گڈگورننس قسمت بیگ خواجہ سرا اور سمعیہ چودھری

قانون کی بادستی ہو گی انصاف لوگوں کی دہلیز پر خود چل کر جائے گا گڈگورننس ہوگی پنجاب میں اتنے بڑے دعوائے کرنے والوں کو اس بات کا علم ابھی تک نہیں ہوا کہ حالات کس طرف جا رہے ہیں نہ تو گڈ گورننس والی بات پوری ہو رہی ہے اور نہ ہی قانون دہلیز پر جارہا ہے انصاف نام کی کوئی چیز ابھی تک نظر نہیں آ رہی سالانہ رپوٹ پیش کرنے والوں کو ملک کے باقی صوبے نظر آتے ہیں پنجاب میں سب اچھا ہے کا راگ الاپا جاتا ہے گڈ گورننس کا منہ بولتا ثبوت لاہور میں گڈگرننس آینہ کے طرح صاف نظر آرہی ہے قتل ڈکیتی سٹریٹ کرائم بچوں کا اغوا ہوناپھر بھی وہی ایک بات سب اچھا ہے ہم نے پنجاب سے کرائم کو ختم کر دیا ہے ہم نے پنجاب کو ماڈل بنا دیا ہے چمبہ ہاؤس میں ہونے والا قتل بھی پنجاب حکومت کے لیے مسلہ بن گیا ہے ایک طرف موجودہ حکومت کا ایم این اے سمعیہ چودھری کو چمبہ ہاؤس میں کمرہ دلاتا اور پھر اپنی ہی بات کی نفی کر تا ہے کہ نہیں میں سمعیہ چودھری کو جانتا بھی نہیں جب میڈیا نے کچھ تصویر دیکھی تو پھر ایم این اے کو یا د آ گیا کے سمعیہ چودھر ی مسلم لیگ ن کی ورکر تھی چمبہ ہاؤس پیپلز ہاؤس ایم پی اے ہوسٹل ہو کون آتا ہے کون جاتا ہے آج تک کوئی ریکاڈ سامنے نہیں آیا کچھ عرصہ پہلے قومی اسمبلی میں جمشید دستی نے ایک بل پیش کیا جس میں فیڈرل لاج میں کمروں کے باہر شراب کی بوتلیں پڑی ہوتی ہیں تو یہ کہا سے آتی ہیں اور فیڈرل لاج میں کون لیے کر آتا ہے افسوس جمشید دستی کا اسمبلی میں مزاق اُڈایا گیا معزز ممبران اسمبلی شراب کے ساتھ مہمان بھی لیے کر آتے ہیں جن کا کوئی ریکاڈ نہیں ہوتا ایسا ہی چمبہ ہاؤں میں ہوا ہو گا اب چمبہ ہاؤس کے ریکاڈ میں ردو بدل ہو گا ایم این اے کو بچا یا جائے گا پولیس گڈ گورننس کو پامال نہیں ہونے دے گی جہاں چمبہ ہاؤس کے ملازم کرفتار کیے گئے ہیں اُن کے ساتھ ایم این اے کو بھی کرفتار کیا جاتا گڈگور ننس پنجاب میں نظر آ رہی ہے ایک خواجہ سر ا کو برہنہ کر کے ظلم کیا جاتا ہے ظلم کرنے والا کس طرح قانون کو اپنے ہا تھ میں لے کر بتا رہا ہے میر ا کوئی کچھ نہیں کر سکتا اگر قانون نام کی کوئی چیز ہوتی تو جس طرح خواجہ سرا کے ساتھ ہوا ویسے ہی ملزم کے ساتھ کیاجاتاملز م کو بر ہنہ کر کے سب کے سامنے چھتر مارے جاتے کہ پھر کوئی ایسا نہ کر سکے انصاف خواجہ سرا کی دہلیز پر جائے گا قانون کس کے ساتھ انصاف کرے گا ظلم کر نے والوں کے ساتھ یاپھر خواجہ سرا کے ساتھ ؟ یا پھر انصاف کو مزاق بنایا جائے گا ؟گڈ گورننس نے قسمت کے ساتھ کیا کرے گی ؟قسمت کا قصور اتنا تھا کہ وہ ا سٹیج اداکارہ تھی گیارہ گولیاں بے دردی سے ماری گئی ایک اداکارہ کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے پوچھ گچھ ہوگئی بہت جلد ملزم پکڑے جائے گئے قانون حرکت میں آجائے گا رپوٹ تیار کی جائے گئی ہر بار کی طرح وزیر اعلی قسمت بیگ کے گھر جا کر تسلی دے گئے میڈیا کو بلایا جائے گا ف فو ٹو سیشن ہو گا اور وزیر اعلی کے چہرے پر اُداسی سی ہوگی وہی وعدے کیے جائیں گے پنجاب کے اعلی افسران کو حکم دیا جائے گا جلد سے جلد ملزم پکڑ کر حوالات میں بند کیے جائیں قسمت کے قاتل کوئی بھی ہوں قانون سے نہیں بچ سکتے اب تک گڈگورننس کی باتیں کی جارہی ہیں انصاف ہو گا پورے پنجاب میں بہت سی حو ا کی بٹیا ں ظلم کا شکار ہو ری ہیں عزتیں پامال کرنے والوں کو انصاف مل جاتا ہیں اور حو ا کی بٹیا ں گڈ گورننس کی نظر ہو جاتی ہیں کچھ حو ا کی بٹیا ں خودکشی کر لیتی ہیں اور کچھ کو دنیا والوں کی باتیں زندہ مار دیتی ہیں عزت دار ماں باپ زندہ لاش کی طرح باقی زندگئی گزرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں بھائی کسی کو منہ دیکھنے کے قابل نہیں رہتے اگر انصاف ظالم اور مظلوم کی پہچان کر تا تو نہ قسمت بیگ گولیوں کا نشانہ بنتی اور نہ ہی کسی خواجہ سرا کے ساتھ ایسا ہوتا اصل مجر موں کو سزا کیوں نہیں ہوتی ابتدا کہا سے شروع ہوتی ہے انصاف کو کہا ں مزاق بنایا جاتا ہے اسمبلی کے فورم پر بل پاس ہوتے ہیں تشدد کرنے والے جیتنے بھی طاقتور کیوں نہ ہو انصاف مظلوم کے ساتھ کھڑا ہو گا قبلہ درست کرنے والوں کے تمام دعواے فائلوں تک محدو رہے گئے ظالم طاقتوراور مظلوم کے حصہ میں نہ انصافی پہلے تھانوں کے چکر ایف آئی آردرج کروانے کا مسلہ سفارش تلاش کی جاتی ہے ایم این اے ایم پی اے کے ڈیرے کے چکر تفشیشی افسر کی خدمت ایس ایچ اُو کی باتیں سب کچھ مظلوموں کے ساتھ ہو گا قانون کی بالا دستی گڈگور ننس انصاف دہلیز پر جائے گا اب تو یہ تمام باتیں مزاق بن کر رہے گی ہیں قسمت بیگ کی قسمت کا فیصلہ کس کے حق میں ہو گا سمعیہ چودھری کے ملزم اصل ہو گے ایم این اے کو مکھن سے بال کی طرح تو نہیں نکالا جائے گا خواجہ سرا کے ساتھ بھی انصاف ہو گا ؟؟؟..


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top