” سیاست کے بتیس سال”

تحریر عظمیٰ عروج عباسی

گورنرشپ سے سبکدوشی  کے بعد معروف لیگی رہنما "سردار مہتاب  خان" ایڈوائزر  ٹو پی ایم" کا منصب سنبھال چکے ہیں الیکشن کے آخری سال سردار مہتاب  کی شاندار  انٹری  کو حلقے  میں خوش آئند قرار دیا جارہا ہے  pk-45میں چاروں طرف مبارک  بادوں کا سماں ہے اور مسلسل  تین عشروں سے زائد لگاتار کامیاب ہونے  والے  ہائی  پروفائل سردار  مہتاب  خان مبارک  باد  کے مستحق تو ہیں ہی کیونکہ  انھوں  نے مسلسل  آٹھ اعلی  عہدوں پر کام کیا ہے جسمیں وہ وفاقی وزیر، وزیر اعلی، وزیر قانون، وزیر  ریلوے، گورنر رہ چکے ہیں.2008 میں  بیک وقت  ایم این اے، ایم  پی  اے، اور  سینیٹر  بننے  والے  ملک  کے  واحد  سیاستدان  ہونے کا اعزاز  بھی  رکھتے ہیں.
تو اس بتیس  سالہ  دورانیہ  میں عوام کا بھر پور ووٹ بینک  استعمال  کرتے  ہوے روڈ جیسا واحد اور عظیم کارنامہ  بھی  سردار  صاحب  کا ہی  مرہون منت  ہے.لیکن  وہ بھی تاحال  ادھورا  اور  نامکمل  ہے  جو چند  خاص علاقے  اس عرصے  میں  صوبائی  حکومت  کی  طرف  سے  سیراب  ہوے  وہ بھی انتظامیہ  اور بلدیہ  کی  ناقص کارکردگی  کی  وجہ  سے خستہ  حالی کا شکار ہیں.برف باری  اور بارشوں  کی  وجہ سے  روڈوں میں  پانی  رکنے  سے  بڑے  بڑے  کھڈے بن  چکے ہیں ترقیاتی  منصوبوں  کے اعلانات  جوش و خروش  کے ساتھ  الیکشن  سے قبل  ہی  کیے جاتے ہیں اور  پھر  ہماری  سادہ لوح  عوام  کو لولی  پمپ دے کر اگلے  پانچ سالوں کیلے  سلا دیا جاتا  ہے اور  " آرے  مہتاب  ،دنیا بیھٹی  ہے  بیتاب" کی تھاپ  پے    بیدار  ہوتے ہی  دوبارہ جھومنے لگتے  ہیں.اپنی  خاندانی  ساکھ اور  سیاسی  صحت  کو برقرار  رکھنے  اور  کرسی  کی  بقا کیلے "نونّ غنّیت" کو خوب  فروغ دیا جاتا ہے.اور  اسمیں  کوئی  شک  نہیں  کہ لوگوں  کو ہر بار  بیوقوف بنانے  اور  عوام  کا بڑا مینڈیٹ  چرانے میں تمام "نون غنے" مبارک  بعد  کے مستحق  ہیں ." کسی  فلاسفر  کا قول ہے سیاستدان  نعرہ  ایجاد کرتا ہے اور  بیوقوف  اسکلیے  مر مٹنے کو تیار  رہتے  ہیں" تو یہی  حال ہماری  بھولی  بھالی  عوام کا بھی ہے جو تا حال  اسّی کی دہائی  میں  جی رہے  ہیں  اور  تمام  تر بنیادی  حقوق  سے محروم  ہیں  پھچلے  بتیس  سالوں میں  لگاتار  کامیابیوں  اور  عوامی  اعتماد  کے  باوجود گلیات  سرکل بکوٹ  کی  پیسماندگی ہم  سب  کے سامنے ہے . سرکل  بکوٹ  میں تحصیل  جیسا  ضروری اور  بنیادی  مسئلہ  اندرونی  سیاست کا شکار ہےالیکشن  کے  دوران  ایڑی  چوٹی  کا زور لگا کر تمام  علاقوں  میں مکّ  مکا کر لیا جاتا ہے لیکن  اس معاملے  میں  منتخب  عہدیدارن بے راہ روی کا شکار اور شکست  خوردہ نظر آتے آتےہیں. پانی  کی قلّت، ٹرانسپورٹ  کا قلیل  انتظام  اور دور دراز جانے  والے  اسکول، کالجز کے طلباء  کیلے علیحدہ  بس اور ویگن وقت کی اوّلین  ضرورت ہے جو فلحال  بالکل ہے ہی  نہیں . علاقوں  میں ہسپتال، چھوٹے دیہاتوں میں  ڈسپنسریاں اور طبعی سہولیات، گیس کی فراہمی عوام کی  بنیادی ضروریات ہیں .تھا نہ  کچہری کی سیاست  اور  امیروں، چوہدریوں  کی غریبوں  پر غنڈہ  گردی تھانوں  میں  آبائی  راج ہے."ایک  انٹرویو  میں سردار  مہتاب کا کہنا تھا کے وہ اپنے  حلقے  کی عوام  کیلے ایک  الگ  اور  مثبت  نظر یہ  رکھتے  ہیں وہ تھا نہ  کچہری  کی سیاست  کے قائل  نہیں لیکن! عوام حنیف  عباسی کا نیو  ٹاؤن والا واقع  بلکل  نہیں  بھولی کہ  کس طرح  سیاسی پشت پناہی  پر انھوں  نے راولپنڈی  جیسے  شہر   جہاں وزیر  داخلہ  کی رہائش  چند کلو میٹر کی مسافت پر ہے وہ دھند  دھناتے  ہوے  تھانے میں  توڑ پھوڑ اور  مار پیٹ کرتے نظر آتے ہیں ون ویلنگ  کرنے والے  اؤباش لڑکوں کو چھڑا کر ویکٹری  سائن بناتے ہوے روانہ ہو جاتے ہیں . ایسے  ہزاروں  واقعات  شاہد ہیں اور  گاؤں اور دیہاتوں میں  تو تھانوں پر کہئں  پشتوں  سے آبائی  قانون رائج  ہے... "منصف  بھی  تمہارا  مجرم بھی تمہارا ، تم سچ  کو جھوٹ کہدو قانون  بھی تمہارا ." اسکے  برعکس پی ٹی  آئی  نے صرف تین سالوں میں  آئیڈیل  وژن پیش  کیا . اسکولوں  میں آساتذہ  کی حاضری کو ہر صورت یقینی  بنایا، میرٹ کو فروغ دیا ،پرائمری  تک تعلیمی  نصآب  میں قرآن کی تعلیم  کو لازمی قرار دینا عمران خان  کا قابل تحسین  کارنامہ ہے.اس کے علاوہ  قومی  صحت کارڈ، پولیس  کو منظم  کرپشن  اور رشوت کی روک تھام  میں  تحریک  انصاف  خیبر  پختون خواہ میں  اہم  کردار  ادا کررہی  ہے . اتنے بڑے مینڈیٹ  سے  (nominate) ہونے والا   کوئی  بھی ہو چاہے  وہ  جماعت اسلامی  ،جدون، یا نون لیگ کا نمائندہ  کیوں نا ہو! ایوان بالا میں  na-17,pk, 45 کے  مسائل  کو اجاگر کرے  حلقے میں  وزیراعظم  پاکستان  کے دورے کو موقع  بنائے .اور  کھلی  کچہری  میں  عوامی مسائل  سنے جائیں اور پھر علاقے  میں  رہ  کرانھیں  حقیقت کا رنگ  دینے کیلے  منتخب  نمائندہ  خود  کو پابند کرے. ذرائع کے مطابق  مشیر  وزیراعظم  کو فنڈز  کی  صورت میں  تین  آرب  کی منظوری دے دی گی  ہے .علاقہ عوام پر زور  مطالبات  اور ترقیاتی  پروجیکٹس  کا از خود  نوٹس لیں . آگر معاشر کو غلام  ابن غلام نہے بننا تو اپنے  حقوق  کیلے آواز  اٹھانی ہوگی. " کیا اب بھی ہمیں کسی  آئن  سٹائن کی ضرورت  ہے؟ جو مبینہ  طور پے اس زندہ  اور  پائندہ  قوم کو بتایگا  کے ایسے لوگوں کو  (nominat) کر کہ ہمارا  انجام کیا ہوگا؟ یا پھر خاندان  شریفاں   کی طرح  ہر حلقے میں  کسی بھی نون غنے  کی  صبح  و شام  آرتی   اتاریے  اور منتخب ہونے  پر  مبارک  بادیں دیتے  رہیے. " سیّدنا عمر  فاروق رضی  اللہ  کا قول  یاد  دلاتا ہے!  آپ کی ماؤں نے آپکو آزاد جنا تھا  اور خالق کائنات  نے وقت پیدائش  آپ کے گلے  میں  کسی  بھی " نون غنّیت" کا طوق  نہیں  ڈالا  تھا .....


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top