن قابل افسوس امر یہ ہے کہ جابجا غیر قانونی بورنگ کے باعث اب زیر زمین پانی 1000 فٹ تک گر گیا ہے جو انتہائی خطرناک ہے .

..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top