مسجد الحرام میں غلاف کعبہ کے قریب چند روز قبل خود کو آگ لگاکر خودکشی کی کوشش کرنیوالے شخص کی والدہ بھی منظرعام پر آگئی ہیں

مکہ مکرمہ(قدرت روزنامہ15-فروری-2017) مسجد الحرام میں غلاف کعبہ کے قریب چند روز قبل خود کو آگ لگاکر خودکشی کی کوشش کرنیوالے شخص کی والدہ بھی منظرعام پر آگئی ہیں اور انکشاف کیا کہ آگ لگانے کی کوشش کرنیوالا شخص ذہنی مریض ہے جس کے ہسپتال کا ریکارڈ بھی موجود ہے جبکہ آگ لگانے کی کوشش کرنیوالے 36سالہ شخص کے رشتہ داروں نے اس کے والد کے گھراور الشکیبہ، جروال اور ماﺅنڈ المدف کے علاقے کے موجود جائیدادوں پر قبضہ کرلیا جبکہ اس ضمن میں ایک ڈیڈ ڈبھی بنوالی جس کے مطابق وراثت بچے کی بجائے براہ راست ان تک پہنچے گی ، مجھے خدشہ تھا کہ میرا بیٹا اپنے آپ کو یا رشتہ داروں کو نقصان پہنچائے گا. عرب جریدے ’المدینہ‘ کے مطابق ام محمد نے بتایاکہ ان کے صاحبزادے کاطائف کے شہار مینٹل ہسپتال کا ریکارڈ موجود ہے ، اپنے والد کی وفات کے بعد میرے بچے کی ذہنی صلاحیت متاثر ہوئی جبکہ اسے وراثت بھی نہیں ملی ، میرا بیٹے کی عمر36سال ہے اور وہ سات بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹاہے، وہ اپنے والد کیساتھ کام کرتاتھا، نامناب حالات کی وجہ سے وہ کوئی ایسی نوکری بھی حاصل نہیں کرسکا.

ام محمد کاکہناتھاکہ میرے بچے کی رضامندی کے بغیر ہی رشتہ داروں نے ایک ڈیڈ جاری کردی جس میں قراردیاگیاتھا کہ میرے بچے کی بجائے وراثت ان کو ملے گی ، میں بیٹے سے متعلق پریشان تھی کہ وہ بدلہ لے گا اور اپنے رشتہ داروں کو نقصان پہنچائے گااور اسی وجہ سے اس نے خود ہی اپنے بیٹے کو جیل میں ڈلوادیا ، دوسال پہلے جنرل کورٹ میں اس کی بجائے رشتہ داروں کو وراثت دینے سے متعلق عدالتی فیصلے کے خلاف بھی بطوراحتجاج اس نے خود کو آگ لگالی تھی ، ہم سوشل انشورنس اور مختلف تنظیموں کی طرف سے مالی امداد پر گزارہ کررہے ہیں.ام محمد کا کہناتھاکہ وہ خود بھی سرائسس کی مریضہ ہیں اور تین ماہ تک بیرون ملک علاج کے بعد حالیہ دنوں میں ہی واپس آئی ہیں، میں بیرون ملک ہی تھی جب اس واقعے کے بارے میں علم ہوا، میں نے اپنا علاج تیز کرادیا تاکہ سعودی عرب واپس آکر اپنے بیٹے کیساتھ کھڑی ہوسکوں، میں نے تمام متعلقہ دستاویزات تحقیقاتی حکام اور پبلک پراسیکیوشن کے حوالے کردیئے ہیں،مجھے یقین ہے کہ اگر اپنے ہی رشتہ داروں کی طرف سے میرے بیٹے کیساتھ اس طرح کا سلوک نہ ہونے پر وہ کبھی بھی مقدس مقامات پر ایسا کچھ نہیں کرسکتے تھے ...


قدرت میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں
Loading...

تازہ ترین

To Top